107
صداقت کی دکانوں کی کہاں گاہک رہی تھی
یہ دنیا جھوٹ کی تازہ پنجیری پھک رہی تھی
جواں جذبوں کی دھونی سے بدن دہکا ہوا تھا
اسی اگنی پہ عشقے کی کڑاہی پک رہی تھی
بہت سادہ تھی وہ اور لوگ چالیں چل رہے تھے
سو اب دنیا سےڈر کر بھاگنے میں تھک رہی تھی
وہ اس کے کان بھرتی جا رہی تھی میرے بارے
مجھے معلوم ہے سب کچھ جلن میں بک رہی تھی
بس اک پل کے لیے اس نے چھوا تھا ہاتھ میرا
مگر سینے میں کتنی دیر دھک دھک دھک رہی تھی
ملے تو روح کے اطراف میں اس کو لپیٹوں
وہی چنی جو بچپن میں مرا گلک رہی تھی
کسی کے لوٹ کر آنے کا کچھ امکاں نہیں تھا
تو وہ کھڑکی سے لگ کر کس کا رستہ تک رہی تھی ؟
ہماری کم نصیبی، ساکنان کوچہ ء جاں
در دل پر تو متواتر وہ اک دستک رہی تھی
فرح گوندل
