خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابنت ِحوا تشدد کی زد میں کیوں؟
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

بنت ِحوا تشدد کی زد میں کیوں؟

از سائیٹ ایڈمن جولائی 13, 2022
از سائیٹ ایڈمن جولائی 13, 2022 0 تبصرے 60 مناظر
61

جب ہم تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہم کو افراط و تفریط کی کھینچ تان کا ایک عجیب سلسلہ نظر آتا ہے‘ ایک طرف ہم دیکھتے ہیں کہ وہی عورت جو ماں کی حیثیت سے آدمی کو جنم دیتی ہے اور بیوی کی حیثیت سے زندگی کے ہر نشیب و فراز میں مرد کی رفیق بنی رہتی ہے‘ اسلام سے قبل اس کے پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کردیا جاتا ہے‘ اس کی پیدائش کو نحوست تصور کیا جاتا ہے‘اس کو ملکیت اور وراثت کے تمام حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے‘ اس کو گناہ اور ذلت کا مجسمہ سمجھا جاتا ہے‘ پھر اسلام کا عظیم الشان دور آتا ہے‘جو سسکتی انسانیت کے لئے مسیحا ثابت ہوا‘ مرد و زن کو اس نوخیز مذہب نے وہ احکامات اور تعلیمات دی جو دونوں کی جسمانی اورحیاتیاتی سانچوں کے عین مطابق ہے‘ دوسری طرف مغربی جدید تہذیب کا بڑھتا ہوا سیلاب نظر آتا ہے کہ وہی عورت اٹھائی اور ابھاری جارہی ہے مگر اس شان سے کہ اس کے ساتھ بداخلاقی اور بدنظمی کا طوفان بھی اٹھ رہا ہے۔
تاریخ کے سفینے میں قیام دُنیا کے بعد بے شمار تہذیبوں نے اپنے پیر پسارے‘ان کے ماننے والوں نے اپنی تعلیمات کو بساطِ قوت سے زیادہ پھیلانے کی کوشش کی‘ جس کے عوض اس قوم کو اپنے ہی دور میں تہذیب ساز جیسے خطاب ملے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ وہ قوم اپنی لنگڑی‘ ادھوری تہذیب اور بے اصل نظریات کے ساتھ دفن ہوگئی۔
آج ہمارے معاشرے میں سب سے اہم صنفی امتیازہے‘ عورت کو آدھی دُنیا کہاگیا‘ اور اس کو کسی بھی سماج یا ازم کیلئے نظر انداز کرنا آسان نہیں ہے؛ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ عورت انسانی حیات کی گاڑی کا لازمی پہیہ ہے‘ لیکن انسانی تاریخ کا یہ المیہ ہے کہ عورت آدھی دُنیا ہونے کے باوجود اسے وہ اہمیت و حیثیت نہیں دی گئی جس کی واقعتا وہ مستحق ہے‘جس طرح قدیم تہذیب و تمدن نے عورت کے وقار کو تباہ کیا‘ اسی طرح جدید تہذیب نے بھی اسے شو پیس بنایا‘ اسے استعمال تو کیا لیکن اسے عزت نہیں بخشی‘ نمایاں تو کیاگیا لیکن عورت کے عورت پن کے خاتمے کی قیمت پر‘ آج وہ زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں تو نظر آتی ہے‘ لیکن یہ نمائندگی عزت و عصمت‘حیا و شرم، گنوانے کی قیمت پر ملی۔
ہمارا معاشرہ عمومی طور پر مشرقی روایات کا حامل ہے جن میں سے اکثر قابل فخر ہیں جیسا کہ والدین کا احترام اور بزرگوں سے حسن سلوک وغیرہ۔ لیکن خواتین کے بارے میں ہمارا مجموعی طرزعمل قابلِ تحسین نہیں ہے۔ ابتدائی تہذیبوں میں مردوں کی وجہ سے جنگوں میں فتح کے حصول اور کھیتوں میں ہل چلانے وغیرہ جیسے جسمانی کاموں میں سہولت حاصل ہوتی تھی۔لیکن یہ مردانہ برتری اس جدید مشینی دور میں بھی قائم ہے۔
بچی کی پیدائش کے ساتھ ہی امتیازی سلوک کا آغازہو جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں نوزائیدہ بچی کے ساتھ بھی ناروا سلوک برتا جاتا ہے۔ اس سے کوئی الفت کا اظہار نہیں کرتا۔کہیں تو بچی کی پیدائش پر قتل تک کر دی جاتی ہیں‘ ان کی مائیں جان سے جاتی ہیں‘ بچیوں کو ابتداء سے ہی اپنے بھائیوں کی خدمت کا فریضہ سر انجام دیا جاتا ہے‘ انہیں بات تک کرنے کی اجازت نہیں ہوتی‘بھائی بے شک کچھ بھی کریں لیکن لڑکیوں سے کپڑے دھونے‘ جوتیاں پالش کرنے‘ گاس کاٹنے‘ کھانے بنانے و دیگر گھریلو ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبا کر صنفی امتیاز کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ اور پھر جائیداد میں حقوق سے محرومی‘ تعلیم میں حق تلفی تو معمول کا حصہ ہیں‘ علاوہ ازیں عزت‘ غیرت کے نام پر قتل‘ تشدد ہمارے معاشرے میں تو عام سی بات ہے۔ کم پڑھے لکھے لوگ بچیوں کی باقاعدہ تعلیم سے احتراز برتتے ہیں اور زیادہ پڑھے لکھے لوگ اپنے بچوں کا تو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلہ کراتے ہیں لیکن بچیوں کی تعلیم کا کم معیاری تعلیمی اداروں میں بندوبست کرتے ہیں۔ ایسے والدین کی ساری توجہ بچیوں کو گھر گرہستی میں طاق کرنے پہ مرکوز رہتی ہے جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔
بچپن کے بعد نوجوانی میں اگر بالفرض لڑکے اخلاقی بے راہ روی کا شکار ہو جائیں تو والدین عموماَ چشم پوشی کرتے ہیں جس سے ان کومزید برائیاں کرنے کی شہ ملتی ہے۔ اس کے برعکس لڑکیوں کی معمولی غلطیوں سے بھی درگزر نہیں کیا جاتا اور انھیں سخت سے سخت سزا دی جاتی ہے۔ سب سے بڑی سزاان کی مرضی کے خلاف شادی ہے جس میں نہ تو شوہر سے ان کی ذہنی ہم آہنگی کا خیال روا رکھا جاتا ہے اور نہ ہی شوہر کی مالی آسودگی کا۔ہمارے معاشرے میں کئی خواتین ایسی بے جوڑ شادیوں کی وجہ سے مسائل کا شکار ہیں۔ انھیں جابر شوہروں کی بے جا سختیوں اور بعض صورتوں میں جسمانی تشدد کا بھی سامنا ہے۔ مگر وہ مالی اور جسمانی طور پر کمزور ہونے کے باعث کوئی اصلاحی اقدام اٹھانے سے قاصر ہیں۔اکثر والدین بیٹوں اور بیٹیوں میں مالی طور پر بھی فرق روا رکھتے ہیں۔ وہ بیٹیوں کی شادی کے موقع پر انھیں تھوڑا سا جہیز دے کر اپنے آپ کو ان کی ہر ذمہ داری سے بری الذمہ سمجھتے ہیں۔جب کہ حق وارثت اللہ تعالیٰ نے انہیں حق دیا ہے۔ لیکن نکھٹوں بیٹوں کی عیاشیوں کے لئے ان کی تجوریوں کے منہ کھلے رہتے ہیں۔ والدین کی وفات کے بعد بھائی بہنوں کو ان کا جائز شرعی حق نہیں دیتے اور مختلف حیلوں بہانوں سے ان کی حق تلفی کی جاتی ہے۔ اس طرح عمر بھر خواتین کے ساتھ ناانصافیوں کا لامتناہی سلسلہ جاری رہتا ہے۔
آج دُنیا تسلیم کرنے لگی ہے کہ عورت معاشرے کا اتنا ہی اہم حصہ ہے جتنا کہ مرد۔ تاہم‘اس کے باوجود آج بھی خواتین کو صنفی امتیاز اور عدم مساوات کا سامنا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر‘ ہر معاشرے میں عورت اپنے جائز مقام اور مردوں کے مساوی حقوق حاصل کرنے کے لیے سخت جدوجہد کررہی ہے۔
پاکستان کی کل آبادی میں خواتین کا تناسب باون فیصد کے قریب ہے مگر عملاً 3 سے 5 فیصد خواتین عملی زندگی میں مردوں کے شانہ بشانہ معاشرے کی تعمیروترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں جبکہ باقی ماندہ خواتین ماں‘ بہن‘ بیوی اور بیٹی کے روپ میں مردوں کے بالادست معاشرے میں ان کے زیرنگبہان ہونے کی وجہ سے غلامی کی زندگی بسر کر رہی ہیں۔ یہ غلامی معاشرتی جبر کی وجہ سے رضاکارانہ اور خاندانی نظام کو برقرار رکھنے کی عورت کے کندھوں پر ذمہ داری کا بھی شاخسانہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر عورتیں خود مردوں کے شاونزم کو برقرار رکھنے میں برابر کی شریک ہیں۔ اب بھی جہاں خواتین مردوں سے بہتر لیڈرشپ یا منتظم یا تخلیقی صلاحیتوں والی ادیب‘ شاعرہ‘ مصورہ یا کھلاڑی دکھائی دیتی ہیں‘ وہیں اسے مردوں کی بالادست سوسائٹی میں جنسی امتیاز کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔
صدائے وقت ہے کہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس صنفی تفاوت کو ختم کیا جائے‘ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ تاکہ خواتین بھی بغیر کسی دباؤ کے اپنی زندگی گزار سکیں اور تربیت اولاد کے ساتھ ساتھ معاشرتی اصلاح اور معاشی خوشحالی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ عدل و انصاف کے بغیر معاشرہ مکمل نہیں ہوتا‘ تاریخی اوراق پلٹیں تو پتہ چلتا ہے کہ مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے عدم مساوات اور امتیازی سلوک روا رکھنے کے سبب ہی تنزلی کا شکار ہوئے۔ دور جدیدمیں پائیدار ترقی کے خواہشمند تمام ممالک کو عدم مساوات اور امتیازی سلوک کا خاتمہ کرنا ہوگا۔

عابد ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بس ایک میں تھی کوئی
  • ضروری تھا مگر
  • آخری پیڑ ہوں اور آخری پتھراؤ ہے
  • آنکھ میں مقدارِ خوش بینی زیادہ کیجیے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مہنگائی کا طوفان اور بیچارے عوام
پچھلی پوسٹ
وضع اِنساں میں مخفی ہیں

متعلقہ پوسٹس

افغان باقی کہسار باقی

نومبر 29, 2025

ترا تخیّل کمالِ فن سے خیال زلفیں سنوارتا ہے

نومبر 6, 2020

یہ کوئی داستاں نہیں

جنوری 28, 2020

زندگی کے ساتھ سمجھوتہ کِیا

اگست 15, 2020

اول پوزیشن

مارچ 5, 2025

سنگ مرمر کو دیکھنے کے دن

جولائی 13, 2025

صحافت اور بلیک میلنگ

مئی 22, 2026

خوشیوں بھری پرسکون زندگی

اگست 7, 2022

ڈھلتے سورج میں سہارا مرے دل جیسا ہے

دسمبر 11, 2020

سجدے کی حالت میں

دسمبر 6, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

یاد نہیں ہے

دسمبر 17, 2021

تصور کی روشنی

دسمبر 25, 2024

پرمیشر سنگھ

نومبر 15, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں