399
رات درکار تھا سنبھالا مجھے
دیکھتا ہی رہا پیالہ مجھے
جانے کس شام کا ستارہ ہوں
جانے کس آنکھ نے اُجالا مجھے
میرے دل سے اُتار دے نہ کہیں
ایک دن یہ ترا حوالہ مجھے
کس طرح میں زمیں کا رزق ہوا
کس طرح اس زمیں نے پالا مجھے
اور کتنی ہے زندگی میری
اور کرنا ہے کیا ازالہ مجھے
اس سے پہلے نظر نہیں آیا
اس طرح چاند کا یہ ہالا مجھے
آدمی کس کمال کا ہوگا
جس نے تصویر سے نکالا مجھے
میں تجھے آنکھ بھر کے دیکھ سکوں
اتنا کافی ہے بس اُجالا مجھے
اُس نے منظر بدل دیا یکسر
چاہیے تھا ذرا سنبھالا مجھے
اور کچھ یوں ہوا کہ بچوں نے
چھینا جھپٹی میں توڑ ڈالا مجھے
یاد ہیں آج بھی رساؔ وہ ہاتھ
اور روٹی کا وہ نوالہ مجھے
رسا چغتائی
