خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابرصغیر،ہومیو پیتھی اور اردو
آپکا اردو بابااردو تحاریرتحقیق و تنقیدمقالات و مضامین

برصغیر،ہومیو پیتھی اور اردو

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 19, 2020
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 19, 2020 0 تبصرے 76 مناظر
77

ہومیوپیتھی کی بنیاد اٹھارویں صدی میں ایک جرمن فزیشین ڈاکٹر سیمو ئیل ہانیمن نے رکھی تھی۔ ہانمین۰۱/ اپریل ۵۵۷۱؁ء میں جرمنی کے قصبے سیکسونی میں پیدا ہوئے انکا پورا نام سیموئیل کرسچن فراڈرک ہانیمن تھا۔ وہ زبانیں سیکھنے کے شوقین تھے انہوں نے کم عمری میں ہی یونانی، عربی لاتینی وغیرہ معتدد زبانوں پر عبور حاصل کر لیا تھا اور زبانوں کے استادسمجھے جانے لگے تھے۔ اسکے بعد انہوں نے آسٹریا میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی پھر ’وی آنا‘ آگئے ۔۹۷۷۱؁ء میں وہ میڈکل ڈاکٹر بن گئے اور ڈیسڈن میں پریکٹس شروع کر دی غریب پرور تھے، آمدنی زیادہ نہ تھی لہٰذہ انہوں نے پریکٹس کے ساتھ ساتھ مختلف زبانوں کی کتابوں کے ترجمے کا کام بھی جاری رکھا۔ ایلوپیتھک ڈاکٹر بن جانے کے گیارہ سال باد انہوں نے ہومیو پیتھک طریقہ علاج دریافت کیا۔ سنکونا سے شروع کر کے مختلف ادویات کا اپنے اور اپنے عزیز و اقارب پر مسلسل تجربات کرنے کے بعد اپنے مضامین کے ذریعے انھوں نے ہومیوپیتھی فلسفہ سے دنیا کو آگاہ کیا ۔ ۰۱۸۱؁ء میں انکی شہرۂ آفاق کتاب آرگینن آف میڈیسن شایع ہوئی۔ اگلے دس برس میں انہوں نے میٹریا میڈیکا تیار کی۔اس وقت کے تمام روایتی معالجین نے اسکی مخالفت شروع کر دی۔ مخالفین کے دباؤ میں حکومت نے ان کے طریقہ علاج کو غیر قانونی قرار دے دیا اور ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا۔ اب ہینمن کو اس ملک سے فرار ہو کر کوتھن میں پناہ لینی پڑی یہاں ڈیوک آف کوتھن نے انکی سر پرستی کی اور یہیں سے انہوں نے اپنی تحقیق کے نتائیج پر مبنی کتاب دی کرانک ڈیزیزز شایع کی 1835 میں وہ پیرس منتقل ہو گئے اور وہیں پریکٹس کرنے لگے۔ 2 جولائی 1843 کو پیرس میں ہی ان کا انتقال ہوا۔
ہومیو پیتھی کا بنیادی اصول ہے زہریلی چیزوں، زہروں، دھاتوں وغیرہ سے ویسی ہی ملتی جلتی یا اسی طرح کی بیماریوں کو دور کرنے کے لئے استعمال کیا جائے جس طرح کی بیماریاں یہ زہریلی اشیاء خود پیدا کر سکتی ہیں ،اسی لئے اس طریقہ علاج کو ہومیوپیتھی یا علاج بالمثل کہا جاتا ہے۔ یہ طریقہ علاج جلد ہی پورے یوروپ اور شمالی امریکہ میں پھیل گیا۔
ہندوستان میں ہومیوپیتھی کی آمد انیسویں صدی میں ہوئی۔ سب سے پہلے یہ بنگال میں رائیج ہوئی۔ مہندر لال سرکار پہلے ہندوستانی ڈاکٹر تھے جنھوں نے ہومیو پیتھک دواؤں سے مریضوں کا علاج کرنا شروع کیا ان کی دیکھا دیکھی اور کئی ڈاکٹروں نے ہومیو پیتھک پریکٹس شروع کر دی۔ 1881 میں کلکتہ ہومیو پیتھک میڈیکل کالج کا قیام عمل میں آیا۔ اس طرح سے بنگال میں ہو میو پیتھی کو مقبولیت حاصل ہونا شروع ہو گئی۔ بنگالی زبان میں ہومیو پیتھی کے متعلق کتابوں کی دستیابی عام ہونے لگی کچھ ہومیوپیتھک داکٹروں کی اپنی تصانیف اور ذیادہ تر انگریزی زبان سے ترجمے،اسی نہج پر مدراس میں بھی ہومیوپیتھی نے مقبولیت حاصل کی اور تامل زبان میں ہومیو کتب کی دستیابی عام ہو گئی۔لیکن ابھی تک شمالی ہندوستان میں ہومیوپیتھی کا زیادہ رواج نہ ہو سکا تھا۔حالا نکہ اس علاقہ میں غربت عام ہونے کی وجہ سے اس طرح کے سستے علاج کی اشد ضرورت تھی۔ اگرچہ تعلیم یافتہ طبقہ میں اکثریت اردو داں حضرات کی تھی اور طب یونانی سے متعلق زیادہ تر کتابیں فارسی اور اردو میں ہوا کرتی تھیں لیکن یہ طبقہ ابھی تک ہومیوپیتھی سے نامانوس تھا۔ اردو زبان ان قیمتی اور زریں معلومات سے محروم تھی اور اسکی اشد ضرورت تھی کی یہ معلومات مادری زبان کا جامہ پہن لیں۔ ان حالات میں مخیر حضرات نے ہومیوپیتھی سیکھنے کے بعد اس علم کو اردو میں منتقل کرنا شروع کر دیا اور بیسویں صدی کا نصف اول مکمل ہوتے ہوتے ہومیو پیتھی سے متعلق اردو کتب کا بہت بڑا ذخیرہ وجود میں آگیا۔ یہی وہ دور تھا کہ جب بے شمار قصبات اور مضافات میں بہت سے لوگوں نے ہومیو پیتھی سیکھی، ان میں تعلیم یافتہ زمیندار، مدرسین و دیگر سرکاری ملازمین وغیرہ شامل تھے۔ ان میں سے زیادہ تر کو مالی منفعت سے غرض نہ تھی بلکہ بنیادی طور سے خدمتِ خلق کا جذبہ ہی کارفرما تھا۔چنانچہ بہت سے اہل خیر حضرات نے غریبوں کو مفت علاج فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ اور اس طرح وہ لوگ جو کسی طرح کے علاج کے متحمل نہیں تھے، ان کو سہارا ملا۔
اس دور میں ہومیوپیتھی کو سرکار کی سرپرستی حاصل نہ تھی، نہ ہی تعلیم کا کوئی با قاعدہ نظم تھا ، اور نہ ہی ہومیوپیتھک دواؤں کے ذریعہ علاج کرنے پر کوئی پابندی ہی تھی،۔ ان حالات میں برصغیر کے طول و عرض میں اسکی ترویج میں اردو نے مرکزی کردار ادا کیا۔ ان ہومیو پیتھک معالجین نے جو اردو پر بھی دسترس رکھتے تھے اور اپنے خیالات کے اظہار پر قادر تھے تصنیف و تالیف کے ذریہ اس علم کو آگے بڑھایا اسمیں بیک وقت ہومیوپیتھی اور اردو دونوں کی خدمت کا جذبہ پنہاں تھا۔
اس قافلے میں بے شمار لوگ شامل تھے۔لیکن لکھنؤ کے ڈاکٹر کاشی رام کو بلا شبہ اس قافلے کا سالار کہا جاسکتا ہے جن کی کتاب ’سائیکلو پیڈیا آف ہومیو پیتھک ڈرگز یعنی مخزن المفردات ہومیوپیتھی‘تین ضخیم جلدوں میں آج تقریباََ ایک صدی گذرنے کے بعد بھی ہومیوپیتھی کی اردو کتابوں میں سرِ فہرست ہے ڈاکٹر کاشی رام اپنے ہومیوپیتھی کی طرف راغب ہونے کے سلسلے میں رقمطراز ہیں۔
”۸۰۹۱؁ء میں جب میں تحصیل علم کی آخری منزلیں طے کر رہا تھاخوش قسمتی سے( خوش قسمتی اس لئے کہ قدرت مجھ سے دنیا میں کوئی کام لینے والی تھی) مجھے خونی بواسیر کا عارضہ لاحق ہوا۔ سوتے،جاگتے اٹھتے،بیٹھتے خون از خود نکل جایا کرتا تھا جس کا مجھے کبھی علم نہ ہوتا تھا۔ میں نے پنجاب کے نامور ایلوپیتھک ڈاکٹر بیلی رام صاحب مرحوم کا معالجہ بہت عرصہ تک جاری رکھا مگر کچھ فائیدہ نہ ہوا۔ مسیح الملک حکیم اجمل خاں صاحب مرحوم کے زیرِ علاج رہا مگر قسمت نے یہاں بھے یاوری نہ کی آخر قدرت نے مجھے ڈاکٹر پی سی موراندار صاحب مرحوم کے پاس کلکتہ پہونچایا۔ ان کی عمر اس وقت قریباََ ۰۷، ۲۷ برس کی تھی۔ انہوں نے میرے تمام حالات سنے، میرا معائنہ کیا اور رائی کے برابر دو گولیاں میری زبان پر رکھ کر شفاء کا فتویٰ دے دیا۔ آج چوتھائی صدی کا زمانہ گذرا مگر ایک قطرہ خون کا بواسیری شکایت کے تحت نہیں گرا۔دوسرے سال آنتوں کے پھوڑے میں مبتلا ہوا ڈاکٹر (ایلوپیتھک) صاحبان آپریشن کی رائے دیتے تھے مگر میں نے پھر اپنے پرانے محسن ڈاکٹر مورندار صاحب کے دروازے کو کھٹکھٹایا۔ اور انکے چند یوم کے اندرونی علاج سے صحتیاب ہو گیا۔ یہ دو کرشمے ایسے تھے جنہوں نے مجھے قدرتی طور پر ہومیوپیتھک سائینس کو حاصل کرنے کی طرف رجوع کیا۔“
ڈاکٹر کاشی رام کی دیگر تصانیف میں امراضِ نسواں، کلیدِ میٹریا میڈیکا، اور ڈاکٹرسشلر کے بارہ نمکیات سے علاج کے اصول پر مشتمل بائیو کیمک سائینس کا اہم مقام ہے۔ ڈاکٹر دولت سنگھ دہلی کی کتابیں میٹریا میڈیکا مع رپریٹری، پریکٹس آف میڈیسن اور رفیقِ ہومیو پیتھی اور ڈاکٹر بشمبھر داس کی کتاب دوا کا انتخاب بھی قابلِ ذکر ہیں۔
ان کے علاوہ برِ صغیر ہند و پاک میں ہومیوپیتھی کی ترویج و اشاعت میں اہم کردار ادا کرنے والے کچھ مصنفین اور انکی تصانیف کا ذکر ضرور ی ہے۔مثلاََ ڈاکٹر عبدا لقیوم ملیح آبادی کی افاداتِ ہومیوپیتھی اور مجرباتِ ھومیوپیتھی،ڈاکٹر رفیق احمد کی ابجد ہومیوپیتھی،ڈاکٹر ہری چند ملتانی کی تاج ہومیوپیتھی ڈاکٹر فتح شیر کی جوہر ہومیوپیتھی اور روح ہومیوپیتھی، ڈاکٹر شوکت شوکانی کی میرا کلینک، ڈاکٹر گلزار احمد کی سحر ہومیوپیتھی، ڈاکٹر عابد حسین کی ہومیوپیتھی کی پہلی کتاب، ہومیوپیتھی کے راز،میٹریا میڈیکا، ڈاکٹر قاضی احمد سعید کی ھوا لشافی،ڈاکٹر محبوب عالم قریشی کی تفہیم الادویہ اور ڈاکٹر عبدالحمید کی چشمہ شفاء اور پچھلی صدی کے اواخر میں آئی مرزا طاہر ا حمد صاحب کی ضخیم کتاب ہومیوپییھی یعنی علاج با لمثل اور مشہور مصنف اور روحانی شخصیت ممتاز مفتی کی کتاب مداح ہومیوپیتھی وغیرہ وغیرہ۔
ان تصانیف کے علاوہ انگریزی اور دیگر زبانوں سے اردو میں ترجمہ کی گئی کتب بھی اہمیت کی حامل ہیں جیسے آرگینن آف میڈیسن مترجم جے کے خان، ڈاکٹر ولیم بورک کی بورک میٹریا میڈیکا مترجم ڈاختر احمد حسن عسکری و ڈاکٹر عبدل قیوم طاہر، جولین میٹریا میڈیکا(جرمن) مترجم ڈاکٹر محمد عاطف کمبوہ، لپے میٹریا میڈیکا کا ترجمہ روشن راہیں کے نام سے مترجم ڈاکٹر جاوید مغل،جارج وتھا لکس کی ایسنس آف میٹریا میڈیکا مترجم ڈاکٹر ساجد شاہین، نیش لیڈرس مترجم ڈاکٹر محمد عرفان کینٹ میٹریا میڈیکا مترجم ڈاکٹر عابد حسین وغیرہ وغیرہ
ہومیوپیتھی سے متعلق ماہانہ اردو رسالوں کا سلسلہ بھی کافی عرصہ تک جاری رہا جس میں لاہور سے جاری ہومیوپیتھک میگزین اور ہومیوپیتھک لیڈر اور لکھنو سے جاری ہومیوپیتھک دنیا نے کافی عرصے تک اشاعت جاری رکھی دہلی سے نکلنے والا ماہانامہ روزگار جس میں نصف حصہ ہومیوپیتھی کے لئے وقف رہتا تھا۔ بذریعہ اردو ہومیو پیتھی کی اشاعت میں ڈاکٹر رام لعل۔ ڈاکٹر امر پرکاش اروڑا۔ ڈاکٹر پیارے لعل سریواستو اور ایس پی مہتہ کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔
اگرچہ اس خاکسار کے پاس متذکرہ کتب میں سے ذیادہ تر موجود ہیں جو کہ والد مرحوم کے ترکے میں سے بطور وراثت حاصل ہوئی ہیں، موجودہ منظر نامے میں اردو کہیں دور دور تک نظر نہیں آ تی، یہ ماضی کی بات ہے۔ اس مختصر تحریر کا مقصد صرف اس حقیقت سے روبرو ہونا ہے کہ برصغیر میں ہومیوپیتھی طریقہ علاج کی ترویج و اشاعت میں اردو زبان نے کتنا اہم کردار کیا ہے۔

اختر جمال عثمانی دیوہ روڈ، رفیع نگر۔ بارہ بنکی
یو پی۔ انڈیا

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • نالۂ شب گیر: ایک ضروری مکالمہ عورتوں کے تعلق سے
  • کوئی لذت نہ شوخی
  • کفن دفن​
  • عید کی جوتی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بڑھتے بڑھتے سوز ِدل آہ و فغاں ہونے لگا
پچھلی پوسٹ
کاش ایسی تقدیر نہ ہوتی

متعلقہ پوسٹس

کیا کہنے

اگست 28, 2025

علامہ اقبال اور ملت اسلامیہ کی فلاح

اگست 9, 2022

دل کا لہو چراغ وفا میں جلائیے

اکتوبر 10, 2025

ممانعت کا قانون

جون 3, 2025

یادوں کی کتابوں سے

اکتوبر 7, 2025

مجرم بنا دیا مرے حالات نے مجھے

اپریل 15, 2020

اشعار کی صحت کے متعلق چوتھا کالم

اگست 20, 2020

مظلوم کی جو شخص

جون 27, 2025

لو ہوں مگر چراغ کے اندر نہیں ہوں میں

فروری 5, 2020

نجانے عشق میں ایسی ہے کیا کمی باقی

مئی 21, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بیرسے ذائقہ بھی فائدہ بھی

نومبر 28, 2021

بچھو پھوپھی

دسمبر 12, 2019

دودھ کی قیمت

اگست 10, 2018
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں