خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباجلتا انسان بےحس لوگ!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمز

جلتا انسان بےحس لوگ!

از عابد ضمیر ہاشمی ستمبر 6, 2023
از عابد ضمیر ہاشمی ستمبر 6, 2023 0 تبصرے 64 مناظر
65

ہر طرف مہنگائی‘ افراتفری‘ اضطراب‘ بے چینی‘ نت نئے مسائل‘ طوفانوں‘ مصائب نے ہمیں آن گھیرا‘ لڑائیاں جھگڑے‘ بے تہذیبی‘ انا‘ مطلب پرستی یہ معمول بن چکا۔ بے شمار لوگ ناگوار باتوں پر تکرار بھی کرتے ہیں۔ اپنے ساتھ زیادتیوں پر احتجاج بھی کرتے ہیں‘ لیکن پھر بھی کچھ نہیں ہوتا۔ ہر طرف افراتفری کا عالم ہے۔ سب ایک دوسرے کے دشمن بنے ہیں۔ نفسانفسی کے اس دور میں کسی کو کسی کی پرواہ نہیں‘جس سے مطلب ہے جس سے کوئی کام ہے وقتی طور پر وہی سب کچھ ہے۔ ہر شخص صرف اپنا فائدہ سوچتا ہے باقی کچھ نہیں۔ آج ہم صرف اور صرف اپنے لئے جی ر ہے ہیں۔ایک سروے کے مطابق”دُنیا بھر سے مسرت اور خوشیاں کم ہوتی جارہی ہیں“۔ خوشیاں کم ہونے وجہ کہیں ہم اور آپ تو نہیں۔ دور جدید میں سب سے بڑی وجہ آج کا انسان ہے جو خود کو سمجھدار اور چالاک سمجھتا ہے مگر حقیقی خوشیوں اور مسرتوں سے اتنی آہستگی سے دور ہوتا جارہا ہے کہ اسکا احساس تک اسے نہیں ہوپارہا۔

ہم اور ہمارا معاشرہ اُس وقت خوشحال تھا یا آج روپے پیسے اور سوشل میڈیا کے ہونے پر ہم زیادہ خوش اور اچھی زندگی گزار سکتے ہیں‘ مگر نہیں۔تو اس کی وجہ؟اس وقت چین و اطمینان‘تب ہی تھا جب سب ایک دوسرے سے بغیر کسی غرض کے محبت کرتے تھے۔ ایک دوسرے کے دکھ درد میں کا م آتے تھے۔ کوئی بھی شخص کسی سے بغیر کسی مقصد اور غرض کے ملاقات کرتا اور اسکے کام کو اولیت دیتا تھا۔ اس کی نسبت آج اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو ہم ایک عمیق گڑھے میں گر چکے ہیں۔ ہمیں اپنے سوا آج کچھ نظرنہیں آتا۔ اگر کوئی راہ چلتا شخص ہمیں سلام بھی کرتا ہے تو ہم میں سے بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اس نے ہمیں نہ جانتے ہوئے بھی سلام کیوں کیا؟ اسے ہم سے کوئی ”مطلب“ ہوگا۔ اس مطلب پرستی نے ہمیں آج ایک دوسرے سے دور کردیا ہے۔ او رہم اپنوں کے ہوتے ہوئے بھی اپنوں سے دور ہورہے ہیں۔بے شک اپنے لگتے ہوں وہ بھی پرائے لگتے ہیں۔ سب سے بڑی خرابی جو معاشرے میں رائج ہو چکی ہے۔ وہ مفاد پرستی‘ ہماری تعلیم صرف کاغذ کے ٹکڑے تک محدود ہو چکی‘ ہم نے تعلیم صرف ایک کاغذ پر بوجھ کی صورت میں اٹھائی‘ انسانیت ناپید ہو چکی۔ ہمیں بڑے کی تمیز ہے نہ چھوٹے سے شفقت‘ ہم انسانیت سے نیچے جا گرے۔ ہم اپنے مطلب کے لئے خونی رشتوں کی عزت کو بھی تارتار کر رہے‘ مگر ہیں پھر بھی تہذیب یافتہ‘ یہ چالاکی نہیں‘ کم ظرفی اور جاہلیت ہے۔

پہلے انسان بے لوث‘پر خلوص اور طاہر تھا اب آدمی ابن الغرض‘ مطلب پرست‘ حریص اور لالچی ہو گیا ہے۔ اسے جہاں اپنا فائدہ نظر آتا ہے وہاں دوڑ کے جاتا ہے اور جہاں اسے اپنا ذاتی نقصان ہونے کا اندیشہ ہو وہاں جانے کیلئے یہ ہرگز تیار نہیں ہوتا۔ اب تو یہ دوستی اور رشتے بھی وہاں گانٹھ لیتا ہے جہاں اسکی مطلب پرست طبیعت کو قرار آئے۔ اتنا مکار‘ عیار اور فریبی ہو گیا ہے کہ اب یہ تمیز کرنا مشکل ہے کیا یہ واقعی انسان ہی رہا یا اپنا جون بدل کر کوئی اور مخلوق ہو گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ انسان سے ہی معاشرہ وجود پاتا ہے اور یہ بھی صداقت ہے کہ جیسا انسان ہوگا ویسا ہی معاشرہ ہوگا۔ہمارے معاشرے میں عیاری‘ جھانسے بازی اور چکمے بازی کی عادات پڑ گئیں ہیں اور قرب و جوار میں دغا بازوں‘فریب کاروں اور چھلاوا دینے والوں کا بول بالا ہے۔ صادق القول‘ سیدھے سادھے اور مخلص لوگ دھکے کھا رہے ہیں۔ بنا مطلب کے مدد کرنیوالوں کو بے وقوف اور احمق تصور کیا جاتا ہے۔ انسان اتنا لالچی ہو گیا ہے کہ بنا مطلب کوئی کام کرنے کو تیار نہیں جس دن بیمار‘ کبیدہ خاطر اور اندیشہ مند ہوگا اسی دن خدا کو یاد کریگا ورنہ اپنی دھن میں مگن‘ بے پروا اور تغافل شعار ہی رہتا ہے۔ اب حرام اور حلال کا تفاوت دھندلا ہو گیا ہے اور لگتا ہے وہ میزان ہی ٹوٹ گئی ہے جو یہ تمیز کر سکتی۔ جس کام میں انسان کو فائدہ نظر آتا ہے وہ کام کر لیتا ہے۔ دوسروں کا حق مارنا چالاکی تصور کرتا ہے۔ چوری اور دھاندلی کو دانائی‘ چالاکی اور ہنری مندی مانتا ہے۔

ہمارا معاشرہ اتنا پست ہو گیا ہے کہ نیک‘سچے‘ مخلص لوگوں کو تمسخر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ با آبرو کو بے آبرو کرنا ہمارا معمول بن گیا ہے۔ جس معاشرے میں انسان کی بجائے زر کو اہمیت دی جائے‘ جہاں انسان سے انسانوں جیسا سلوک روا نہ رکھا جائے۔ انسان‘ انسان سے مراسم فقط اپنے فائدے کیلئے رکھے اس معاشرے میں اخلاقی گراوٹ آنا اور زوال پذیر ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ ہمارے معاشرے میں مطلب پرستی اتنی بڑھ گئی ہے کہ کوئی بھی شخص کسی پر مکمل اعتبار نہیں کرتا حتی کہ اپنے آپ پر بھی نہیں محنت کرنا ہمارا وتیرہ نہیں رہا بلکہ ہم حیلے بہانے سے کامیابی کی سیڑھی چڑھنا چاہتے ہیں چھل دینا ہماری عادت بن گئی ہے۔ انسان‘انسان کو صرف دھوکہ دینے کا عادی بن گیا ہے۔ کبھی زر کیلئے تو کبھی حسد‘بغض اور کینہ پروری میں جل کر ایک انسان اپنے دوستوں اور عزیزوں کو یہ بنیاد بنا کر دھوکہ اور فریب دیتا ہے۔ ہم اپنی بہتری کیلئے اتنے کوشاں نہیں رہتے اور نہ ہی اتنے شاد ہوتے ہیں جتنے دوسروں کی بد تری اور تنزل سے خوش ہوتے ہیں۔ہم حسد رکھنے اور کینہ پروری میں بہت آگے نکل گئے ہیں۔ اشرف المخلوقات افضل الخلائق سے صرف اس لیے حسد اور بغض رکھتا ہے کہ وہ کامیابی اور کامرانی کے زینے کیوں چڑھ رہا ہے۔ ایک دوسرے کی ترقی کے بجائے ہم ایک دوسرے کی تنزلی کے خواہاں ہیں۔ ہم ساری اخلاقی قدریں بھول گئے ہیں۔ اگر کوئی خلوص مند ہے تو اس خلوص مند ہونے کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی مدعا اور مقصد ہوتا ہے۔کہتے ہیں وقت کے ساتھ ساتھ لوگ بدلتے دکھائی دیتے ہیں مگر حقیقت میں وہ بے نقاب ہوتے ہیں۔ اور ان کی اصلیت کا پتہ لگتا ہے۔ اور لوگوں کی وفا اور خلوص کا صحیح پتہ تب ہی لگتا ہے۔ اچھے اوقات میں تو سب اچھے ہی ہوتے ہیں۔ اور برے وقت میں لوگ بدلنے میں دیر نہیں کرتے۔مطلب پرستی‘ خود غرضی‘ بناوٹ اور منافقت ہمارے خون میں شامل ہوتی جا رہی ہے۔بہت ہی کم لوگ ہیں جو ان بیماریوں سے پاک ہیں۔ہم تومن حیثیت قوم‘ مفاد پرستی میں ڈوب گئے ہیں حتیٰ کہ مسکراہٹیں بھی بے مقصد نہیں ہیں۔کبھی حساس افراد اپنی فطرت اور خلوص سے مجبور ہو کر رشتوں ناتوں کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو جواب میں ایسا سلوک ہوتا ہے گویا ہم کسی منافقت اور خود غرضی کا مظاہرہ کر رہے ہوں‘ یہ ایک علیحدہ عذاب ہے۔

آج ہم جس خطرناک اضطراب کے دور سے گزر رہے ہیں‘ اس میں ہماری مطلب پرستی‘ خود غرضی‘ پڑھا لکھا جاہل ہونا سب سے بنیادی جزو ہیں۔ایسے معاشرے میں انسان جل رہے اور بے حس لوگ ہیں یہی جدید معاشرے میں ہماری بدنصیبی ہے۔ اللہ ہمیں ہدایت دیں‘ تاکہ ہم مسلمان رہیں۔

 

عابد ضمیر ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • لالہ امام بخش
  • بھلا پروانوں کا بھی کوئی وارث ہوتا ہے؟
  • ماہ صفر المظفر کی اہمیت
  • یوں نہ کبھو کسو کا تماشہ بنائیے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
عابد ضمیر ہاشمی

اگلی پوسٹ
نماز اور نماز عشق میں فرق
پچھلی پوسٹ
عبد العلیم صدیقی اور تیسری بساط

متعلقہ پوسٹس

بہروپیا

جنوری 12, 2020

ایک گھریلو سا خراج ِ عقیدت

اکتوبر 27, 2020

اجنبی یقین کے نام

جنوری 10, 2021

اے رنجِ آگہی،کوئی چارہ تو ہو گا نا

ستمبر 11, 2020

سورہ والعصر (منظوم ترجمہ)

جنوری 18, 2025

تماشا

جنوری 16, 2020

ایک تصویر کہ اوّل نہیں دیکھی جاتی

اپریل 23, 2020

عدو کی صف میں وہ کس

اکتوبر 16, 2025

کچھ محبت کچھ گلہ آثار بارش ہورہی ہے

جون 6, 2020

عبرت سرائے دہر میں وہ بھی لہولہان تھا

جنوری 12, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

امرتسر میں بچپن کا رمضان اور...

مارچ 25, 2024

یہ حقیقت تھی کہ میرے

اکتوبر 7, 2025

خلقتِ نور کلام

جنوری 15, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں