409
دل کے گھٹنے کو اشارا سمجھو
دہر یہ اپنا خسارا سمجھو
یہ بھی ممکن ہے کہ تم دور کے لوگ
اس الاؤ کو ستارہ سمجھو
یہ بھی اک موج ہے مٹی کی سہی
وقت کم ہے تو کنارا سمجھو
پر نہیں ہوتے خیالوں کے تو پھر
کیسے اڑتے ہیں غبارا سمجھو
کسے معلوم خزانہ مل جائے
کوئی نقشہ تو دوبارہ سمجھو
کھیت رل جائیں گے پاگل پن میں
جنگ کیسی مجھے ہارا سمجھو
ادریس بابر
