100
بچھڑ کہ تجھ سے کہاں تک گزار سکتی تھی
یہ بوجھ کیسے اکیلے سہار سکتی تھی
کہ عمر لگتی ہے اک آ شیاں بنانے میں
جنوں میں آ کہ یہ کیسے اجاڑ سکتی تھی
میرے غرور کی دھجیاں بکھیر کہ رکھ دیں
میں تجھے چیخ کہ کیسے پکار سکتی تھی
میرے وجود سے روشن نہ تھا وجود اس کا
بتاؤ کتنا میں خود کو سنگہار سکتی تھی
تمام عمر بھی کرتے حکومتیں دل پر
میں دل کہ تخت سے ،کیسے اتار سکتی تھی
میں دل کہ درد کی سب وحشتوں سے واقف ہوں
بسا کہ خود تجھے کیسے ، اجاڑ سکتی تھی
سلطانہ ناز
