500
کرتے پھرتے ہیں غزالاں ترا چرچا صاحب
ہم بھی نکلے ہیں تجھے دیکھنے صحرا صاحب
یہ کچھ آثار ہیں اک خواب شدہ بستی کے
یہیں بہتا تھا وہ دل نام کا دریا صاحب
تھا یہی حال ہمارا بھی مگر جاگتے ہیں
کیا عجب خواب سنایا ہے دوبارہ صاحب
سہل مت جان کہ تجھ رخ پہ خدا ہوتے ہوئے
دل ہوا جاتا ہے گرد رہ دنیا صاحب
ہم نہ کہتے تھے کہ اس کو نظر انداز نہ کر
آئنہ ٹوٹ گیا دیکھ لیا نا صاحب
یوں ہی دن ڈوب رہا ہو تو خیال آتا ہے
یوں ہی دنیا سے گزر جاتے ہیں کیا کیا صاحب
آبشاروں کی جگہ دل میں کسی کے شب و روز
خاک اڑتی ہو تو وہ خاک لکھے گا صاحب
سچ کہا آپ کی دنیا میں ہمارا کیا کام
ہم تو بس یونہی چلے آئے تھے اچھا صاحب
تم تو کیا عشق بلا خیز کے آگے باہر
میر صاحب ہیں بڑی چیز نہ مرزا صاحب
ادریس بابر
