خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابامنیر نیازی سے ایک ملاقات
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزڈاکٹر خالد سہیل

منیر نیازی سے ایک ملاقات

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 28, 2020
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 28, 2020 0 تبصرے 67 مناظر
68

منیر نیازی سے ایک ملاقات

میں‘زاہد ڈار اور سعید احمد ’سنگِ میل‘ کے دفتر میں بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے کہ اصغر ندیم سید مسکراتے ہوئے داخل ہوئے اور جلد ہی فضاﺅں میں لطیفوں اور قہقہوں کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔

’خالد سہیل! تم اتنی دور کنیڈا سے لاہور آئے ہو۔ ہم تمہاری کیا خواہش پوری کر سکتے ہیں؟‘ اصغر ندیم سید نے پوچھا۔

’میری ایک دیرینہ خواہش ہے کہ میں منیر نیازی سے ملوں۔ یہ ایک کرامت ہوگی کیونکہ کنیڈا میں ایک دفعہ کسی نے مشہور کیا تھا کہ وہ فوت ہو چکے ہیں۔سب ادیب فاتحہ پڑھنے بھی جمع ہو گئے تھے۔ پھر کسی نے تعزیت کے لئے لاہور فون کیا تو منیر نیازی نے فون اٹھایا اور پتہ چلا کہ وہ افواہ منیر نیازی کے کسی دشمن نے پھیلائی تھی۔‘

’یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ ابھی فون کرتے ہیں۔ منیر نیازی کا نمبر کس کے پاس ہے؟‘

زاہد ڈار نے فون نمبر دیا تو اصغر نے منیر نیازی کو وہیں سے فون کیا۔ ہم صرف ایک طرف کی گفتگو سن سکتے تھے

’سلامالیکم! سر جی! میں اصغر ندیم بول رہا ہوں۔۔۔پورے شہر میں آپ کی باتیں ہو رہی ہیں۔میرے ڈرامے کا نام ’اک اور دریا کا سامنا تھا‘ بہت پسند کیا گیا) مجھے منیر نیازی کا مشہور شعر یاد تھا

اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو

میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھ

آپ کا کیا حال ہے؟ یہاں کینیڈا سے آپ کے ایک مداح خالد سہیل آئے ہوئے ہیںmunir niazi۔ آپ سے باتیں کرنا چاہتے ہیں‘

اور اصغر نے فون مجھے پکڑا دیا۔

’منیر نیازی صاحب۔ میں خالد سہیل ہوں۔ آپ سے ملنے کی خواہش ہے‘۔

’آ جاﺅ پھر‘

’میرے ساتھ زاہد ڈار اور سعید احمد بھی ہیں‘

’انہیں بھی لے آﺅ‘

’ہم تھوڑی دیر میں حاضر ہوں گے‘

’تھوڑی دیر میں کیوں۔ ابھی آ جاﺅ‘

چنانچہ ہم نے اصغر سے منیر نیازی کا پتہ لیا اور سعید احمد کی گاڑی میں بیٹھ کر ٹاﺅن شپ کی طرف چل دیے۔اصغر نے ایسا پتہ دیا تھا کہ ہم کھو گئے ۔ آخر ہم نے ایک مقامی شخص کو پکڑ‘اسے پتہ دکھایا اوراپنا رہبر بنایا۔کہنے لگا ’ میں سکوٹر پر ہوں۔ آپ میرے پیچھے چلیں‘۔ یہ کہتے ہی وہ وہ وے لینone way lane پر غلط رخ پر چل پڑا اور ہم بھی مجبوراً اس کے پیچھے چل پڑے۔ حسنِ اتفاق سے وہ ہمین غلط راستے سے لے جا کر صحیح منزل پر پہنچا آیا۔ سڑک کے کنارے ایک بے ترتیب سا سفید رنگ کا گھر تھا۔ نہ نام کی تختی نہ بیلBell ۔ ہم ہچکچاتے ہوئے داخل ہوئے۔ سیڑھیاں چڑھے۔ ایک گھنٹی نظر آئی۔ بجائی۔ کوئی جواب نہ آیا۔ پھر بجائی۔ ایک محترمہ گھر کی بغل سے نکلیں اور پوچھنے لگیں ’آپ کس سے ملنا چاہتے ہیں؟‘

’منیر نیازی سے‘

’آپ کے نام؟‘

’زاہد ڈار‘ خالد سہیل اور سعیداحمد‘

اتنے میں دوسری طرف سے ایک شخص نے کھڑکی نما دروازے سے سر نکالا اور کہا ’ آ جاﺅ۔ بھئی۔ اندر آ جاﺅ‘ اور ہم تینوں سیڑھیاں اتر کر‘ دروازے سے گزر کر‘ زیرِ زمین بیسمنٹ نما کمرے میں داخل ہو گئے۔

’آﺅ زاہد ڈار‘ منیر نیازی نے زاہد کو گلے سے لگا لیا۔

’میں سعید احمد ہوں‘ سعید نے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا

’اور میں خالد سہیل کنیڈا سے آیا ہوں‘ منیر نیازی نے بڑی محبت سے مجھے بھی گلے لگا لیا اور میں نے زندگی میں پہلے دفعہ اردو اور پنجابی شاعری کے لونگ لیجنڈLIVING LEGEND کو اتنے قریب سے دیکھا۔ ان کی آنکھیں سوجی ہوئی‘ بال بکھرے ہوئے‘ کپڑے میلے اور ہاتھ میں شراب کی بوتل تھی۔ صاف ظاہر تھا کہ باطن کے زلزلوں کے اثرات ظاہر تک آ گئے تھے۔ ان کا کمرہ بیک وقت ان کا لونگ رومLiving Room بیڈ رومBedroom اور فیملی روم Family Room لگ رہا تھا۔ سارا کمرہ بے ترتیب تھا‘ بستر ‘لحاف اور چادر بے ترتیب‘ میز پر کیسٹ بے ترتیب‘ فرش پر خالی بوتلیں اور گلاس بے ترتیب اور چاروں طرف پھیلی بادام اور پستے کی پلیٹیں بے ترتیب لیکن اس بے ترتیبی میں بھی ایک ترتیب اور اپنائیت کا سماں تھا۔ مجھے اپنا شعر یاد آ گیا

ہمارے گھر کی ہر اک چیز بے گھروں کی طرح

شریر بچوں کی بے ربط خواہشوں کی طرح

’ویسے تو میرے گھر میں ایک سجا سجایا کمرہ بھی ہے‘ منیر نیازی نے کہا ’ جہاں میں بیوروکریٹس Beurocrats کو لے جاتا ہوں لیکن دوستوں کے لئے یہی کمرہ مناسب ہے‘

منیر نیازی نے اپنی الماری سے دو سکاچ کی بوتلیں نکالیں ’چلو ایک پیگ لگاﺅ‘۔ ہم نے منیر نیازی کا ساتھ دیا لیکن زاہد ڈار نے پستے بادام پر اکتفا کیا۔

’ ام الخبائث نہیں چھوو گے زاہد ڈار‘ چلو تمہاری مرضی۔ تمہاری بھابی تمہیں چائے پلا دے گی‘

اس کے بعد تقریباً ایک گھنٹہ منیر نیازی بے ربط لیکن دلچسپ باتیں کرتے رہے۔ وہ گفتگو ڈائلاگ سے زیادہ مونولوگ تھی۔ بلکہ فری ایساسئیشن free association تھی وہ بولتے رہے اور ہم سنتے رہے۔ گھر آ کر جو یاد آیا لکھ لیا۔ منیر نیازی کہہ رہے تھے ’میں اس شہر کا سب سے بڑا شاعر ہوں۔۔۔اس کے بعد زاہد ڈار ہے۔۔۔ ویسے اس شہر میں بہت سے بےہودہ شاعر بھی بستے ہیں۔ خالد سہیل تم نے اچھا کیا ملنے آ گئے۔ تم اچھے شاعروں کی شناخت رکھتے ہو۔۔۔میں بھی کنیڈا گیا تھا۔۔۔مجھے پسند آیا۔۔۔یہ دیکھو میں نے ’جہاں نما‘ رسالے میں اپنے سفر کا ذکر کیا تھا۔۔۔اشفاق سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔۔۔اچھا آدمی ہے۔۔۔میں لندن بھی گیا تھا۔۔۔وہاں بھی کچھ دوست بنے تھے۔۔۔ان میں سے ایک دوست مر بھی گیا ہے۔۔۔ہم جس سے محبت کرتے ہیں۔۔۔جو ہمارے حق میں ہوتا ہے۔ ۔۔نجانے کیوں مر جاتا ہے۔۔۔میری پہلی بیوی بھی مر گئی۔۔۔دوسری بیوی رامپور کی پٹھان ہے۔۔۔چلو اچھا ہوا چائے آ گئی۔۔۔

زاہد ڈار تم ام الخبائث نہیں پیتے تم چائے پی لو۔۔۔زاہد ڈار تم ایک اچھے شاعر ہر۔۔۔جی چاہتا ہے تمہارے لئے ایک کنال زمین کا انتظام کروں۔۔۔اس میں تمہارے لئے چار مرلے کا مکان بنواﺅں۔۔۔باقی گلاب ہی گلاب ہوں۔۔۔میرا کیا ہے شاعر ہوں۔۔۔ہواﺅں میں بیج بوتا رہتا ہوں۔۔۔نجانے کہاں پھول اگ آئیں۔۔۔آﺅ تمہیں اپنے گھر کے پھول دکھاﺅں۔۔۔میرا ایک باغ بھی ہے۔۔۔اس میں لیموں کے پودے بھی ہیں۔۔۔سبزیاں بھی ہیں۔۔۔میں اپنے باغ میں بیٹھ کر شعر لکھتا رہتا ہوں۔۔۔میں نے ایک نظم بھی لکھی ہے۔۔۔اس کا عنوان ہے ’وہ دعا جو میں بھول گیا‘۔۔۔خالد سہیل یہ دیکھو میری کالی ڈائری۔۔۔اس میں اکیس نظموں کے عنوان ہیں۔۔۔ایسی نظموں کے عنوان جو میں نے ابھی نہیں لکھیں۔۔۔پچھلے دنوں ایک صاحب آئے تھے۔۔۔کہنے لگے آپ کی پنجانی نظموں کا انگریزی ترجمہ کیا ہے۔۔۔خالد سہیل تم کنیڈا سے آئے ہو۔۔۔تم انگریزی نظمیں بہتر سمجھتے ہو۔۔۔ کتاب کا نام ہے THE COLOURS OF SILENCE ۔۔۔ ’جہاں نما‘ میں کالم لکھنے شروع کیے ہیں۔۔۔ایک کالم کے ہزار روپے دے دیتے ہیں۔۔۔لاکھ روپے کے مکان کی قسط نکل جاتی ہے۔۔۔ چیک آتا ہے تو چار دن کے لئے شانتی ہو جاتی ہے۔۔۔خالد سہیل یہ دیکھو ’ماہِ نو‘ کا تازہ شمارہ۔۔۔کشور ناہید نے میری غزل شائع کی ہے۔۔۔شعر ہے

مجھ میں ہی کچھ کمی تھی کہ بہتر میں ان سے تھا

میں شہر میں کسی کے برابر نہیں رہا

یہ کشور ناہید بڑے دھڑلے والی عورت ہے۔۔۔کئی مردوں سے زیادہ دلیر۔۔۔اور زور دار۔۔۔ میں اپنی بیوی کو اس سے پردہ کرواتا ہوں۔

(فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ منیر نیازی فون اٹھاتے ہیں)

۔۔۔اچھا میرے ساتھ شام منانا چاہتے ہو۔۔۔ آنا ہے آ جاﺅ۔۔۔ تمہیں کنیڈا سے آئے ہوئے شاعر سے ملوائیں۔۔۔ خالد سہیل تم بیٹھو۔۔۔ ابھی سٹوڈنٹس آئیں گے۔۔۔ ان سے تم بھی بات کرنا۔۔۔ زاہدڈار تم چائے پیو اور سعید احمد کچھ اور پیو یار۔۔۔ ام لخبائث پیو۔۔۔ اس کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ ختم ہو جاتی ہے۔۔۔ میں زیادہ تر اسی کمرے میں آرام کرتا ہوں۔۔۔ شعر بھی یہیں لکھتا ہوں۔۔۔ میں نے نوکرانی کو منع کر رکھا ہے۔۔۔ بارہ بجے سے پہلے نہ آئے۔۔۔ کبھی سر میں درد ہو تو مالش کروا لیتا ہوں۔۔۔ میری بیوی اعتراض کرتی ہے۔۔۔ میں کہتا ہوں وہ نمازی پرہیز گار عورت ہے۔۔۔ زاہد ڈار تمہارے لئے چار مرلے کا مکان باقی گلاب ہی گلاب۔۔۔ خالد سہیل میرا پبلشر میری کلیات کا تازہ ایڈیشن چھاپ رہا ہے۔۔۔ مجھے بیس ہزار روپے دے گیا تھا۔۔۔ چلو گھر کا خرچ نکل آتا ہے۔۔۔ چار دن کی شانتی ہو جاتی ہے۔۔۔ (لڑکے دروازے پر نظر آتے ہیں) آﺅ اندر آ جاﺅ۔۔۔ تم میرے ساتھ شام منانا چاہتے ہو۔۔۔ اچھی بات ہے۔۔۔ میرے ساتھ اور شاعروں کو مت بلانا۔۔۔ بس میں ہی کافی ہوں۔۔۔ موڈ ہوا تو آ جاﺅں گا۔۔۔ تم مجھے لینے آ جانا۔۔۔ اور یہ تمہارا دوست ہے۔۔۔ یوں لگتا ہے اسے پنگھوڑے میں بیٹھے بیٹھے ہی مونچھیں اگ آئی ہیں۔۔۔ اچھا بیٹا اب تم جاﺅ۔۔۔ اس شام مجھے لینے آ جانا۔۔۔ جس جس کو بلانا اسے بتا دینا میرا موڈ ہوا تو آ جاﺅں گا۔ خالد سہیل تمہیں ایک فلسطینی شاعر کی نظم کا ترجمہ سناتا ہوں۔۔۔ شاعر کا نام بھول گیا ہے۔۔۔ کہتا ہے

میں اپنے باپ کے گھر کی مدافعت کروں گا

اپنے ہتھیاروں کے ساتھ

میرے دشمن میرے ہتھیار مجھ سے چھین لیں گے

میں اپنے باپ کے گھر کی مدافعت کروں گا

اپنے ہاتھوں کے ساتھ

وہ میرے ہاتھ کاٹ دیں گے

میں اپنے باپ کے گھر کی مدافعت کروں گا

اپنے بازوﺅں کے ساتھ

وہ میرے بازو کاٹ دیں گے

میں اپنے باپ کے گھر کی مدافعت کروں گا

اپنے جسم کا ساتھ

وہ مجھے قتل کر دیں گے

میں اپنے باپ کے گھر کی مدافعت کروں گا

اپنی روح کے ساتھ

زاہد ڈار میں رونے لگ گیا ہوں۔۔۔ میں آگے نہیں پڑھ سکتا۔۔۔ ویسے رونا بھی اچھا ہوتا ہے۔ ۔۔خالد سہیل اچھا کیا۔۔۔ تم اپنی کتاب ’تلاش‘ اور کیسٹ ’تازہ ہوا کا جھونکا‘ لائے ہو۔۔۔ میں کل اسے پڑھوں گا اور سنوں گا۔۔۔ موڈ بن گیا تو مضمون لکھ دوں گا۔۔۔ اخبار والے ہزار روپے بھیج دیں گے۔۔۔ گھر کی ایک اور قسط ادا ہو جائے گی۔۔۔ چار دن کے لئے شانتی ہو جائے گی۔۔۔ تم لوگوں نے اچھا کیا آ گئے۔۔۔ ( ہم نے اجازت چاہی) ۔۔۔ زاہد ڈار تمہاری ایک تصویر اور اتار لوں۔۔۔ یہ آخری تصویر ہے۔۔۔ سعید احمد تم یہ فلم دھلوا دینا۔۔۔ اچھا تو تم لوگ جا رہے ہو۔۔۔ یہ لو میرے گھر کے گلاب۔۔۔ انہیں ساتھ لے جاﺅ۔۔۔ ان میں بہت خوشبو ہے۔۔۔ اچھا خدا حافظ۔۔۔ وقت ملے تو پھر آ نا۔۔۔ کچھ اور باتیں کریں گے۔۔۔

ہم باہر گئے تو وہ اندر چلے گئے۔میں نے ان کی مختصر نظم یاد کرنے کی کوشش کی جس کا عنوان نظم سے لمبا تھا۔

عنوان۔۔۔ وقت سے آگے نکل جانے والا آدمی

نظم۔۔۔ تنہا رہ جاتا ہے۔

ڈاکٹر خالد سہیل

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہے یقیں مجھ کو مدینے میں بلایا جائے گا
  • لائیسنس
  • زندگی کے مسئلوں کا حل نکلنا چاہیے
  • جلتا انسان بےحس لوگ!
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ایک ’’نیچرل‘‘ نظم
پچھلی پوسٹ
پری وش کے پاﺅں

متعلقہ پوسٹس

رستے سے جو پتّھر کو ہٹا سکتا تھا

مارچ 4, 2020

عشق میں وہ مقام آنے لگے

دسمبر 17, 2021

سیاسی سنگ میل میں خاص دن

اکتوبر 12, 2025

دشمنوں کو مرے ہم راز کرو گے شاید

مئی 2, 2020

اسی طرح کی محبت، اسی طرح کے دکھ

جنوری 1, 2022

پیار ہے ادھورا تو

فروری 21, 2021

لوگ کیا کہیں گے

مئی 14, 2024

عجیب احساس ہے محبت

نومبر 4, 2021

محمودہ

جنوری 17, 2020

جس کـا جو بنـتا تـھا مـیں نے

نومبر 14, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

آنکھ کھلتے ہی خواب بھول گیا

جنوری 3, 2020

ایک سوال (رقیب سے)

دسمبر 17, 2021

چٹان کی دہلیز

دسمبر 22, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں