خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکبھی خوشی کبھی غم
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریر

کبھی خوشی کبھی غم

از سائیٹ ایڈمن مئی 25, 2024
از سائیٹ ایڈمن مئی 25, 2024 0 تبصرے 109 مناظر
110

محمد انور میرے مطب میں میرے سامنے کھڑا تھا۔ اس کا بیٹا کرسی پر بیٹھا سرجھکائے کسی گہری سوچ میں گم تھا۔ محمد انور کی پلکوں پر آنسو لرز رہے تھے اور چہرے پر بے بسی اور پریشانی کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ اچانک اس کے ہونٹ ہلنے لگے ….اس کی آواز جیسے دور کہیں دور سے آ رہی تھی ’’ڈاکٹر صاحب، میرے بیٹے نے مجھے خاک میں ملا دیا۔ اس نے مجھے کہیں کا نہ رکھا، مجھے بادشاہ سے گدا بنا دیا….چھ ماہ پہلے یہ لڑکا زندگی کی لیلیٰ سے مجنوں کی طر ح عشق کرتا تھا ہر وقت کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتا تھا، ہر پل خوشی کے گیت گاتا اور شادمانی کے جھولے جھولتا رہتا تھا۔ صرف چار گھنٹے نیند کی بانہوں میں جھولنے کے بعد، صبح تازہ دَم اٹھ کر خوب پیٹ بھر کر ناشتہ کرتا اور دن بھر پھرتی چستی سے ہر کام انجام دیتا تھا، ہر کسی کے ساتھ ’اچھا‘ سلوک اور ہنسی مذاق کرتا تھا۔ اونچے اونچے سپنے دیکھتا اور آسمان سے تارے توڑ دلانے کے وعدے کرتا تھا۔ کہتا تھا کہ و ہ صرف ایک دو ماہ میں کروڑوں کا منافع حاصل کرے گا۔ اس نے مجھے اتنے پیار اور اعتماد سے سپنے دیکھائے کہ میں نے بنا سوچے سمجھے اپنی ساری پونجی اس کے حوالے کر دی اور اس نے بڑے پیمانے پر کاروبار شروع کیا….میری اُمید کے مطابق وہ ’’شاہراہِ تجارت ‘‘ پر بڑی تیزی سے دوڑنے لگا۔ ہر کوئی اس کی محنت اور لگن دیکھ کر یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا کہ یہ لڑکا کاروباری حلقوں میں جلد ہی ایک اونچا مقام حاصل کرے گا….میں بھی اس کی کارکردگی سے مطمئن تھا اور اندر ہی اندر خوش ہو رہا تھا کہ میرا بیٹا زندگی کی دوڑ میں بہت آگے نکل جائے گا….مگر….میرے سپنوں کا شیش محل چُور چُور ہوا۔ جب ایک ماہ قبل میں نے دیکھا کہ اس نے کا م میں دلچسپی لینا چھوڑ دیا اور وہ ہر وقت اُداس رہنے لگا ہے۔ کھانے پینے، دسروں سے ملنے جلنے میں اس کی دلچسپی ختم ہو گئی۔ وہ زیادہ تر وقت اپنے کمرے میں گذارنے لگا۔ صبح کے وقت بسترے سے نکلنے کا نام ہی نہیں لینے لگا۔ ہر وقت صرف ’’کبھی خوشی کبھی غم تارا رم پم پم‘‘ گنگنانے لگا۔ میرے پوچھنے پر کہ تم ہر وقت یہی ایک گیت کیوں گنگناتے ہو، کچھ اور کیوں نہیں کرتے، آخر وجہ کیا ہے ؟ تو جواب ملتا ’’زندگی یہی ہے کبھی خوشی کبھی غم‘‘۔

جب اس نے کاروبار کی طرف توجہ دینا چھو ڑ دیا تو میں نے سوچاشاید وہ ہم سے ناراض ہوا ہے یا اسے کاروبار کے لئے مزید رقم کی ضرورت پڑی ہو۔ میں نے ایک دوست سے کچھ رقم اُدھار لے کر اس کے سامنے رکھ دی مگر اس نے یہ کہہ کر وہ رقم لینے سے صاف انکار کیا ’’ میں ایک نکمّا، نالائق اور نا اہل انسان ہوں، میں اب کچھ نہیں کرسکتا ہوں، اب ڈوب گیا ہوں۔ میں گناہگار ہوں، اب مجھے اپنے ہر گناہ کی سزا ملے گی، اب مجھے خدا بھی معاف نہیں کرے گا….اب میں کسی کے لئے کچھ نہیں کرسکتا ہوں۔ اب مجھے مر جانا چاہئے، اب صرف موت ہی میرے غموں کا علاج ہے ‘‘۔ اس کے بعد وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا ‘‘۔

