304
درد اکسیر کے سوا کیا ہے
زخم دل کے بنا مزا کیا ہے
میری سانسوں میں بس گئی ہے مہک
ہائے اس کوچے کی ہوا کیا ہے
وصل کے چار دن تو بیت گئے
صرف یادیں ہیں اب بچا کیا ہے
دل دیا جس کو وہ ہوا غافل
جرم اظہار کی سزا کیا ہے
کھو گیا وہ جہاں کے میلے میں
میری دنیا میں اب رہا کیا ہے
بات ہوتی تھی کل نگاہوں سے
ان اشاروں کا اب ہوا کیا ہے
جانتے جب تھے عشق کا انجام
موناؔ قسمت سے پھر گلہ کیا ہے
ایلزبتھ کورین مونا
