399
بس اور کچھ نہیں
مجھے تم سے اب محبت نہیں رہی
کسی اور سے ہو گئی ہے
مگر تم غم نہ کرنا
مجھ میں خوفِ خدا ہے
میں تلافی کر وں گا
میں تمھارے نام ایک پلاٹ کر دوں گا
سونے کے ڈھیر سارے زیورات دلواؤں گا
ذیئزائنر کپڑوں کے ڈھیر لگا دوں گا
کتابوں کے آن لائن آرڈر بک کروادوں گا
تم جو کہوں گی وہ دلا دوں گا
بولو کیا مانگتی ہو ؟
اس نے بوتل میں بھرے وہ رنگ برنگے پتھر
جو محبت کے نرم دنوں میں دونوں نے اکھٹے کئے تھے
اس کے آگے کر دئے اور چٹان سی سختی سے بولی
ان پتھروں کو پہلے جیسا نرم کر دو ۔۔۔۔۔
روبینہ فیصل
