430
یاد ہم دشت نوردوں کی نشانی رکھنا
آبلے پاؤں میں اور آنکھ میں پانی رکھنا
اب تو زندان میں رک رک کے ہوا آتی ہے
سخت مشکل ہے تنفس میں روانی رکھنا
ہر پڑاؤ پہ یاں منزل کا گماں ہوتا ہے
اپنی فطرت میں سدا نقل مکانی رکھنا
سب کہانی نہیں کردار بھی کچھ دیکھتے ہیں
سامنے سب کے نہ تم اپنی کہانی رکھنا
عشق کا بوجھ بھی ہم سر سے اتار آئے ہیں
اپنے بس میں ہی نہیں تھا یہ گرانی رکھنا
صدیق صائب
