خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابااب بھی جلتا شہر بچایا جا سکتا ہے
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزحیات عبداللہ

اب بھی جلتا شہر بچایا جا سکتا ہے

حیات عبد اللہ کا اردو کالم

از حیات عبد اللہ مارچ 5, 2020
از حیات عبد اللہ مارچ 5, 2020 0 تبصرے 510 مناظر
511

اب بھی جلتا شہر بچایا جا سکتا ہے

عارضوں اور مصائب کا ایک ہجومِ بے کراں ہے جس سے بدن کی اینٹیں چٹخنے لگی ہیں ۔ مسلم علاقوں میں تباہی مچا دی گئی ہے ۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے غنڈوں نے 42 سے زائد مسلمانوں کو شہید کر دیا ۔ ہندو بلوائیوں نے قرآن مجید شہید کر ڈالے، مساجد کو آگ لگا دی اور ایک مسجد کے منار پر ہنومان کا جھنڈا لہرا کر اشوک نگر کو اشک نگر بنا ڈالا ۔ مسلمانوں کی آنکھوں میں سلاخیں سَروں میں ڈرل مشین تک چلا دی ہے ۔ بھارت کا یہ بھیانک چہرہ اچانک ہی نمودار نہیں ہوا ۔ گذشتہ 72 سالوں سے کشمیری اور بھارتی مسلمان، ہندو استبداد کا شکار ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اُوتے نپوتے ہیں ;238; کیا ہماری سیاست بانجھ ہو گئی ہے;238; کیا ہمارا میڈیا گونگے کا گُڑ کھا کر زبان کے ساتھ شعور کو بھی ساکت وجامد کروا بیٹھا ہے;238; کیا انسانی اقدار اپنا معیار کھو چکی ہیں ;238; کیا تہذیب وتمدّن کے معمار، انسانیت کے وقار کی مقدار اتنی پست اور قلیل کر چکے ہیں کہ گائے ذبح کرنے کے محض شبہے میں مسلمانوں کو قتل کر دیا جائے اور دردوکرب میں ملفوف کوئی حروفِ احتجاج بلند کرنے والا بھی نہ ہو ۔ کوئی سرزنش، کوئی ڈانٹ ڈپٹ اور دھونس دھمکی کے لیے بھی لبوں کو جنبش دینے پر آمادہ نہ ہو ۔ کیا ہم نے خود سپردگی بلکہ خود اذیتی کی انتہاؤں کو چُھو لیا ہے;238; 72 سالہ تاریخ گواہ ہے کہ ہم خود کو بھارت کے ساتھ دوستی کی لت میں مبتلا رکھتے رہے ہیں ۔ ہم خود کو بڑے ذوق شوق کے ساتھ مذاکرات کی دراز زلفوں میں الجھاتے رہے ہیں ۔ آؤ! سچ بولیں ، آئیں اب موقع ہے کہ بھارتی ظلم کی ہنڈیا کو بیچ چوراہے میں پھوڑ ڈالیں ۔ قتیل شفائی نے کیا خوب کہا تھا ۔

سکوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر

یہی ہے موقعِ اظہار، آؤ سچ بولیں

ابھی کچھ عرصہ قبل جھاڑ کھنڈ میں ہندو انتہا پسندوں نے گائے ذبح کرنے کی پاداش میں دو مسلمانوں کو درخت پر لٹکا کر پھانسی دے دی تھی ۔ جنوبی بھارت کے علاقے کرناٹک میں ایک شہری اپنی وین میں گائے لے کر جا رہا تھا کہ محض اس’’جرم‘‘ کی پاداش میں اسے قتل کر دیا گیا تھا ۔ نئی دہلی میں محمد اخلاق نامی ایک مسلمان کو گائے ذبح کرنے کے شبہے میں قتل کیا جا چکا ہے ۔ بھارت کی 29 میں سے 24 ریاستوں میں گائے ذبح کرنا جرم ہے ۔ جموں کشمیر مسلمانوں کا ہے مگر گائے ذبح کرنے پر قدغن عائد ہے ۔ 2011 میں گائے ذبح کرنے پر سات سال قید کی سزا تھی مگر بھارتی ریاست گجرات کی اسمبلی میں قانون سازی کی جا چکی ہے کہ گائے ذبح کرنے پر عمر قید کی سزا ہو گی ۔ شام سات سے صبح پانچ بجے تک گائے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے پر پابندی ہے ۔ یہ تو کچھ بھی نہیں سبرا مینم سوامی نے راجیا سبھا میں ’’گاؤ تحفظ بل‘‘ بھی پیش کر دیا تھا کہ گائے کو ذبح کرنے پر موت کی سزا کا قانون بنایا جائے گا ۔ اس قانون کے بغیر بھی گائے ذبح کرنا تو دُور کی بات، محض اس کے شبہے پر ہی مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے ۔ بجرنگ دَل کے شدّت پسند سہارن پور کے نعمان کو گائے ذبح کرنے کے جرم میں قتل کر چکے ہیں ۔

ہیومن راءٹس واچ بھی کہتی ہے کہ مودی حکومت اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے ۔ اگر ایک جانور ذبح کرنا اتنا سنگین جرم ہے تو کسی انسان کے قتل کی سزا کتنی سخت ہونی چاہیے;238; ہندوگائے کو ماں بھی کہتا ہے اور اس کا دودھ تمام عمر پیتا ہے ۔ کیا وہ اپنی عمر کے ہر حصّے میں اپنی سگی ماں کا دودھ بھی پی سکتا ہے;238; وہ گائے کا پیشاب بھی نوش کرتا ہے، مگر اپنی سگی ماں کا پیشاب پینا پسند نہیں کرتا ۔ اسے آپ جملہ ئمعترضہ کہ لیجیے لیکن ہندوؤں کے کرداروعمل اور سوچ وفکر کے یہ تضادات اُن کی چھاتی پر سوالیہ نشان ضرور ثبت کرتے ہیں ۔ المیہ یہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے وقت قائدِ اعظم کے ساتھی مسلم سیاست دان ہندوؤں سے علاحدگی اور جدائی کے لیے قربانیاں دے رہے تھے ۔ اس کام کے لیے دس لاکھ سے زائد مسلمانوں نے اپنی جانیں قربان کیں مگر آج کے سیاسی زعما انھی ہندوؤں کے ساتھ یاری پالنے، دوستی اور تجارت کے مراسم قائم کرنے پر بہ ضد ہیں ۔

جس نے سمجھا ہو ہمیشہ دوستی کو کاروبار

دوستو! وہ تو کسی کا دوست ہو سکتا نہیں

اگر ہماری سیاست صاحبِ اولاد ہے، اگر ہماری فکروفن کی سطح پر کائی نہیں جم گئی اور اگر ملک وملت کے ساتھ ہماری وابستگی میں دراڑیں نہیں پڑ چکیں تو آئیے! میں سیکولر بھارت کی پوٹلی میں لپٹی محدود، متعفّن اور متعصّبانہ سوچ اور فکر کے درشن کرواؤں ۔ میں اس پوٹلی کا ذرا سا منہ کھولنے لگا ہوں ۔ الفاظ یہ ہیں کہ’’ میں وعدہ کرتا ہوں کہ جو کوئی وندے ماترم کہنے میں پس وپیش کرے گا، جو کوئی بھارت کی جے کہنے میں دکھ محسوس کرے گا، جو کوئی گائے کو اپنی ماتا نہیں سمجھے گا اور جو کوئی گائے کو ہلاک کرے گا، میں اس کے ہاتھ پاؤں توڑ ڈالوں گا‘‘

شکستہ اور محدود سوچ پر مشتمل یہ الفاظ کسی عام شخص کے نہیں بلکہ بی جے پی کے وکرم سائنی کے منہ سے برآمد ہو چکے ہیں ۔ یقیناً ہم نپوت نہیں ، لاریب ہمارے بے شمار پُوت ہیں اور ان میں سے چند پُوت ہی کپُوت ہوں گے، باقی سارے سپُوت ہیں ۔ پھر آخر کیا وجہ ہے کہ بھارت کی کسی شعلہ نوائی اور ظلم وجبر کا تُرت جواب نہیں دیا جاتا;238; صادق حسین ایڈووکیٹ نے کیا خوب صورت اور نوید افزا اشعار کہے تھے ۔

تُو سمجھتا ہے حوادث ہیں ستانے کے لیے

یہ ہُوا کرتے ہیں ظاہر آزمانے کے لیے

تندیِ بادِ مخالف سے نہ گبھرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

دہلی کے گلی کوچوں میں آج’’ہ میں بچا لو پاکستان‘‘کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں ۔ ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے تو اپنی آنکھوں کے کُوئے اور پلکوں کی منڈیروں پر اشک سجا کر تو احساسِ زیاں کا ثبوت دے سکتے ہیں ۔

پانی آنکھ میں بھر کر لایا جا سکتا ہے

اب بھی جلتا شہر بچایا جا سکتا ہے

مگر پتھر دلوں میں تو کسی ایک احساس کی بھی رمق پیدا نہیں ہوا کرتی ۔ اس لیے اے بھارتی اور کشمیری مسلمانو! ابھی تم جبرواستبداد کی چکّی میں پِستے رہو، ابھی ہ میں صدائیں مت دو! ابھی ہم بہت مصروف ہیں ، ابھی ہم نے سابق حکمرانوں سے لُوٹی ہوئی خطیر رقم واپس لینی ہے ۔ ہ میں تو ابھی مہنگائی کے عفریت کو بھی ختم کرنا ہے، ابھی تو ہم نیا پاکستان تخلیق کرنے میں بے حد مصروف ہیں ۔ ہم نے ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر بھی تو دینے ہیں سو ابھی ہمارے پاس وقت کہاں ;238; ابھی ہم نے آئی ایم ایف سے قرضہ نہ لینے کے خواب کو عملی شکل دینی ہے ۔ اے بھارتی اور کشمیری مسلمانو! ابھی ظلم سہتے رہو، ابھی بھارتی تشدّد کو برداشت کرتے رہو ۔

حیات عبداللہ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اس وقت
  • روشنی
  • جلاوطن
  • کتنے سورج تراشے مگر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
حیات عبد اللہ

اگلی پوسٹ
عرش بریں پرقیام اعلیٰ ہے
پچھلی پوسٹ
وہ جان بوجھ کے مجھ کو اداس رکھتا ہے

متعلقہ پوسٹس

دوہزار بیس بھی گزر گیا!

جنوری 2, 2021

انشاء کا اعظمی کو چوتھا خط

دسمبر 2, 2019

پیکرِ خاک کب مکمل ہے

مئی 9, 2020

جو کتابِ زیست کا باب تھا

جنوری 28, 2020

تم اگر سیکھنا چاہو … مجھے بتلا دینا

اپریل 23, 2020

سولر سسٹم

نومبر 7, 2020

اکیسویں صدی کا عشق

دسمبر 30, 2019

مجرم کون

اکتوبر 3, 2024

بچھڑ کہ تجھ سے کہاں تک

اپریل 24, 2022

فادر ڈے

جون 28, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جاگیر

نومبر 14, 2021

اس کی آنکھوں پہ مان تھا...

جنوری 5, 2025

نجات

جنوری 2, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں