خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباشہزاد نیر ایک آفاقی شاعر
آپکا اردو بابااردو تحاریرشہزاد نیّرؔمقالات و مضامین

شہزاد نیر ایک آفاقی شاعر

ناز بٹ کا اردو مضمون

از سائیٹ ایڈمن جنوری 21, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 21, 2020 0 تبصرے 743 مناظر
744

شہزاد نیر ایک آفاقی شاعر

میجر شہزاد نیر 29 مئی 1973 میں گوجرانوالہ کے نوا حی قصبہ گوندلانوالہ میں پیدا ھوئےابتدائی تعلیم آپ نے گوجرانوالہ سے حاصل کی۔ ایف سی کالج لاھور سے انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد عسکری ملازمت اختیار کر لی۔اور مختلف مقامات پر تعینات رھے ۔

آپ نے ایم اے اردو فرسٹ ڈویژن میں کرنے کے بعد میس کمیونیکیشن میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔
فارسی زبان ِادب میں ڈپلومہ حاصل کیا۔ آپکو عربی زبان سے بھی واقفیت ھے۔

شعر و ادب کے ساتھ رغبت کا آغاز اسکول کے زمانے سے ھی ھو گیا اور خود بخود اشعار ھونے لگے ۔ متعدد ادبی جرائد مثلاً فنون ، اوراق ، معاصر وغیرہ میں آپکا کلام شائع ھوتا رھا ۔

آپ نے ملکی و غیر ملکی ادب کے پُر شوق قاری ہیں۔ برطانیہ، فرانس، سعودی عریبیہ اور متحدہ عرب امارات کے یاد گار بین الاقوامی مشاعروں میں شرکت کی۔۔۔
ادبی تنقید اور لسانیات میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں ۔ ادبی تنقید پر آپ کے متعدد مقالے شائع ھو چکے ہیں ۔

شہزاد نیر کے مجموعہ ء کلام 

1 :

شہزاد نیر صاحب کا شاھکار نظموں پر مشتمل پہلا مجموعہ کلام "برفاب” 2006 میں شائع ھوا جس نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کئے ۔

برفاب کو بین الاقوامی ادبی تنظیم "پین ایوارڈ ” سے بھی نوازا جا چکا ھے”PEN AWARD "

چھ سالوں میں "برفاب” کے تین ایڈیشن شائع ھو چکے ہیں۔۔۔۔۔اور اس شاندار مجموعہ کلام پر درجنوں

مقالے لکھے جا چکے ہیں۔۔۔

2 :

آپکا دوسرا مجموعہ ء کلام ” چاک سے اُترے وجود” 2009 میں منظر ِعام پر آیا۔۔۔۔۔۔جو نظموں اور غزلوں پر مشتمل ھے۔

3 :

شہزاد نیر صاحب کا تیسرا مجموعہ ء کلام "گرہ کُھلنے تک ” زیر ِطبع ھے ۔۔۔

ایوارڈز کی تفصیل :

PEN International Award

صوفی غلام مصطفٰی تبسم ایوارڈ

 فیض امن ایوارڈ

ایوان ِ اقبال ایوارڈ دُبئی

پروین شاکر عکس خوشبو ایوارڈ 2009

اس کے علاوہ بہت ساری ادبی تنظیموں کی طرف سے لاتعداد اعزازی شیلڈز اور ایوارڈز سے نوازا جا چکا ھے
عصر ِ حاضر میں زود گو شعرا کے جم ِ غفیر میں اپنی ایک الگ پہچان بنانا بہت ہی مشکل کام ہے لیکن شہزاد نیر نے یہ مشکل کام بہت آسانی سے کر لیا ہے ۔

بہت کم عرصے میں شہزاد نیر نے اپنی تخلیقی توانائیوں کا لوھا منوا کر اردو شاعری میں ایسا مقام بنا لیا ہے جس کی تمنا بہت سے شاعر ساری عمر کرتے رہتے ہیں۔ مگر وہ مقام حاصل نہیں کر پاتے جو شہزاد نیر صاحب نے بہت کم عمری میں حاصل کر لیا ہے۔

شہزاد نیر کی شاعری کا ایک اور بہت ہی خوبصورت پہلو یہ ہے کہ میجر شہزاد نیر نظم اور غزل بیک وقت ان دونوں اصناف میں اپنے فن کا لوہا منوا رہے ہیں ۔ ان کی طویل نظموں "خاک” ، "سیاچن” اور ” نوحہ گر ” , نے شہرہ ء آفاق مقبولیت حاصل کی ۔

سنجیدہ ادبی حلقوں شہزاد نیر کا نام بہت احترام سے لیا جاتا ہے ۔ ان کی نظم ھو یا غزل ۔ اپنا ایک منفرد لہجہ اور مزاج ہے جو انھیں اپنے ہم عصر شعرا سے ممتاز کرتا ہے

آپکی شاعری پر درجنوں مقالے لکھے جا چکے ہیں۔۔۔۔صرف برفاب پر ھی اب تک چالیس مقالے لکھے ہیں۔

شہزاد نیر کے بارے میں احمد ندیم قاسمی صاحب لکھتے ہیں کہ 

"شہزاد نیر نوجوان شاعر ھیں مگر انہوں نے نوجوانی ھی میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوھا منوا لیا ھے۔ وہ دونوں اصناف ِ شعر ، نظم اور غزل کو سلیقے سے برتتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اُن کا جوھر بیشتر ان کی نظموں میں کھلتا ھے۔ اور وہ اپنے آس پاس کی صورتحال کا مطالعہ بہت ذھانت اور ذکاوت کے ساتھ کرتے ہیں۔ اور اس مطالعے کے فنکارانہ اظہار میں کوئی بھی مصلحت ان کی مزاحم نہیں ھوتی۔ چنانچہ ان کی شاعری کا نمایاں تاثر صداقت اور حقیقت ھے۔ وہ خواب بھی یقیناً دیکھتے ہیں۔ مگر ان خوابوں کو بھی ماورائیت کے سمندر میں ڈوبنے سے بچائے رکھتے ہیں اور یہ بہت بڑی خوبی ھے۔ "

( احمد ندیم قاسمی)

امجد اسلام امجد شہزاد نیر کے بارے میں لکھتے ہیں

” یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ھوتی ھے کہ شہزاد نیر کی بیشتر شاعری سیاچن کے علاقے کی ھے اور یہ "علاقہ ” موضوع کے ساتھ ساتھ معیار کا بھی احاطہ کرتا ھے۔ ذاتی طور پر مجھے شہزاد نیر کی نظموں نے زیادہ متاثر کیا ھے۔ انہیں نظم کی بنت کا فن اتا ھے۔ اور وہ اندرونی قافیوں اور مترنم بحروں کی مدد سے اپنی نظم میں وہ خصوصیت پیدا کرنے میں کامیاب ہیں جو قاری کو اپنے سحر میں لے کر نظم کی آخری لائن تک اپنے ساتھ ساتھ چلاتی ہیں۔ ان کی بیشتر نظموں میں سیاچن تجربے کے باعث ایک ایسی امیجری در آئی ھے جس کی مثال اردو شاعری میں بہت مشکل سے ملے گی۔ انہوں نے برف میں ایسے خوش رنگ پھول کھلائے ہیں جن سے اردو نظم کی فضا یقیناً معطر اور دلکش ھو گئی ھے ۔۔۔۔”

( امجد اسلام امجد)

اچھا شاعر ھونے سے "اچھا انسان” ھونا کہیں زیادہ اھم ھے۔ اور ایک اچھا شاعر جب بہت اچھا انسان بھی ھو تو وہ ایک ” مکمل شخصیت ” ھوتا ھے ۔
اوربلاشبہ شہزاد نیر بہت خوبصورت شخصیت ہیں۔ شہزاد نیر پاکستان کے بہت معروف اور باکمال شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بہت شائستہ مہذب ، با اخلاق اور محبت کرنے والے انسان بھی ہیں۔
آپ حسد ، کینہ ، بغض ، نفرت اور سیاسی آلودگی جیسی روایتی نفسیاتی بیماریوں سے پاک وسیع القلب اور مہربان شخصیت ہیں۔ اسی وجہ سے آپ شعرا ء ادبا ء اور قارئین میں بھی اُسی قدر مقبول ہیں۔

شہزاد نیر کی شخصیت کا انتہائی خوبصورت پہلو ان کی طبیعت کی عاجزی و انکساری ھے۔ جو کہ ان کی اعلٰی ظرفی کی دلیل ھے۔ رواداری اور مروت میں بھی شہزاد نیر اپنی ایک رائے رکھتے ہیں۔
آجکل کے دور میں جہاں لوگوں نے خود کو پرت در پرت خول میں چھپایا ھوا ھے۔ شہزاد نیر جیسے اُجلے من اُجلے چہرے کسی نعمت اور تحفے سے کم نہیں۔

شہزاد نیر جیسے خوبصورت شاعر کے تخلیقی وفور اور گہرے شعور کو دیکھتے ہوئے یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ھے کہ مستقبل قریب کے ایک لِوونگ لیجنڈ کی سِیٹ ریزرو ہو گئی ھے ۔

شہزاد نیر صاحب کے اپنے الفاظ
"دعائے استقامت ھو
میں لفظوں کی لگن لے کر چلا ھوں”
سو شہزاد نیر کے لئے دعائے استقامت ! اور بہت ساری خیر !

شہزاد نیر صاحب کے چند اشعار قارئین کی نزر

نیستی ھے کمال ھستی کا
انتہائے طرب اداسی ھے
دل میں بس دو مکین رہ پائے
پہلے اُلفت تھی اب اُداسی ھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں چُپ رھتا تو بچ سکتی تھی گردن
مگر یہ فطرت ِبے باک میری
مجھے ھی بھوک میں کھانے کو دوڑے
تمنا اس قدر سفاک میری
مرے پہلے گنہہ کے بعد نیر
بہت روئی سرشت ِپاک میری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چلتے پھرتے اسے بندش کا گماں تک نہ رہے
اُس نے انسان کو اس درجہ کشادہ باندھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلک سے رفتگاں نے جھک کے دیکھا
بساط ِ خاک سے اٹھنا ھمارا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک جگنو کو ہتھیلی سے اڑانے والے
مل نہ پائیں گے کبھی چاند ستارے تم کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سمت سمیٹوں تو بکھرتا ہے اُدھر سے
دکھ دیتے ہوئے یار نے دامن نہیں دیکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جا بجا دیکھنے پڑتے ہیں اُدھڑتے منظر
کاش اندر کو کُھلی آنکھ بھی سی لی ھوتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھولو کبھی نہ دید کا فن دیکھتے رھو
گر بھی پڑو تو خاک ِچمن دیکھتے رھو
اپنی اڑائی دھول نہ اپنے ھی سر پڑے
چلتے ھوئے ھوا کا چلن دیکھتے رھو
اُس کی طرف سے آپ ھی خود کو پکار کر
پہروں پھر اُس صدا کا بدن دیکھتے رھو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” جس تن لاگے ”
” دھمک دیتی ھوئی دھرتی
دھڑکتے دل میں آجائے
حصار ِزندگی مسمار کر ڈالے
بس اک دیوار گرنے سے
پنہ گاہیں۔۔۔۔۔۔۔عُقُوبت گاہ میں بدلیں
جو اک تعمیر ِسنگ و خِشت
خون ِدل سے ھوتی ھے
وھی آغوش ِجاں ٹوٹے
لپک کر جان کو آئے
تو کیسا وقت ھوتا ھے
تجھے محسوس کیسے ھو
کہ تیرے وقت کی ریکھا
ھماری سوئیوں کی حد سے باھر ھے
ھمارے بخت کی ریکھائیں
تیری دسترس میں ہیں!
بدن اپنے ھی ملبے کے رگ و ریشے میں دب کر
دست و بازو ، ساق و پا مفلوج کر بیٹھے
تو رسم ِجنبش ِھستی نبھانے کو
فقط آنکھیں ھی بچتی ہیں !
جو خالی پیٹ پر پتھر پڑے ھوں
اور فکر ِآب و دانہ چین کھا جائے
تو کیسے دن گزرتا ھے !
تجھے معلوم کیسے ھو
ورائے حاجت ِنان و نمک ھے تُو !
تجھے اندیشہ ء فروا نہیں ھے!
کبھی دھرتی کو لرزانا
کبھی لہریں اٹھا کر بام و سقف ِجاں گرا دینا
یہ تیرا کھیل ھی ھو گا!
فلک سے دیکھنے والے !
ھمارا کچھ نہیں بچتا
کہیں ٹوٹے ھوئے خوابوں کی جراحی نہیں ھوتی !
خدائے بے نیاز ِموسم و آب و ھوائے دل !
ھمارے دکھ تجھے محسوس کیسے ھوں ۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر چھت آسماں ھو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور بدن پر برف پڑ جائے
تو کیسے رات کٹتی ھے !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خدا وندا !!
تجھے سردی نہیں لگتی !! ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تو بنا کے پھر سے بگاڑ دے ، مجھے چاک سے نہ اُتارنا
رہوں کو زہ گر ترے سامنے، مجھے چاک سے نہ اُتارنا
تری ”چوبِ چاک “ کی گردشیں مرے آب وگِل میں اُتر گئیں
مرے پاﺅں ڈوری سے کاٹ کے مجھے چاک سے نہ اُتارنا
تری اُنگلیاں مرے جسم میں یونہی لمس بن کے گڑی رہیں
کفِ کوزہ گر مری مان لے مجھے چاک سے نہ اُتارنا
مجھے رکتا دیکھ کے کرب میں کہیں وہ بھی رقص نہ چھوڑ دے
کسی گردباد کے سامنے، مجھے چاک سے نہ اُتارنا
ترا زعم فن بھی عزیز ہے، بڑے شوق سے تُو سنوار لے
مرے پیچ و خم ، مرے زاوئیے ، مجھے چاک سے نہ اُتارنا
ترے ’ ’ سنگِ چاک“ پہ نرم ہے مری خاک ِ نم، اِسے چھوتا رہ
کسی ایک شکل میں ڈھال کے مجھے چاک سے نہ اُتارنا
مجھے گوندھنے میں جو گُم ہوئے ترے ہاتھ، اِن کا بدل کہاں
کبھی دستِ غیر کے واسطے مجھے چاک سے نہ اتارنا
ترا گیلا ہاتھ جو ہٹ گیا مرے بھیگے بھیگے وجود سے
مجھے ڈھانپ لینا ہے آگ نے، مجھے چاک سے نہ اتارنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر : ناز بٹ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مرے وجود کو موجودگی دکھاتی تھی
  • اردو شاعری کے آغاز کا پس منظر
  • ڈیجیٹل معیشت اور ہمارا بدلتا ہوا زمانہ
  • ہوا میں جلتے چراغ رکھنا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
جوتےکی نوک پر
پچھلی پوسٹ
بَلوا

متعلقہ پوسٹس

تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی حالتِ زار

اپریل 1, 2026

کیوں گفتگو میں لہجہ_تر لگ نہیں رہا

دسمبر 5, 2021

اب کوئی راہ بھی آسان نہیں دیکھنے میں

ستمبر 25, 2023

اُس نے جب مجھ کو پلٹ کر دیکھا

اپریل 15, 2020

بنتی نہیں کسی بھی طرح اِندمال سے

فروری 5, 2020

عالم بخش اور کالا ریچھ

نومبر 23, 2019

امتحانی مراکز یا واہگہ بارڈر

جون 9, 2026

کیپٹن۔عباس خان شہید

فروری 13, 2026

بے غرض محسن

دسمبر 10, 2017

سرسوں دوا بھی شفا بھی

مئی 1, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

چھوٹے گھر بڑے لوگ

جون 13, 2020

ادب،ناول اور معاشرے کا باہم اتصال

جولائی 12, 2023

شامت اعمال ہیں

جون 19, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں