106
یہ جو زہر ہے ترے قرب کا مرے روم روم اتار دے
مری داستان ہو معتبر مجھے اپنے عشق میں مار دے
کبھی اپنے جسم کو مے بنا مجھے قطرہ قطرہ پلائے جا
مری آنکھ روز جزا کھلے کوئی اس طرح کا خمار دے
تری نسبتوں سے جڑا رہوں ترے راستوں میں پڑا رہوں
کوئی ایسی حسرت بے بہا مری دھڑکنوں سے گزار دے
مرے دوستا مرے کبریا مری لغزشوں سے ہو درگزر
مری پستیوں کو عروج دے مرے اجڑے دل کو سنوار دے
مری آرزؤں کے سیپ کا کسی آب نیساں سے میل کر
مجھے آشنائے وصال کر مری بیکلی کو قرار دے
یہی اپنے شوق سے کہہ دیا کبھی ایک پل نہیں سوچنا
جہاں نقش پا ملے یار کا یہ متاع جاں وہیں وار دے
خالد ندیم شانی
