خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکبھی خوشی کبھی غم
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریر

کبھی خوشی کبھی غم

از سائیٹ ایڈمن مئی 25, 2024
از سائیٹ ایڈمن مئی 25, 2024 0 تبصرے 46 مناظر
47

محمد انور میرے مطب میں میرے سامنے کھڑا تھا۔ اس کا بیٹا کرسی پر بیٹھا سرجھکائے کسی گہری سوچ میں گم تھا۔ محمد انور کی پلکوں پر آنسو لرز رہے تھے اور چہرے پر بے بسی اور پریشانی کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ اچانک اس کے ہونٹ ہلنے لگے ….اس کی آواز جیسے دور کہیں دور سے آ رہی تھی ’’ڈاکٹر صاحب، میرے بیٹے نے مجھے خاک میں ملا دیا۔ اس نے مجھے کہیں کا نہ رکھا، مجھے بادشاہ سے گدا بنا دیا….چھ ماہ پہلے یہ لڑکا زندگی کی لیلیٰ سے مجنوں کی طر ح عشق کرتا تھا ہر وقت کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتا تھا، ہر پل خوشی کے گیت گاتا اور شادمانی کے جھولے جھولتا رہتا تھا۔ صرف چار گھنٹے نیند کی بانہوں میں جھولنے کے بعد، صبح تازہ دَم اٹھ کر خوب پیٹ بھر کر ناشتہ کرتا اور دن بھر پھرتی چستی سے ہر کام انجام دیتا تھا، ہر کسی کے ساتھ ’اچھا‘ سلوک اور ہنسی مذاق کرتا تھا۔ اونچے اونچے سپنے دیکھتا اور آسمان سے تارے توڑ دلانے کے وعدے کرتا تھا۔ کہتا تھا کہ و ہ صرف ایک دو ماہ میں کروڑوں کا منافع حاصل کرے گا۔ اس نے مجھے اتنے پیار اور اعتماد سے سپنے دیکھائے کہ میں نے بنا سوچے سمجھے اپنی ساری پونجی اس کے حوالے کر دی اور اس نے بڑے پیمانے پر کاروبار شروع کیا….میری اُمید کے مطابق وہ ’’شاہراہِ تجارت ‘‘ پر بڑی تیزی سے دوڑنے لگا۔ ہر کوئی اس کی محنت اور لگن دیکھ کر یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا کہ یہ لڑکا کاروباری حلقوں میں جلد ہی ایک اونچا مقام حاصل کرے گا….میں بھی اس کی کارکردگی سے مطمئن تھا اور اندر ہی اندر خوش ہو رہا تھا کہ میرا بیٹا زندگی کی دوڑ میں بہت آگے نکل جائے گا….مگر….میرے سپنوں کا شیش محل چُور چُور ہوا۔ جب ایک ماہ قبل میں نے دیکھا کہ اس نے کا م میں دلچسپی لینا چھوڑ دیا اور وہ ہر وقت اُداس رہنے لگا ہے۔ کھانے پینے، دسروں سے ملنے جلنے میں اس کی دلچسپی ختم ہو گئی۔ وہ زیادہ تر وقت اپنے کمرے میں گذارنے لگا۔ صبح کے وقت بسترے سے نکلنے کا نام ہی نہیں لینے لگا۔ ہر وقت صرف ’’کبھی خوشی کبھی غم تارا رم پم پم‘‘ گنگنانے لگا۔ میرے پوچھنے پر کہ تم ہر وقت یہی ایک گیت کیوں گنگناتے ہو، کچھ اور کیوں نہیں کرتے، آخر وجہ کیا ہے ؟ تو جواب ملتا ’’زندگی یہی ہے کبھی خوشی کبھی غم‘‘۔

جب اس نے کاروبار کی طرف توجہ دینا چھو ڑ دیا تو میں نے سوچاشاید وہ ہم سے ناراض ہوا ہے یا اسے کاروبار کے لئے مزید رقم کی ضرورت پڑی ہو۔ میں نے ایک دوست سے کچھ رقم اُدھار لے کر اس کے سامنے رکھ دی مگر اس نے یہ کہہ کر وہ رقم لینے سے صاف انکار کیا ’’ میں ایک نکمّا، نالائق اور نا اہل انسان ہوں، میں اب کچھ نہیں کرسکتا ہوں، اب ڈوب گیا ہوں۔ میں گناہگار ہوں، اب مجھے اپنے ہر گناہ کی سزا ملے گی، اب مجھے خدا بھی معاف نہیں کرے گا….اب میں کسی کے لئے کچھ نہیں کرسکتا ہوں۔ اب مجھے مر جانا چاہئے، اب صرف موت ہی میرے غموں کا علاج ہے ‘‘۔ اس کے بعد وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا ‘‘۔

