101
کس محبت سے یہ ہجرت کے نشاں دیکھتی ہے
رونق دنیا مری آنکھ جہاں دیکھتی ہے
نیند دیوار پہ بیٹھی ہے پرندے کی طرح
مستقل بسنے سے پہلے وہ مکاں دیکھتی ہے
کوئی چنگاری ترے آنے سے شاید بھڑکے
راکھ ہوتی ہوئی امید دھواں دیکھتی ہے
دل کا یہ شہر بھی لاہور ہوا جاتا ہے
اس جہانگیر کو اک نور جہاں دیکھتی ہے
آنکھ تو آنکھ ہے پھر خواب سجا لیتی ہے
یہ مری ڈھلتی ہوئی عمر کہاں دیکھتی ہے
حضرت جوشؔ کے دیوان کا جب ذکر چلے
کتنی حسرت سے ہمیں اردو زباں دیکھتی ہے
اب کسی موڑ پہ رکنے کا تصور بھی محال
میری وحشت تری مجبوری کہاں دیکھتی ہے
خالد ندیم شانی
