319
دشمنوں کو مرے ہم راز کرو گے شاید
وقت تنہائی میں آواز کرو گے شاید
تم بہت تیز ہو شہ زور ہو استاد بھی ہو
تم بنا پر کے بھی پرواز کرو گے شاید
یہ کھلا جسم کھلے بال یہ ہلکے ملبوس
تم نئی صبح کا آغاز کرو گے شاید
تلخ انداز سے بدلو گے زمانے کا مزاج
اپنے اطراف کو ناساز کرو گے شاید
تم تو خاموش ہو لو میں ہی ذرا بولتا ہوں
بات سے بات کا آغاز کرو گے شاید
افروز عالم
