خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابنت ِحوا تشدد کی زد میں کیوں؟
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

بنت ِحوا تشدد کی زد میں کیوں؟

از سائیٹ ایڈمن جولائی 13, 2022
از سائیٹ ایڈمن جولائی 13, 2022 0 تبصرے 41 مناظر
42

جب ہم تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہم کو افراط و تفریط کی کھینچ تان کا ایک عجیب سلسلہ نظر آتا ہے‘ ایک طرف ہم دیکھتے ہیں کہ وہی عورت جو ماں کی حیثیت سے آدمی کو جنم دیتی ہے اور بیوی کی حیثیت سے زندگی کے ہر نشیب و فراز میں مرد کی رفیق بنی رہتی ہے‘ اسلام سے قبل اس کے پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کردیا جاتا ہے‘ اس کی پیدائش کو نحوست تصور کیا جاتا ہے‘اس کو ملکیت اور وراثت کے تمام حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے‘ اس کو گناہ اور ذلت کا مجسمہ سمجھا جاتا ہے‘ پھر اسلام کا عظیم الشان دور آتا ہے‘جو سسکتی انسانیت کے لئے مسیحا ثابت ہوا‘ مرد و زن کو اس نوخیز مذہب نے وہ احکامات اور تعلیمات دی جو دونوں کی جسمانی اورحیاتیاتی سانچوں کے عین مطابق ہے‘ دوسری طرف مغربی جدید تہذیب کا بڑھتا ہوا سیلاب نظر آتا ہے کہ وہی عورت اٹھائی اور ابھاری جارہی ہے مگر اس شان سے کہ اس کے ساتھ بداخلاقی اور بدنظمی کا طوفان بھی اٹھ رہا ہے۔
تاریخ کے سفینے میں قیام دُنیا کے بعد بے شمار تہذیبوں نے اپنے پیر پسارے‘ان کے ماننے والوں نے اپنی تعلیمات کو بساطِ قوت سے زیادہ پھیلانے کی کوشش کی‘ جس کے عوض اس قوم کو اپنے ہی دور میں تہذیب ساز جیسے خطاب ملے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ وہ قوم اپنی لنگڑی‘ ادھوری تہذیب اور بے اصل نظریات کے ساتھ دفن ہوگئی۔
آج ہمارے معاشرے میں سب سے اہم صنفی امتیازہے‘ عورت کو آدھی دُنیا کہاگیا‘ اور اس کو کسی بھی سماج یا ازم کیلئے نظر انداز کرنا آسان نہیں ہے؛ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ عورت انسانی حیات کی گاڑی کا لازمی پہیہ ہے‘ لیکن انسانی تاریخ کا یہ المیہ ہے کہ عورت آدھی دُنیا ہونے کے باوجود اسے وہ اہمیت و حیثیت نہیں دی گئی جس کی واقعتا وہ مستحق ہے‘جس طرح قدیم تہذیب و تمدن نے عورت کے وقار کو تباہ کیا‘ اسی طرح جدید تہذیب نے بھی اسے شو پیس بنایا‘ اسے استعمال تو کیا لیکن اسے عزت نہیں بخشی‘ نمایاں تو کیاگیا لیکن عورت کے عورت پن کے خاتمے کی قیمت پر‘ آج وہ زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں تو نظر آتی ہے‘ لیکن یہ نمائندگی عزت و عصمت‘حیا و شرم، گنوانے کی قیمت پر ملی۔
ہمارا معاشرہ عمومی طور پر مشرقی روایات کا حامل ہے جن میں سے اکثر قابل فخر ہیں جیسا کہ والدین کا احترام اور بزرگوں سے حسن سلوک وغیرہ۔ لیکن خواتین کے بارے میں ہمارا مجموعی طرزعمل قابلِ تحسین نہیں ہے۔ ابتدائی تہذیبوں میں مردوں کی وجہ سے جنگوں میں فتح کے حصول اور کھیتوں میں ہل چلانے وغیرہ جیسے جسمانی کاموں میں سہولت حاصل ہوتی تھی۔لیکن یہ مردانہ برتری اس جدید مشینی دور میں بھی قائم ہے۔
بچی کی پیدائش کے ساتھ ہی امتیازی سلوک کا آغازہو جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں نوزائیدہ بچی کے ساتھ بھی ناروا سلوک برتا جاتا ہے۔ اس سے کوئی الفت کا اظہار نہیں کرتا۔کہیں تو بچی کی پیدائش پر قتل تک کر دی جاتی ہیں‘ ان کی مائیں جان سے جاتی ہیں‘ بچیوں کو ابتداء سے ہی اپنے بھائیوں کی خدمت کا فریضہ سر انجام دیا جاتا ہے‘ انہیں بات تک کرنے کی اجازت نہیں ہوتی‘بھائی بے شک کچھ بھی کریں لیکن لڑکیوں سے کپڑے دھونے‘ جوتیاں پالش کرنے‘ گاس کاٹنے‘ کھانے بنانے و دیگر گھریلو ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبا کر صنفی امتیاز کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ اور پھر جائیداد میں حقوق سے محرومی‘ تعلیم میں حق تلفی تو معمول کا حصہ ہیں‘ علاوہ ازیں عزت‘ غیرت کے نام پر قتل‘ تشدد ہمارے معاشرے میں تو عام سی بات ہے۔ کم پڑھے لکھے لوگ بچیوں کی باقاعدہ تعلیم سے احتراز برتتے ہیں اور زیادہ پڑھے لکھے لوگ اپنے بچوں کا تو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلہ کراتے ہیں لیکن بچیوں کی تعلیم کا کم معیاری تعلیمی اداروں میں بندوبست کرتے ہیں۔ ایسے والدین کی ساری توجہ بچیوں کو گھر گرہستی میں طاق کرنے پہ مرکوز رہتی ہے جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔
بچپن کے بعد نوجوانی میں اگر بالفرض لڑکے اخلاقی بے راہ روی کا شکار ہو جائیں تو والدین عموماَ چشم پوشی کرتے ہیں جس سے ان کومزید برائیاں کرنے کی شہ ملتی ہے۔ اس کے برعکس لڑکیوں کی معمولی غلطیوں سے بھی درگزر نہیں کیا جاتا اور انھیں سخت سے سخت سزا دی جاتی ہے۔ سب سے بڑی سزاان کی مرضی کے خلاف شادی ہے جس میں نہ تو شوہر سے ان کی ذہنی ہم آہنگی کا خیال روا رکھا جاتا ہے اور نہ ہی شوہر کی مالی آسودگی کا۔ہمارے معاشرے میں کئی خواتین ایسی بے جوڑ شادیوں کی وجہ سے مسائل کا شکار ہیں۔ انھیں جابر شوہروں کی بے جا سختیوں اور بعض صورتوں میں جسمانی تشدد کا بھی سامنا ہے۔ مگر وہ مالی اور جسمانی طور پر کمزور ہونے کے باعث کوئی اصلاحی اقدام اٹھانے سے قاصر ہیں۔اکثر والدین بیٹوں اور بیٹیوں میں مالی طور پر بھی فرق روا رکھتے ہیں۔ وہ بیٹیوں کی شادی کے موقع پر انھیں تھوڑا سا جہیز دے کر اپنے آپ کو ان کی ہر ذمہ داری سے بری الذمہ سمجھتے ہیں۔جب کہ حق وارثت اللہ تعالیٰ نے انہیں حق دیا ہے۔ لیکن نکھٹوں بیٹوں کی عیاشیوں کے لئے ان کی تجوریوں کے منہ کھلے رہتے ہیں۔ والدین کی وفات کے بعد بھائی بہنوں کو ان کا جائز شرعی حق نہیں دیتے اور مختلف حیلوں بہانوں سے ان کی حق تلفی کی جاتی ہے۔ اس طرح عمر بھر خواتین کے ساتھ ناانصافیوں کا لامتناہی سلسلہ جاری رہتا ہے۔
آج دُنیا تسلیم کرنے لگی ہے کہ عورت معاشرے کا اتنا ہی اہم حصہ ہے جتنا کہ مرد۔ تاہم‘اس کے باوجود آج بھی خواتین کو صنفی امتیاز اور عدم مساوات کا سامنا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر‘ ہر معاشرے میں عورت اپنے جائز مقام اور مردوں کے مساوی حقوق حاصل کرنے کے لیے سخت جدوجہد کررہی ہے۔
پاکستان کی کل آبادی میں خواتین کا تناسب باون فیصد کے قریب ہے مگر عملاً 3 سے 5 فیصد خواتین عملی زندگی میں مردوں کے شانہ بشانہ معاشرے کی تعمیروترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں جبکہ باقی ماندہ خواتین ماں‘ بہن‘ بیوی اور بیٹی کے روپ میں مردوں کے بالادست معاشرے میں ان کے زیرنگبہان ہونے کی وجہ سے غلامی کی زندگی بسر کر رہی ہیں۔ یہ غلامی معاشرتی جبر کی وجہ سے رضاکارانہ اور خاندانی نظام کو برقرار رکھنے کی عورت کے کندھوں پر ذمہ داری کا بھی شاخسانہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر عورتیں خود مردوں کے شاونزم کو برقرار رکھنے میں برابر کی شریک ہیں۔ اب بھی جہاں خواتین مردوں سے بہتر لیڈرشپ یا منتظم یا تخلیقی صلاحیتوں والی ادیب‘ شاعرہ‘ مصورہ یا کھلاڑی دکھائی دیتی ہیں‘ وہیں اسے مردوں کی بالادست سوسائٹی میں جنسی امتیاز کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔
صدائے وقت ہے کہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس صنفی تفاوت کو ختم کیا جائے‘ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ تاکہ خواتین بھی بغیر کسی دباؤ کے اپنی زندگی گزار سکیں اور تربیت اولاد کے ساتھ ساتھ معاشرتی اصلاح اور معاشی خوشحالی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ عدل و انصاف کے بغیر معاشرہ مکمل نہیں ہوتا‘ تاریخی اوراق پلٹیں تو پتہ چلتا ہے کہ مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے عدم مساوات اور امتیازی سلوک روا رکھنے کے سبب ہی تنزلی کا شکار ہوئے۔ دور جدیدمیں پائیدار ترقی کے خواہشمند تمام ممالک کو عدم مساوات اور امتیازی سلوک کا خاتمہ کرنا ہوگا۔

عابد ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہَوائے شب نے جسے تھا نظر میں رکھّا ہُوا
  • سو جہاں اور بھی ہیں
  • کون رُکے گا
  • امکان
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مہنگائی کا طوفان اور بیچارے عوام
پچھلی پوسٹ
وضع اِنساں میں مخفی ہیں

متعلقہ پوسٹس

بے کاری

دسمبر 15, 2019

امریکی موسیقار روڈ رگس

دسمبر 16, 2020

میں سوچتی ہوں کہ

ستمبر 14, 2025

اللہ دتا

مارچ 21, 2018

تقی کاتب

جنوری 28, 2020

ہالی ووڈ کا فریب – تیسری قسط

جنوری 19, 2025

چلو مان لیا

اکتوبر 15, 2025

قدموں کا سفر

دسمبر 22, 2024

جذبوں کا شاعر

اپریل 5, 2020

مستقبل کا موسم

ستمبر 12, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ذہن کی پٹاری سے ہاؤ و...

جنوری 30, 2020

ایک آواز نے کہا مرے دوست

نومبر 18, 2020

فیاض جنگل۔ نہر کنارے کے راج...

ستمبر 19, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں