خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباعلامہ اقبال اور ملت اسلامیہ کی فلاح
آپکا اردو بابااردو تحاریرتحقیق و تنقیدمقالات و مضامین

علامہ اقبال اور ملت اسلامیہ کی فلاح

از سائیٹ ایڈمن اگست 9, 2022
از سائیٹ ایڈمن اگست 9, 2022 0 تبصرے 59 مناظر
60

اردو شاعری کے ارتقا پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اس میں موضوعاتی تنوع پر بالعموم توجہ نہیں دی گئی۔ حسن یار اور زلف و رخسارکی باتیں پسندیدہ موضوع رہا ہے۔ علامہ اقبال کی شاعری کا سب سے بڑا امتیاز یہ رہا ہے کہ انھوں نے اپنی شاعری میں ملت اور قومیت کے بارے میں ایک منفرد انداز بیان اپنایا۔ اس طرح ان کی شاعری میں ملت اور معاشرے کے بارے میں
ایک ایسا فلاحی تصور سامنے آیا جس کی پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی۔ قومی دردمندی، خلوص اور انسانی ہمدردی سے لبریز اس شاعری نے قلب اور روح کی گہرائیوں میں اتر جانے والی اثر آفرینی سے ید بیضا کا معجزہ دکھایا ہے اور لہو کی شکل اختیار کر کے سنگلاخ چٹانوں کو بھی موم کر کے اپنی جدت، تنوع اور تاثیر کا لوہا منوایا ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ افراد ہی ہیں جو دنیا بھر کی اقوام کے مقدر کو بدلنے کی استعداد رکھتے ہیں۔ افراد کا یقین اور جذب باہم اقوام کی تعمیر کے لیے نا گزیر ہے۔ اسی لیے انھوں نے ہر فرد کی قومی تعمیر و ترقی کے سلسلے میں اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس جانب متوجہ کیا ہے کہ قوم کا ہر فرد قومی افق پر مثل آفتاب ضو فشاں ہوتا ہے۔ ان کاخیال ہے کہ تہذیب و تمدن کے ارتقا میں افراد کی مساعی کا عدم اعتراف ایک غلطی کے مترادف ہے۔ در اصل ہر فرد ملت کے مقدر کے ستارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ جہاں تک فرد واحد کا تعلق ہے تو اس کو بھی ملت میں رہتے ہوئے اپنی تمام صلاحیتیں جہد للبقا کےAllama iqbal تقاضوں کی تفہیم میں صرف کرنی چا ہئیں۔ اس عالم آب و گل میں زندگی کے جملہ انداز حسن اور فطرتی رعنائیوں کے طلسم کے اسیر ہیں۔ قومی اور معاشرتی زندگی میں حسن کے نکھار کے لیے یہ ضروری ہے انسانی ہمدردی، بے لوث محبت، خلوص اور دردمندی کو شعار بنایا جائے۔ اس طرح زندگی کو اندیشۂ سود و زیاں سے برتر بنایا جا سکتا ہے۔ ملی فلاح در اصل قومی زندگی کے حسن و دلکشی میں اضافے سے عبارت ہے۔ قومی زندگی کے حسن میں نکھار اور اس کی رعنائی اور دلکشی میں اضافے کے متعدد تقاضے ہیں۔ علامہ اقبال نے ان تمام تقاضوں کی تکمیل و تسکین کی جانب بھر پور توجہ دی۔ وہ اس مقصد کو حسن خیال اور یقین کا ثمر سمجھتے تھے۔ ملت اسلامیہ کی فلاح کا جو خواب انھوں نے دیکھا تھا وہ تاریخ کے اور اق میں آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ یہی فکر تہذیبی اور ثقافتی اقدار کو نمو بخشتی ہے اور انسانیت کے وقار اور سر بلندی کے لیے جد و جہد کا آغاز یہیں سے ہو تا ہے۔ اس کی بدولت نہاں خانہ ء دل میں عطر بیز اور سکون بخش ہو ا کے جھونکے آتے ہیں اور اسی کے اثر سے لق و دق صحراؤں اور ویرانوں میں لالہ و گل کے نکھار کی صورت پیدا ہو جاتی ہے اور پورے معاشرے اور سماج میں سکون قلب، راحت اور آسودگی کی فراوانی دنیا کو جنت کا نمونہ بنا دیتی ہے۔
علامہ اقبال نے اس وقت ملت اسلامیہ کی فلاح کے لیے جد و جہد کا آغاز کیا جب پورے بر عظیم پر برطانوی استعمار کا غاصبانہ قبضہ یہاں رتیں بے ثمر کر چکا تھا۔ ملت کے ساتھ قلبی وابستگی اور دلی محبت کو علامہ اقبال کی ایک ایسی روحانی تحریک کا ثمر سمجھا جا سکتا ہے جس نے انھیں اسلام کی آفاقی اور ابد آشنا تعلیمات کے تناظر میں قومی بیداری پر مائل کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ زندگی کے تلخ حقائق اور تاریخی صداقتوں کو صراحت کے ساتھ بیان کیا جائے تا کہ قومی زندگی میں ایک واضح تبدیلی کا آغاز ہو سکے۔ فرد اور قوم کے باہم اشتراک عمل کے بارے میں وہ لکھتے ہیں :

فرد مے گیرد زملت احترام
ملت از افراد می یا بد نظام
فرد تا اندر جماعت گم شود
قطرہ وسعت طلب قلزم شود
مایہ دار سیرت دیرینہ او
رفت و آیندہ را آئینہ او
وصل استقبال و ما ضی ذات او
چوں ابد لا انتہا اوقات او
درد لش ذوق نمو از ملت است
احتساب کار او از ملت است
پیکرش از قوم وہم جا نش ز قوم
ظاہر ش از قوم و پنہانش ز قوم
وحدت او مستقیم از کثرت است
کثرت اندر وحدت او وحدت است(1)

ملت کا وجود افراد کے باہم ملنے جلنے کی ایک قابل فہم صورت سامنے لا تا ہے۔ ملت کے دوام اور استحکام کا راز اس حقیقت میں مضمر ہے کہ افراد کا آپس میں ربط و ضبط کس قدر معتبر ہے۔ جہاں تک ملت اسلامیہ کا تعلق ہے اس کی تکمیل، تہذیب اور تر بیت کا انحصار اسوہ رسولﷺ پر عمل پیرا ہو نے سے ہے۔ ملت اسلامیہ کی تشکیل میں جن ارکان کو اساسی اہمیت حاصل ہے۔ علامہ اقبال نے ان کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔ یہی وہ قابل قدر امور ہیں اور انہی کو ایسے درخشاں حروف سمجھا جا سکتا ہے جو ایک مہذب انسانی معاشرے میں تمام نسبتوں کی تحریک و ترویج اور وقار کے مظہر ہیں :
۱۔ توحید ۲۔ رسالت ۳۔ قرآن حکیم ۴۔ مشاہیر اسلام کی حیات
علامہ اقبال نے ڈر اور مایوسی کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا۔ ان کا خیال ہے کہ انسان کو حو صلے اور امید کا دامن تھام کر منزلوں کی جستجو میں منہمک رہنا چاہیے۔ معاشرتی زندگی میں پائی جانے والی بے اعتدالیوں، تضادات اور اضمحلال کا ایک سبب یہ ہے کہ افراد معاشرہ میں بے یقینی کی لرزہ خیز، اعصاب شکن کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔ ا س جان لیوا کیفیت کے پس پردہ متعدد عوامل کار فرما ہیں، ان میں مسلسل شکست دل کے باعث پیدا ہونے والی مایوسی، بے حسی، بے عملی اور کاہلی نمایاں ہے۔ بادی النظر میں یہی وہ ہیجانات ہیں جو زندگی کی اقدار عالیہ کے فروغ کی راہ میں حائل ہیں۔ بے یقینی اور تشکیک کا عنصر توحید پر ایمان اور ایقان کی راہ میں سدسکندری بن جا تا ہے۔ علامہ اقبال نے ملت اسلامیہ کو حوصلے اور امید کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھنے کی تلقین کی ہے۔ مسلمانوں کو اللہ کریم کی رحمت سے نا امید نہیں ہونا چاہیے۔ آلام روزگار کے مہیب ماحول میں بھی سعیِ پیہم کو شعار بنانے والے منزلوں کی جستجو میں کامیاب و کامران ہوتے ہیں۔ دنیا کی ہر تہذیب اور ہر معاشرے میں زندگی کی اقدار عالیہ کے فروغ میں مذہب کی آفاقی اقدار کی اہمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ معاشرتی زندگی کو خوب سے خوب تر بنانے کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ معاشرتی زندگی میں رونما ہونے والے واقعات کو محض حادثاتی تصور کرنا خام خیالی ہے۔ زندگی کے نشیب و فراز کا تعلق افراد کی کارکردگی اور جذب باہمی سے ہے۔ انسان کی جبلت ہے کہ وہ جذب باہمی کو شعار بنا کر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے۔ علامہ اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ فرد صرف ربط ملت سے قائم ہے اور تنہا ا س کی کوئی اہمیت نہیں۔ جس طرح دریا کی تند و تیز موجوں اور مہیب تھپیڑوں کی دریا کے باہر کوئی حیثیت نہیں اسی طرح فرد بھی ملت کے ساتھ اگر رابطہ استوار رکھتا ہے تو یہ اس کی کامیابی اور کامرانی کی دلیل ہے۔ حالات کی سنگینی کے باوجود افراد کو دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے۔ ملت کی اجتماعی فلاح اور بہبود کے لیے ضروری ہے کہ افراد یاس و ہراس کے ماحول سے نجات حاصل کر کے انسانی آزادی، فلاح اور احساس آزادی کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔ ملت کی فلاح، آزادی اور خوش حالی کے موضوع پر علامہ اقبال کے افکار ان کے شعورو ذہن کی ارتقائی کیفیات کے مظہر ہیں۔ ملی فلاح کو وہ ایک کائناتی عمل کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔ اپنے فہم و ادراک کی غیر معمولی قوت سے وہ تاریخی صداقتوں کو اپنے اشعار کے قالب میں ڈھال کر قاری کے فکر و نظر کو مہمیز کرتے ہیں۔ وہ ملت کی اجتماعی فلاح و بہبود کے تصور کو انفرادی عمل کے بجائے جہد للبقا کا تقاضا اور ایک ایسا آفاقی عمل قرار دیتے ہیں جس کے اعجاز سے حالات کی کایا پلٹ سکتی ہے۔ علامہ اقبال نے اپنے لہجے اور اسلوب کی جدت، ندرت اور تنوع سے ملت اسلامیہ کے متعلق ایک جہان تازہ کی نوید سنائی ہے۔ ملت اسلامیہ کی فلاح کا تصور ایک مضبوط اور مستحکم روایت کی صورت میں صدیوں کے ارتقائی سفر کے بعد اس عہد تک پہنچا ہے۔ وہ اس درخشاں روایت کو دل و جاں سے عزیز رکھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ مذہب کی ابد آشنا اقدار و روایات ہر شعبہ ء زندگی کے لیے ایک ٹھوس لائحہ ء عمل پیش کرتی ہیں۔ خیالات کی تونگری انہی کی مرہون منت ہے۔ نخل اسلام کی تمام تر قوت اور وسعت اسی وجہ سے ہے کہ یہ زندگی کی درخشاں روایات اور اقدار عالیہ کی مضبوط جڑوں کے سہارے ہمارے سر پر سایہ فگن ہے۔ یہ ہمارے لیے ایک ایسا ارضی و ثقافتی حوالہ ہے جس کے معجز نما اثر سے ہر دور میں دلوں کو مرکز مہر و وفا کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔ علامہ اقبال کی شاعری میں تخیل کی جولانیوں اور شعوری اور لا شعوری محرکات کے مابین ایک واضح اشتراک عمل دکھائی دیتا ہے۔ تاریخ اور اس کے مسلسل عمل کے بارے میں ان کی یادداشت ہر موقع پر حرف صداقت کے امتیاز میں خضر راہ ثابت ہوتی ہے۔ ۔ زندان غم کے اسیر انسانوں کو علامہ اقبال نے پیام نو بہار دیتے ہوئے بر ملا کہا ہے :

اے کہ در زندان غم باشی اسیر
از نبی تعلیم لا تحزن بگیر
ایں سبق صدیقؓ را صدیق کرد
سر خوش از پیمانۂ تحقیق کرد
از رضا مسلم مثال کو کب است
دررہ ہستی تبسم بر لب است
گر خداداری زغم آزاد شو
از خیال بیش و کم آزاد شو( 2)

معاشرتی زندگی میں امن و عافیت اور سکون کی فراہمی ایک فلاحی مملکت کی ذمہ داری ہے۔ علامہ اقبال نے ایک ایسی فلاحی اسلامی مملکت کا خواب دیکھا تھا جس میں ہر قسم کے جبر کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا جائے اور استحصالی نظام کا قلع قمع کر دیا جائے۔ انھوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں اور بصیرتوں کی تجسیم اس موثر انداز میں کی ہے کہ قاری ان کے فکر پرور اور بصیرت افروز خیالات سے اپنے دل میں ایک ولولہ ء تازہ محسوس کرتا ہے۔ اپنے مضمون ’’قومی زندگی ‘‘میں انھوں نے قومی فلاح کے لیے تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ جس طرح ممکن ہو ملت اسلامیہ کو اپنے مستقبل کے لیے ایک ٹھوس حکمت عملی تیار کرنی چاہیے۔ مستقبل کے چیلنج سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے تعلیم پر توجہ ضروری ہے۔ انھوں نے تعلیم نسواں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اسے اسلامی مملکت کے لیے نا گزیر قرار دیا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے وہ اسلامی تہذیب و تمدن کے مطابق تعلیم کی ترقی کے آرزومند تھے۔ اپنے خیالات کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے :
ــ’’ہمارے لیے یہ ضروری ہے کہ تمدن کی جڑ کی طرف اپنی توجہ مبذول کریں اور اپنی قوم کی عورتوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر یں۔ مرد کی تعلیم صرف ایک فرد واحد کی تعلیم ہے، مگر عورت کو تعلیم دینا حقیقت میں تمام خاندان کو تعلیم دینا ہے۔ دنیا میں کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔ اگر اس قوم کو آدھا حصہ جاہل مطلق رہ جائے۔ لیکن اس ضمن میں ایک غور طلب سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا مشرقی عورتوں کو مغربی عورتوں کے مطابق تعلیم دی جائے یا کوئی ایسی تدبیر اختیار کی جائے جس سے ان کے وہ شریفانہ اطوار جو مشرقی دل و دماغ کے ساتھ خاص ہیں قائم رہیں۔ میں نے اس سوال پر غور و فکر کیا ہے مگر چونکہ اب ملک کسی قابل عمل نتیجے پر نہیں پہنچا اس واسطے فی الحال میں اس بارے میں کوئی رائے نہیں دے سکتا۔ ‘‘(3)
علامہ اقبال کا خیال ہے کہ ایمان کی ابد آشنا قوت زندگی کی حقیقی معنویت کی مظہر ہے۔ یہ قوت جبر کے سامنے سپر انداز ہونے سے روکتی ہے اور اس جانب متوجہ کرتی ہے کہ انسان جب اپنے خالق کے حضور ایک سجدہ کر تا ہے تو وہ اپنی اس بندگی کے اعجاز سے بتان وہم و گماں کے سامنے ہزار سجدوں سے نجات حاصل کر لیتا ہے۔ ملت اسلامیہ کی فلاح کے لیے علامہ اقبال نے قوت ایمان کی نمو پر زور دیا ہے۔ قحط الرجال کے موجودہ زمانے میں بھی اگر انسان اپنے قلب ا ور روح کی گہرائیوں میں حضرت ابراہیم ؑجیسا ایمان پیدا کر لے تو آلام روزگار کی دہکتی ہوئی آگ بھی انداز گلستاں پیدا کر کے آزمائش و ابتلا کی گھڑیوں میں حوصلے اور امید کی شمع فروزاں کر سکتی ہے۔

قوت ایماں حیات افزا ید ت
ورد لا خوف علیھم با ید ت
چوں کلیمے سوئے فرعو نے رود
قلب او از لا تخف محکم شود
بیم غیر اللہ عمل را دشمن است
کا روان زندگی را رہزن است
عزم محکم ممکنات اند یش از
ہمت عالی تامل کیش ازو
تخم او چوں در گلت خودرا نشاند
زندگی از خود نمائی باز ماند
فطرت او تنگ تاب و ساز گار
بادل لر زان و دست رعشہ دار
دزو دا ز پا طاقت رفتار را
میر با ید از دماغ افکار را
دشمنت ترساں اگر بیند ترا
از خیا با نت چو گل چیند ترا (4)

علامہ اقبال نے اہل مغرب کی اس فکری کجی کی جانب توجہ مبذول کرائی جب انھوں نے بنی نوع انسان کی فلاح کے بجائے محدود نوعیت کی علاقائی اور نسلی آبادی کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ انھوں نے انسانیت کے وقار اور سر بلندی کو ہمیشہ اپنا مطمح نظر بنایا۔ ان کے نزدیک ملت اسلامیہ کو ایک وحدت اجتماعی کی حیثیت حاصل ہے اسی کی اساس پر اسلامی قومیت کا قصر عالی شان تعمیر ہوتا ہے۔ ازل سے لے کر لمحۂ موجود تک چراغ مصطفوی ﷺ سے شرارار بو لہبی ستیزہ کار رہا ہے۔ اس کی شدت میں کمی کا کوئی امکان نہیں۔ ملت اسلامیہ کی وحدت لادینی قوتوں کی اجتماعی قوت کے سامنے ہر دور میں سیسہ پلائی دیوار بن کر اپنے وجود کا اثبات کرتی چلی آئی ہے۔ علامہ اقبال نے اپنے ایک خطبے میں اسی جانب اشارہ کیا ہے :
’’اسلام کے نزدیک ذات انسانی بجائے خود ایک وحدت ہے۔ خدا اور کائنات، کلیسا اور ریاست، روح اور مادہ دراصل ایک ہی کل کے اجزا ہیں۔ ‘‘(5)
علامہ اقبال نے متعدد حکایات، تلمیحات اور علامات کی مدد سے ملی اقدار و روایات کو پروان چڑھانے کی سعی کی ہے۔ فکر اقبال کا اہم پہلو یہ ہے کہ زندگی کی اقدار عالیہ کا فروغ تہذیبی ارتقا اور بقا کے لیے نا گزیر ہے۔ اہل مغرب نے ملت کا جو تصور پیش کیا ہے اس کا انحصار رنگ و نسب پر ہے جب کہ اسلامی قومیت مذہب کی اساس پر استوار ہے۔ معاشرتی زندگی میں افراد اس قسم کی اجتماعی زندگی بسر کرتے ہیں جن کا اخلاقی اقدار کے تابع ہونا سماجی زندگی کے لیے بہت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ تہذیب و تمدن کی روایات کو اس سے تقویت ملتی ہے۔ یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ملت کی تقویم فرد کی تقویم سے الگ صورت رکھتی ہے۔ معاشرتی زندگی کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے سلسلے میں علامہ اقبال نے نہایت خلوص اور دردمندی سے اپنا موقف پیش کیاہے۔ ان کے افکار کے مطالعہ سے یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ وہ انفرادی شعور کو مہمیز کرنے کی ضرورت سے آگاہ تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انفرادی شعور کی بیداری جہد و عمل کو یقینی بنا سکتی ہے۔ علامہ اقبال نے جب یہ کہا کہ اقوام کی تقدیر افراد کے ہاتھوں میں ہے اور ہر فرد کو ملت کے تابندہ ستارے کی حیثیت حاصل ہے تو وہ یہ واضح کر دینا چاہتے تھے قومی فلاح اور ملی ترقی کی تمام صورتیں اخلاقی ترقی کا ثمر ہیں۔ جب تک افراد معاشرہ میں اخلاقی بالیدگی پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک معاشرتی زندگی میں امن و عافیت پر مبنی ماحول کا پیدا ہونا سراب محسوس ہوتا ہے۔ ارسطو نے جب انسان کو ایک ’’اجتماعی حیوان ‘‘کہا تو یہ بات گہری معنویت کی حامل تھی۔ علامہ اقبال نے بھی اپنے افکار میں فرد کی معاشرتی زندگی میں اہمیت کو اجاگر کیا اور ملی ترقی کے لیے فرد کے کردار کو کلیدی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ مذہب کی آفاقی تعلیمات پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کا مثبت نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ملی اتحاد اور قومی استحکام کو اس سے تقویت ملتی ہے۔
علامہ اقبال نے اپنی تخلیقی فعالیت کے اعجاز سے متعدد نئے حقائق کی گرہ کشائی کی ہے۔ ان کے افکار میں قومی درد، خلوص اور انسانی ہمدردی کے جذبات کی فراوانی ہے۔ بر عظیم کے مسلمانوں کی قومی شخصیت کی نمو میں انھوں نے اہم کردار ادا کیا۔ ملی فلاح اور بہبود کے متعلق ان کی سوچ تاریخ کے مسلسل عمل کی جانب توجہ دلاتی ہے۔ انھوں نے بر عظیم کی ملت اسلامیہ کا وہ دور دیکھا تھا جب وہ ابھی تک توسیع کے مر حلے سے گزر رہی تھی۔ اس مرحلے پر انھوں نے ملت اسلامیہ کی فلاح، ترقی، استحکام، دوام اور خوش حالی کا جو خواب دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ آج بر عظیم کی ملت اسلامیہ ایک آزاد اور خود مختار ملک میں اپنی جداگانہ پہچان رکھتی ہے۔ قومی استحکام کی منزل تک رسا ئی کے لیے علامہ اقبال نے اپنی تخلیقی فعالیت اور فکری وسعت کو مشعل راہ بنایا۔ وہ چاہتے تھے کہ بر عظیم کی ملت اسلامیہ تاریخ کے مسلسل عمل سے آگاہی حاصل کرے اور جریدۂ عالم پر اپنا دوام ثبت کر دے۔ جب ملت تار یخ کے شعور سے متمتع ہو گئی تو اسے تہذیبی میراث تک رسائی حاصل ہو گئی۔ اس کا مثبت نتیجہ یہ نکلا کہ معاشرتی، سماجی اور تہذیبی زندگی کے معائر بدل گئے۔ ہر لحظہ نیا طور نئی برق تجلی کی کیفیت نے دلوں میں ایک ولولۂ تازہ پید ا کر دیا۔ استعماری دور کے خاتمے کے بعد ملت اسلامیہ جس اجتماعی وحدت سے آشنا ہوئی، اس کی وجہ سے اسے ہر شعبۂ زندگی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے فراواں مواقع میسر آئے۔ اس طرح قومی ترقی اور خوش حالی کے دور کا آغاز ہوا۔ آج جب ہم پلٹ کر دیکھتے ہیں تو فکر اقبال کے یہ منور گوشے ہمیں ایام گزشتہ کے بارے میں متعدد نئے حقائق سے روشناس کراتے ہیں۔ وہ سعیِ پیہم کو ترازوئے کم و کیف حیات قرار دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ حیات جاوداں کا راز ستیزمیں پوشیدہ ہے۔ تاریخ کا یہ شعور ہر دور میں فکر و نظر کو مہمیز کرتا رہے گا۔ علامہ اقبال کے افکار ملت اسلامیہ کے ضمیر کی ترجمانی کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنی خیال افروز اور فکر پرور تحریروں سے ایک ا یسی ذہنی فضا تیار کی جو حرف صداقت کی مظہر ہے۔ اس کا نمایاں ترین وصف ملی فلاح اور بہبود کا تصور ہے۔ علامہ اقبال کے تصورات کی قطعیت ملت اسلامیہ کے لیے مژدۂ جانفزا ہے۔ یہ ایک منفرد اور متنوع احساساتی کیفیت تھی جس نے اس عہد میں قومی کردار کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔

مآخذ

1۔ محمد اقبال، علامہ ڈا کٹر، اسرار و رموز، ٍ کلیات اقبال (فارسی) شیخ غلام علی اینڈ سنز، لاہور، صفحہ 86۔
2۔ محمد اقبال، علامہ ڈا کٹر، اسرار و رموز، ٍ کلیات اقبال (فارسی)، صفحہ 95۔
3۔ محمد اقبال، علامہ ڈا کٹر، قومی زند گی، مقالات اقبال، مر تبہ سید عبد الواحدمعینی، القمر انٹر پرائزز، لاہور، 2011 ، صفحہ 93۔
4۔ محمد اقبال، علامہ ڈا کٹر، اسرار و رموز، ٍ کلیات اقبال (فارسی)، صفحہ 95۔
5۔ عابد علی عابد سید:شعر اقبال، بزم اقبال، لاہور، 1993، صفحہ 143۔

فضہ پروین

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • راج نگرا کا قصاب
  • نیپال میں سیاسی بحران
  • بام و در پہ جڑی اداسی ہے
  • بنت ِحوا تشدد کی زد میں کیوں؟
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کج روی کا حسن
پچھلی پوسٹ
رضیہ بٹ :شہر میں جو ہے سوگوار ہے آج

متعلقہ پوسٹس

دھوپ کمرے میں چلی

جون 12, 2024

بدن سے باطن تک

مئی 26, 2025

چل پڑی ایسی ہوا

جون 15, 2024

ہم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر

اگست 17, 2025

نصیر اور خدیجہ

اپریل 1, 2023

ہرے رنگ کی گڑیا

جون 14, 2020

آفتاب گردان کی پناہ گاہ

دسمبر 12, 2024

بے بسی اور خفت کا عالم

جنوری 4, 2022

ہسپتال کے چوکھٹے اور قبرستان کی تصویریں

فروری 24, 2020

ایک تصویر کہ اوّل نہیں دیکھی جاتی

اپریل 23, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

قابل نہیں سمجھتے جنھیں

اکتوبر 12, 2025

اہل منصب ، دکھاوا اور انجام

جون 10, 2024

سوچ کی غلامی

اگست 24, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں