327
سفر پہ جیسے کوئی گھر سے ہو کے جاتا ہے
ہر آبلہ مرے اندر سے ہو کے جاتا ہے
جہاں سے چاہے گزر جائے موج امید
یہ کیا کہ میرے برابر سے ہو کے جاتا ہے
جنوں کا پوچھئے ہم سے کہ شہر کا ہر چاک
اسی دکان رفوگر سے ہو کے جاتا ہے
میں روز ایک زمانے کی سیر کرتا ہوں
یہ راستہ مرے بستر سے ہو کے جاتا ہے
ہمارے دل میں حوالے ہیں ساری یادوں کے
ورق ورق اسی دفتر سے ہو کے جاتا ہے
ذوالفقار عادل
