485
گرتی دیوار کو یا ٹو ٹتے در کو دیکھوں
کیسے لٹتے ہوئے میں اپنے ہی گھر کو دیکھوں
اب مجھے جان بچانی ہے کہ اجداد کی آن
گہے دستار کو دیکھوں گہے سر کو دیکھوں
نہ مری خاک پرانی نہ ترا چاک نیا
گوزہ گر آ میں ترے دست ِ ہنر کو دیکھوں
عین آغاز ِ محبت ہوئی طاری ہجرت
یار کو دیکھوں کہ میں اپنے نگر کو دیکھوں
ہر نئے موڑ پہ ملنا ہے نیا ساتھ مجھے
ہم سفر دیکھوں کہ میں اپنے سفر کو دیکھوں
صدیق صائب