میں حیران و پریشان ہوا اور میں نے چند دوستوں اور رشتہ داروں سے اس بارے میں بات کی۔ کسی نے کہا ’’ اسے نظر لگ گئی ہے ‘‘۔ کسی نے کہا ’’ وہ کم عمری میں اتنا بڑا کاروبار سنبھال نہ سکا، اس پر بوجھ پڑا اور وہ ٹوٹ گیا‘‘۔ کسی نے کہا ’’ وہ بہانے بازی کرتا ہے ‘‘۔ کئی رشتہ داروں نے اس کی ماں سے کہا کہ ’’دشمنوں نے تعویذ کئے ہیں ‘‘ …. ہم اسے پیروں فقیروں کے پاس لے گئے۔ انہوں نے تعویذ دیئے، دَم کیا ہوا پانی دیا، سر اور سینے پر مالش کے لئے مٹی دیدی، طرح طرح کے نسخے دیئے مگر اس کی حالت میں سدھار آنے کے بجائے بگاڑ آتا گیا…. اب آپ دیکھئے کس طرح کرسی پر سرجھکائے بیٹھا اپنے خیالوں میں گم ہے ….میرے ایک تعلیم یافتہ دوست نے مجھ سے کہا کہ یہ کسی ذہنی بیماری میں مبتلا ہے۔ اس نے مجھے مشورہ دیا تھا کہ میں اسے ’’مینٹل ہاسپیٹل‘‘ لے جاؤں یا کسی سائیکٹریسٹ کو دکھاؤں مگر….مجھے نہیں لگتا کہ یہ ’’پاگل‘‘ ہے۔ آپ کے بارے میں سنا ہے کہ آپ مریض کے ساتھ اچھی طرح بات کرتے ہیں اس لئے آپ مجھے مشورہ دیں کہ مجھے کیا کرنا چاہئے۔ کیا میرا بیٹا بیمار ہے یا ….‘‘ یہ کہہ کر محمد انور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا‘‘۔

میں نے اسے تسلی دی اور اسے تھوڑی دیر کے لئے چیمبر سے باہر جانے کا مشورہ دیا۔

اب میں نے کرسی پر بیٹھے ہوئے نوجوان سے پوچھا ’’تمہارا نام کیا ہے ؟‘‘ ’’ عرفان انور‘‘ اس نے دھیمی آواز میں جواب دیا ’’ کیا کام کرتے ہو؟‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔

’’کچھ بھی نہیں ….کبھی خوشی کبھی غم تارا رم پم پم‘‘ اس نے جواب دیا اور اپنی قمیض کی جیب میں کچھ ٹٹولنے لگا۔

’’کیا ڈھونڈ رہے ہو‘‘۔ میں نے پوچھا

’’اپنے آپ کو ڈھونڈ رہا ہوں ‘‘۔

’’مجھے لگتا ہے اس بھری دنیا میں کہیں کھو گیا ہوں ‘‘۔ اس نے کاغذ کا ایک پرزہ میری طرف بڑھایا۔ میں نے کاغذ کا پرزہ کھولا….

’’یہ تو کورا کاغذ ہے ‘‘ میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔

’’میری طرح‘‘۔ اس نے مختصر سا جواب دیا اور پھر سے سرجھکائے گنگنانے لگا ’’ کبھی خوشی کبھی غم ….‘‘

میری دلچسپی کا کینواس وسیع تر ہوتا گیا اور میں نے مریض اور اسکی بیماری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ میں نے اسے یہ تاثر دیا کہ میں اس کا ہمدرد دوست ہوں اور اس کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے تفصیل کے ساتھ اس کے ساتھ بات چیت کی۔ اس کی زندگی کے ہر شعبے میں جھانک کر دیکھا اور تشخیص دینے میں کامیاب ہوا کہ وہ ایک ذہنی بیماری میں مبتلا ہے جس کے لئے اسے طویل مدت تک ادویات کے علاوہ سائیکوتھراپی کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ اتنی دیر میں محمد انور واپس لوٹا اور میں نے اسے سمجھایا کہ اس کا بیٹا کس مرض میں مبتلا ہے اور اسے کیا کرنا ہے۔

ڈپریشن ایک ایسی بیماری ہے جس میں کوئی بھی انسان زندگی کے کسی بھی موڑ پر مبتلا ہو سکتا ہے۔ یہ بیماری بلا لحاظ مذہب و ملت، رنگ ونسل، سماجی رتبہ، تعلیمی قابلیت، کسی بھی فرد کو اپنی گرفت میں لے سکتی ہے۔ اس بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد مریض کے جسم کے علاوہ اس کی مزاجی کیفیت اور خیالات بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ مریض کا طرز زندگی، طرزِ فکر، طرز خوردو نوش بدل جاتا ہے اور مریض سماجی علیحدگی اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ڈپریشن کی کئی قسمیں ہیں۔ ایک قسم کی ڈپریشن کا نام بائی پولرموڈڈس آرڈر (Bipolor Mood Disorder)، اسے پہلے مینک ڈپریسو سائکوسس (MDP)کہا جاتا تھا۔

گو کہ ڈپریشن کی یہ قسم باقی اقسام سے کم پائی جاتی ہے لیکن پھر بھی ہمارے سماج میں اس بیماری کی شرح (نوجوانوں میں) اچھی خاصی ہے۔ اس بیماری میں مبتلا نوجوان ’’کبھی خوشی ‘‘ اور ’’کبھی غم‘‘ کا اظہار کرتے ہیں۔ جب وہ حد سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں تو وہ مینیا (Mania)میں ہوتے ہیں۔

مینک اپسوڈ (Manic Episode) میں مبتلا مریض متذکرہ بالا علائم میں سے کسی علامت کا اظہار کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو وقت کا بادشاہ سمجھتا ہے اور و ہ کچھ بھی کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ اسے اپنی قابلیت پر فخر ہوتا ہے اور وہ یہ سوچتارہتا ہے کہ وہ اپنی قابلیت کی بناء پر ساری دنیا کو فتح کرسکتا ہے۔ وہ اپنی دولت بے دردی سے لٹاتا ہے اور اسے کوئی افسوس بھی نہیں ہوتا ہے۔ اسکی جنسی خواہش بلندیوں کو چھو لیتی ہے اور وہ اس دوران جنسی بے راہ روی کا بھی شکار ہو سکتا ہے۔ وہ ایسے عقائد و ارادوں کا اظہار کرتا ہے کہ سننے والا حیران رہ جاتا ہے۔ یہ سارے علامات وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کرتے ہیں اور اگر مریض کو بروقت مناسب علاج نہ ملے تو وہ کسی جرم کی پاداش میں قانون کی گرفت میں بھی آسکتا ہے۔ یا کسی ہسپتال برائے امراض نفسیات میں داخل ہو سکتا ہے۔ یا پھر وہ مینیا (Mania) سے نکل کر ڈپریشن میں چلا جاتا ہے اور اس میں درج ذیل علامات ظاہر ہو جاتی ہیں۔

یہ سبھی علامات بیک وقت ایک مریض میں نہیں پائی جاسکتی ہیں۔ علامات کا کم یا زیادہ ہونا، مریض کی شخصیت پر منحصر ہے۔ ڈپریشن کے اپسوڈ میں مبتلا مریض کو ہر وقت ہر طرف صرف غم کے بادل چھائے ہوئے نظر آتے ہیں اور مینک اپسوڈ (Manic Episode)میں اسے ہر وقت خوشی ہی خوشی نظر آتی ہے۔ محمد انور کا بیٹا، عرفان انور بائی پولر ڈس آرڈر بیماری میں مبتلا تھا۔ ایسے بیماروں کو ماہر امراض نفسیات کے علاج کی ضرورت ہے۔ ایسے مریضوں کو کسی خاص مدت کے لئے اسپتال میں بھی بھرتی کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے اور انہیں ایک طویل مدت تک ادویات کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ ایسے مریض کی حالت بالکل دربار مو کی طرح ہوتی ہے۔ ان مریضوں میں ’’موڈ موو‘ ہوتا ہے۔ وہ سال کے بارہ مہینوں کے دوران، چھ ماہ حد سے زیادہ ’’خوش اور گرم ‘‘ ہوتے ہیں اور چھ ماہ حد سے زیادہ ’’اُداس اور سرد‘‘ ہوتے ہیں۔ مریضوں (خاص کر جب وہ Mania میں ہوں )پر کڑی نگاہ رکھنا لازمی ہے تاکہ وہ کوئی ایسی حرکت یا فیصلہ نہ کریں جس سے بعد میں انہیں یا ان کے ’’رشتہ داروں ‘‘ کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔

ڈاکٹر نذیر مشتاق

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پھیلے ہوئے غبار کا پھر معجزہ بھی دیکھ
  • سمے کا بندھن
  • رکھیں گے دل کے قریں تم کو
  • ذہن و دل میں بیٹھ کر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کتے کی زبان
پچھلی پوسٹ
سلطان ٹیپو

متعلقہ پوسٹس

سکون کی تلاش

دسمبر 22, 2024

شاہی عظمت اور فنا کے اسرار

دسمبر 1, 2024

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

بدین میں رضا اللہ نظامانی کا قتل

ستمبر 2, 2025

مہنگائی کا طوفان اور عام آدمی کی زندگی

اپریل 2, 2026

تعلیم اور نوجوان نسل کا مستقبل

مارچ 10, 2026

امت کی تقسیم اور دارفور کا خون

اکتوبر 30, 2025

لوگ کہتے ہیں کہ بیکار محبت کی ہے

جولائی 2, 2021

وقت کی قید میں

جنوری 17, 2025

چائے- پانی

دسمبر 16, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

زلف_جاناں کو سنواریں گے چلے جائیں...

دسمبر 5, 2021

میں اچها ہوں سلامت ہوں

جولائی 11, 2021

قسط وار ناول بہرام: دوسری قسط

اگست 7, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں