692
زلفوں کی گھٹائیں پی جاؤ
وہ جو بھی پلائیں پی جاؤ
اے تشنہ دہانِ جور خزاں
پھولوں کی ادائیں پی جاؤ
تاریکی دوراں کے مارو
صبحوں کی ضیائیں پی جاؤ
نغمات کا رس بھی نشہ ہے
بربط کی صدائیں پی جاؤ
مخمور شرابوں کے بدلے
رنگین خطائیں پی جاؤ
اشکوں کا مچلنا ٹھیک نہیں
بے چین دعائیں پی جاؤ
ساغر صدیقی
