103
آخری پیڑ ہوں اور آخری پتھراؤ ہے
اس سے آگے تو فقط رستا ہوا گھاؤ ہے
میرا بیٹا جو بنا دیتا ہے دیواروں پر
ڈوبنے والو مرے پاس وہی ناؤ ہے
وہ جو ہر طاق میں روشن ہے چراغوں کی طرح
صبحِ صادق بھی اسی نور کا پھیلاؤ ہے
شہرِ کم ظرف اسے کیا کیا معانی دے گا
چاک والی کا جو شہزادے سے برتاؤ ہے
سارا دن ماپتا رہ جاتا ہے خورشید جسے
سرخئ شام اسی زخم کا گہراؤ ہے
کیا مری آنکھ میں اس بار بھی اظہار نہیں
کیا مری بات میں اس بار بھی الجھاؤ ہے
اس نے جس موج سے تالاب کو ہلچل بخشی
اب اسی موج سے ہر موج کا ٹکراؤ ہے
جب سے اس شخص نے بازار سے مونھ موڑ لیا
شہر میں تب سے ہر اک چیز اسی بھاؤ ہے
صابر رضوی
