413
اور وحشت ہے ارادہ میرا
حق ہے صحرا پہ زیادہ میرا
تو یہی کچھ ہے وہ دنیا یعنی
ایک متروک ارادہ میرا
رات نے دل کی طرف ہاتھ بڑھائے
یہ ستارا بھی ہے آدھا میرا
آب جو میں تو چلا جلدی ہے
اک سمندر سے ہے وعدہ میرا
دھول اڑتی ہے تو یاد آتا ہے کچھ
ملتا جلتا تھا لبادہ میرا
ادریس بابر
