341
جب مرا ہر ایک دکھ میرا ہنر ہو جائے گا
زندگی کا یہ سفر آسان تر ہو جائے گا
دل میں اک موہوم سا جذبہ کہیں جاگا تھا کل
جانتی کب تھی یہ اک دن اس قدر ہو جائے گا
کیا خبر تھی ریگزاروں میں ہی گزرے گی حیات
یہ سفر دشوار سے دشوار تر ہو جائے گا
عشق کی لَو ایک نہ اک دن جلا دے گی مجھے
پھر مرا ہر ایک دکھ مثلِ قمر ہو جائے گا
خاک ہو جائیں گے ہم تعبیر کی حسرت لئے
قریۂ خوابِ ابد اجڑا نگر ہو جائے گا
کرب کے لمحات میں بھی تم یقیں رکھنا کہ بس
عرصۂ شامِ الم آخر بسر ہو جائے گا
جب کبھی مَیں ہر خبر سے بے خبر ہو جاؤں گی
وہ مرے ہر ایک دکھ سے باخبر ہو جائے گا
اب یہاں بس شور ہے اور سسکیاں ہیں چار سُو
دیکھ لینا یہ جہاں وحشت کا گھر ہو جائے گا
خوف آتا ہے مجھے شاہین ڈھلتی شام سے
جب وفا کا نام بھی گردِ سفر ہو جائے گا
نجمہ کھوسہ