میں حیران و پریشان ہوا اور میں نے چند دوستوں اور رشتہ داروں سے اس بارے میں بات کی۔ کسی نے کہا ’’ اسے نظر لگ گئی ہے ‘‘۔ کسی نے کہا ’’ وہ کم عمری میں اتنا بڑا کاروبار سنبھال نہ سکا، اس پر بوجھ پڑا اور وہ ٹوٹ گیا‘‘۔ کسی نے کہا ’’ وہ بہانے بازی کرتا ہے ‘‘۔ کئی رشتہ داروں نے اس کی ماں سے کہا کہ ’’دشمنوں نے تعویذ کئے ہیں ‘‘ …. ہم اسے پیروں فقیروں کے پاس لے گئے۔ انہوں نے تعویذ دیئے، دَم کیا ہوا پانی دیا، سر اور سینے پر مالش کے لئے مٹی دیدی، طرح طرح کے نسخے دیئے مگر اس کی حالت میں سدھار آنے کے بجائے بگاڑ آتا گیا…. اب آپ دیکھئے کس طرح کرسی پر سرجھکائے بیٹھا اپنے خیالوں میں گم ہے ….میرے ایک تعلیم یافتہ دوست نے مجھ سے کہا کہ یہ کسی ذہنی بیماری میں مبتلا ہے۔ اس نے مجھے مشورہ دیا تھا کہ میں اسے ’’مینٹل ہاسپیٹل‘‘ لے جاؤں یا کسی سائیکٹریسٹ کو دکھاؤں مگر….مجھے نہیں لگتا کہ یہ ’’پاگل‘‘ ہے۔ آپ کے بارے میں سنا ہے کہ آپ مریض کے ساتھ اچھی طرح بات کرتے ہیں اس لئے آپ مجھے مشورہ دیں کہ مجھے کیا کرنا چاہئے۔ کیا میرا بیٹا بیمار ہے یا ….‘‘ یہ کہہ کر محمد انور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا‘‘۔

میں نے اسے تسلی دی اور اسے تھوڑی دیر کے لئے چیمبر سے باہر جانے کا مشورہ دیا۔

اب میں نے کرسی پر بیٹھے ہوئے نوجوان سے پوچھا ’’تمہارا نام کیا ہے ؟‘‘ ’’ عرفان انور‘‘ اس نے دھیمی آواز میں جواب دیا ’’ کیا کام کرتے ہو؟‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔

’’کچھ بھی نہیں ….کبھی خوشی کبھی غم تارا رم پم پم‘‘ اس نے جواب دیا اور اپنی قمیض کی جیب میں کچھ ٹٹولنے لگا۔

’’کیا ڈھونڈ رہے ہو‘‘۔ میں نے پوچھا

’’اپنے آپ کو ڈھونڈ رہا ہوں ‘‘۔

’’مجھے لگتا ہے اس بھری دنیا میں کہیں کھو گیا ہوں ‘‘۔ اس نے کاغذ کا ایک پرزہ میری طرف بڑھایا۔ میں نے کاغذ کا پرزہ کھولا….

’’یہ تو کورا کاغذ ہے ‘‘ میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔

’’میری طرح‘‘۔ اس نے مختصر سا جواب دیا اور پھر سے سرجھکائے گنگنانے لگا ’’ کبھی خوشی کبھی غم ….‘‘

میری دلچسپی کا کینواس وسیع تر ہوتا گیا اور میں نے مریض اور اسکی بیماری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ میں نے اسے یہ تاثر دیا کہ میں اس کا ہمدرد دوست ہوں اور اس کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے تفصیل کے ساتھ اس کے ساتھ بات چیت کی۔ اس کی زندگی کے ہر شعبے میں جھانک کر دیکھا اور تشخیص دینے میں کامیاب ہوا کہ وہ ایک ذہنی بیماری میں مبتلا ہے جس کے لئے اسے طویل مدت تک ادویات کے علاوہ سائیکوتھراپی کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ اتنی دیر میں محمد انور واپس لوٹا اور میں نے اسے سمجھایا کہ اس کا بیٹا کس مرض میں مبتلا ہے اور اسے کیا کرنا ہے۔

ڈپریشن ایک ایسی بیماری ہے جس میں کوئی بھی انسان زندگی کے کسی بھی موڑ پر مبتلا ہو سکتا ہے۔ یہ بیماری بلا لحاظ مذہب و ملت، رنگ ونسل، سماجی رتبہ، تعلیمی قابلیت، کسی بھی فرد کو اپنی گرفت میں لے سکتی ہے۔ اس بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد مریض کے جسم کے علاوہ اس کی مزاجی کیفیت اور خیالات بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ مریض کا طرز زندگی، طرزِ فکر، طرز خوردو نوش بدل جاتا ہے اور مریض سماجی علیحدگی اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ڈپریشن کی کئی قسمیں ہیں۔ ایک قسم کی ڈپریشن کا نام بائی پولرموڈڈس آرڈر (Bipolor Mood Disorder)، اسے پہلے مینک ڈپریسو سائکوسس (MDP)کہا جاتا تھا۔

گو کہ ڈپریشن کی یہ قسم باقی اقسام سے کم پائی جاتی ہے لیکن پھر بھی ہمارے سماج میں اس بیماری کی شرح (نوجوانوں میں) اچھی خاصی ہے۔ اس بیماری میں مبتلا نوجوان ’’کبھی خوشی ‘‘ اور ’’کبھی غم‘‘ کا اظہار کرتے ہیں۔ جب وہ حد سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں تو وہ مینیا (Mania)میں ہوتے ہیں۔

مینک اپسوڈ (Manic Episode) میں مبتلا مریض متذکرہ بالا علائم میں سے کسی علامت کا اظہار کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو وقت کا بادشاہ سمجھتا ہے اور و ہ کچھ بھی کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ اسے اپنی قابلیت پر فخر ہوتا ہے اور وہ یہ سوچتارہتا ہے کہ وہ اپنی قابلیت کی بناء پر ساری دنیا کو فتح کرسکتا ہے۔ وہ اپنی دولت بے دردی سے لٹاتا ہے اور اسے کوئی افسوس بھی نہیں ہوتا ہے۔ اسکی جنسی خواہش بلندیوں کو چھو لیتی ہے اور وہ اس دوران جنسی بے راہ روی کا بھی شکار ہو سکتا ہے۔ وہ ایسے عقائد و ارادوں کا اظہار کرتا ہے کہ سننے والا حیران رہ جاتا ہے۔ یہ سارے علامات وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کرتے ہیں اور اگر مریض کو بروقت مناسب علاج نہ ملے تو وہ کسی جرم کی پاداش میں قانون کی گرفت میں بھی آسکتا ہے۔ یا کسی ہسپتال برائے امراض نفسیات میں داخل ہو سکتا ہے۔ یا پھر وہ مینیا (Mania) سے نکل کر ڈپریشن میں چلا جاتا ہے اور اس میں درج ذیل علامات ظاہر ہو جاتی ہیں۔

یہ سبھی علامات بیک وقت ایک مریض میں نہیں پائی جاسکتی ہیں۔ علامات کا کم یا زیادہ ہونا، مریض کی شخصیت پر منحصر ہے۔ ڈپریشن کے اپسوڈ میں مبتلا مریض کو ہر وقت ہر طرف صرف غم کے بادل چھائے ہوئے نظر آتے ہیں اور مینک اپسوڈ (Manic Episode)میں اسے ہر وقت خوشی ہی خوشی نظر آتی ہے۔ محمد انور کا بیٹا، عرفان انور بائی پولر ڈس آرڈر بیماری میں مبتلا تھا۔ ایسے بیماروں کو ماہر امراض نفسیات کے علاج کی ضرورت ہے۔ ایسے مریضوں کو کسی خاص مدت کے لئے اسپتال میں بھی بھرتی کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے اور انہیں ایک طویل مدت تک ادویات کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ ایسے مریض کی حالت بالکل دربار مو کی طرح ہوتی ہے۔ ان مریضوں میں ’’موڈ موو‘ ہوتا ہے۔ وہ سال کے بارہ مہینوں کے دوران، چھ ماہ حد سے زیادہ ’’خوش اور گرم ‘‘ ہوتے ہیں اور چھ ماہ حد سے زیادہ ’’اُداس اور سرد‘‘ ہوتے ہیں۔ مریضوں (خاص کر جب وہ Mania میں ہوں )پر کڑی نگاہ رکھنا لازمی ہے تاکہ وہ کوئی ایسی حرکت یا فیصلہ نہ کریں جس سے بعد میں انہیں یا ان کے ’’رشتہ داروں ‘‘ کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔

ڈاکٹر نذیر مشتاق

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • گرد اپنی اتارتا ہوں ذرا
  • رکھیں گے دل کے قریں تم کو
  • نُطفہ
  • خنک شہرِ ایران
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کتے کی زبان
پچھلی پوسٹ
سلطان ٹیپو

متعلقہ پوسٹس

فطرت کے دامن میں خاموش جذبات

نومبر 24, 2024

دوست کی شادی – خوشیوں کا سفر

مارچ 19, 2026

شیخ رشیدسے گزارش ہے

اپریل 23, 2020

تعارف کا دوسرا قدم

دسمبر 16, 2025

خط اور اُس کا جواب

فروری 1, 2020

امین جالندھری کا ” شہر نامہ دوم”

اپریل 5, 2026

رخِ مصطفیٰ ﷺ ہے صحیفہ ہمارا

اکتوبر 24, 2025

کبھی سنی ہے بھڑکتے الاؤ کی آواز ؟

جنوری 29, 2020

تجھ سے مَیں ہونے والی محبّت

مئی 10, 2024

بہت سر سبز جو تم نے شجر رکھا ہوا ہے

دسمبر 14, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بھنور میں جتنے سہارے کھڑے دکھائی...

مارچ 28, 2022

گڈریا

جنوری 17, 2020

جب دُکھ یاد آئے , شعر...

اپریل 24, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں