110
ڈھلتے سورج میں سہارا مرے دل جیسا ہے
شام کا پہلا ستارہ مرے دل جیسا ہے
مجھ کو ہنستا ہوا دیکھ اور ذرا دل سے بتا
ہے کوئی دل کہ جو پیارا مرے دل جیسا ہے
ہر محبت کا منافع ہے کوئی حسن و جمال
ہر محبت کا خسارہ مرے دل جیسا ہے
وقفے وقفے سے ٹپکتے ہوئے آنسو کی طرح
پارہ پارہ ہے جو پارہ مرے دل جیسا ہے
ایک ہی نام سے سنتا ہوں میں دنیا کی صدا
نام بھی وہ کہ جو سارا مرے دل جیسا ہے
یوں تو سب کچھ ہی تمہارا ہے مگر پھر بھی جسے
تم سمجھتی ہو تمہارا ، مرے دل جیسا ہے
جس نے بھی چھوڑی نہیں پاؤں کی مٹی آرش
جو بھی دریا سے نہ ہارا مرے دل جیسا ہے
سرفراز آرش
