105
باہر کا دروازہ بھی ہم درد نہیں
جب تک گھر کے اندر کوئی مرد نہیں
جتنی شیش محل سے نکلی آتی ہے
ریگستانوں میں بھی اتنی گرد نہیں
جن لمحوں میں آوازیں جم جاتی ہیں
ان لمحوں میں دل کا لہجہ سرد نہیں
اک دن مجھ کو آئینے نے بتلایا
دنیا میں تجھ ایسا کوئی فرد نہیں
پیڑ نمو خیزی سے باز نہ آئیں گے
جب تک ہم چشموں کا پانی زرد نہیں
یہ دریا کوزے میں بند نہیں ہوتا
یہ شعروں میں ڈھلنے والا درد نہیں
کہساروں سی باتیں کرنے والوں میں
اب کوئی فرہاد سا بھی پامرد نہیں
فاختہ جن سے رستہ پوچھتی رہتی ہے
وہ جگنو ان باغوں کے پرورد نہیں
علی صابر رضوی
