31
شہرِ جاں میں قیام ہے دل کا
یہ علاقہ تمام ہے دل کا
دل کی دھڑکن سے سرسری نہ گزر
غور سے سُن کلام ہے دل کا
دبدبہ کیسا سلطنت کیسی
بادشہ تک غلام ہے دل کا
کاشف حسین غائر
