100
بڑی مشکل تھی آسانی سے پہلے
یہ دریا برف تھا پانی سے پہلے
شعورِ جذبِ جسمانی سے پہلے
بہت خوش تھا میں نادانی سے پہلے
مری شاخوں پہ آنکھیں ہی نہیں تھیں
ترے لمسِ خیابانی سے پہلے
تمھاری دیویاں بھی محترم تھیں
مری آنکھوں میں عریانی سے پہلے
ہمارے ہاتھ میں پگھلا تھا لوہا
طلسماتِ سلیمانی سے پہلے
کشادہ ظرف دے ربِ محبت
محبت کی فراوانی سے پہلے
مجھے دیوار و در پہچانتے ہیں
میں گھر والا تھا مہمانی سے پہلے
کھنڈر کے سارے دروازے تھے چھوٹے
مرے شوقِ حدی خوانی سے پہلے
علی صابر رضوی
