373
تو میری نیندیں تلاشتا ہے یہی بہت ہے
تو مرے خوابوں میں جاگتا ہے یہی بہت ہے
زمانہ تجھ کو حریف کہہ لے اسے یہ حق ہے
مری نظر میں تو دیوتا ہے یہی بہت ہے
بہار میں تو نہ جانے کیسے کہاں پہ غم تھا
خزاں میں مجھ کو پکارتا ہے یہی بہت ہے
جہاں چراغوں کی لو خموشی سے چپ ہوئی ہیں
وہاں پہ آخر تو بولتا ہے یہی بہت ہے
خیالوں کے یہ سراب تجھ کو ڈبو ہی دیں گے
جسے تو کہتا ہے راستہ ہے یہی بہت ہے
گئے دنوں کی عجیب یادوں کو بھول جاؤ
تجھے اک عالمؔ جو چاہتا ہے یہی بہت ہے
افروز عالم
