510
اپنی بانہوں میں سمٹ کر مجھے مرجانے دو
میری منزل ہے مرے پاس سفر جانے دو
اپنی سانسوں سے مجھے چُھو لو بکھر جانے دو
اور پھر میر مقدر کو سنور جانے دو
میں نہیں پیار مرا ہار رہا ہے تم سے
میں تمہیں جیت بھی سکتا ہوں مگر جانے دو
آتے جاتے ہوئے لوگوں کا نہ رستہ روکو
گھر کی دیوار سے باہر نہ شجر جانے دو
وقت ٹھہرا ہے نہ ٹھہرے گا کسی کی خاطر
یہ گزرتا ہے اُسے یوں ہی گزر جانے دو
اتنی جلدی نہ کرو جسم علیحدہ مجھ سے
روح تک میری محبت کا اثر جانے دو
شجاع شاذ
