خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابادوہزار بیس بھی گزر گیا!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

دوہزار بیس بھی گزر گیا!

از سائیٹ ایڈمن جنوری 2, 2021
از سائیٹ ایڈمن جنوری 2, 2021 0 تبصرے 51 مناظر
52

دوہزار بیس بھی گزر گیا!

دوہزار انیس کی آمد تک نئے سال کی آمد کی خوشی میں دنیا جہان میں بھر پور طریقے سے اجتماعی تقریبات منعقد ہوتی رہیں اور برقی قمقموں سے آنکھیں خیرہ کردینے والا چراغاں نئے سال کو خوش آمدید کہتا رہا جبکہ دوہزار بیس کو بھی کسی حد تک خوش آمدید کیا گیا لیکن دو ہزار اکیس کو یقناً اس طرح کی بھی پذیرائی ملتی مشکل دیکھائی دے رہی ہے اور دوہزار اکیس بہت خموشی سے ہمارے درمیان آموجود ہوگا ابھی ہی معلوم نہیں کہ کورونا کے شکار سے ہم میں سے کتنے لوگ نئے سال میں داخل ہوسکینگے۔ اسی طرح سے ممالک ہر نیا سال کسی نا کسی سے منسوب کرتے ہیں، کسی کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں یا پھر کسی خاص مقصدکی آگاہی عام کرنے کیلئے یا پھر کسی عہد ساز شخصیت کو خراج تحسین پیش کرنے کی غرض سے ایسا کیا جاتا رہا ہے۔دو ہزار انیس کے اختتام سے کورونا دوہزار بیس میں ساتھ آگیا اور ایسا آیا کہ جانے کا نام ہی نہیں لے رہا، کورونا صرف پاکستان میں نہیں آیا بلکہ ساری دنیا ہی اس کی لپیٹ میں ہے اور کاری ضربوں سے شدید زخم خوردہ ہے۔ پس منظر کی روشنی میں ناچاہتے ہوئے بھی ۰۲۰۲ کے سال کو کورونا سے منسوب کرتے ہیں کیونکہ ہم نا بھی کریں تو کورونا یہ کام خود کر واچکا ہے، اہم بات یہ ہے کہ سال کو کورونا سے پوری دنیا کیلئے منسوب کیا ہے ناکہ کسی خاص ملک یا خطے کیلئے۔ ایک غور طلب بات پیش خد مت ہے کہ تیسری دنیا اور چوتھی دنیا کے ممالک میں کورونا کی تباہ کاریاں اسطرح سے دیکھائی اور سنائی نہیں دیں جیسی کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں گھن گرج کیساتھ تاحال سنائی دی جارہی ہیں (اسکی وجہ یہ بھی متوقع ہے کہ تیسری اور چوتھی دنیا کے پاس وہ نقارہ نہیں کہ جس کی بدولت وہ باقی دنیا کو اپنے حالات سے آگاہ کرسکیں)،اس حقیقت سے پردہ اٹھانے کیلئے کھوج یا تحقیق شائد ابھی باقی ہے اور کرنی پڑے گی کہ تیسری چوتھی دنیا میں کورونا کیوں کارگر ثابت نہیں ہوا۔ شائد وہ یہ دیکھ کر کہ یہ تو پہلے ہی بھوک اور افلاس کے مارے ہیں اب میں انہیں بھلا کیا ماروں چھوڑ دیا ہوگا اور انسانوں کی تقسیم میں ناانصافی کا غصہ وہاں دیکھانے جم گیا جو آسائشوں کے دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔

کشمیری بلا تفریق جنس و عمر آج بھی حق خود ارادیت کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اپنی جنت نظیر وادی میں موجودقابض غاصبوں کیلئے ہر روزاپنی زندگیوں کو داؤ پر لگائے ایک نئی مشکل کھڑی کرتے چلے جا رہے ہیں وہ تقریباً پچھتر (۵۷) سالوں سے ایک ہی سال میں ٹھہرے ہوئے ہیں اور انشاء اللہ وہ بہت جلد اپنی آزادی کیساتھ نئے سال کا جشن بھی منائینگے۔ فلسطینی مسلمان تن من دھن کی بازی لگائے اسلامی تاریخ کی بقاء کیلئے برسرِ پیکار ہیں انہیں دیواروں پر لٹکے تاریخ بدلنے کے اوراق سے کوئی سروکار نہیں وہ اپنے خاکی جسموں کو مقدس سرزمین کی سلامتی کیلئے خاک میں بطور پیوند لگائے جا رہے ہیں۔ ایک طرف شام میں اقتدار کی ہوس میں مبتلاء طبقہ شامی بچوں بوڑھوں عورتوں اور جوانوں کو آگ اور خون میں جھونکے ہوئے ہے تودوسری طرف افغانستان میں مجاہدین اپنی وادیوں میں چھپ چھپ کر دشمن پر کاری وار لگارہے، انہیں نا گھروں میں رہنے والوں کی زندگیوں کی پروا ہے اور نا ہی لفظ ترقی سے کوئی شناساسائی رکھتے ہیں، یوں لگتا ہے کہ انکی کتابوں میں الگ لفظ ترقی لکھا ہے تو اسکے معنی شائد کچھ ہونگے۔ دشمن اپنے نڈھال ہونے کا اشارہ دے چکا اور تقریباً اپنے زخموں کو چاٹتا ہوا بس اب نکل بھاگنے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ظالم اپنے ظلم کی داستانیں رقم کرتا ہوا دنیا کو مختلف بحرانوں میں دھکیلتا جا رہا ہے۔ مذکورہ ممالک کی عوام کورونا کے وارد ہونے سے قبل ہی مصیبتوں کی طویل فہرست میں الجھے ہوئے ہیں۔

ہابیل قابیل سے شروع ہونے والے حادثے ہوتے ہی چلے جا رہے ہیں،ہر سال کسی نا کسی اندوہناک سانحے حادثے کا امین بنتا چلا جا رہاہے۔ کسی سال کہیں زلزلہ آتا رہا، کسی سال میں وبائی امراض پھیلتی رہیں، کسی سال سونامی نے انسانوں کو قیامت سے پہلے قیامت کا منظر دیکھا دیا، کبھی کسی ملک کے جنگلوں میں نا قابو میں آنے والی آگ لگ گئی اور کہیں تو آندھی اور طوفان نے قدرت کی طاقت کی جھلک دیکھائی غرض یہ کہ ہر سال کے ساتھ کوئی نا کوئی سانحہ کوئی حادثا رونما ہوتا رہا ہے۔ اسی طرح سے ایجادات بھی ہوتی رہیں لیکن حادثات میں نقصان ہوتا ہے اور وہ بھی انسانی جان کا نقصان اسلئے ایجادات تو زندہ لوگوں کو آسائشیں مہیہ کرتی ہیں۔ موت بر حق ہے اور اس نے ہر ذی روح جس نے دنیا میں آنکھ کھولی اسکو ساتھ لے جانا ہے، لیکن دوہزار بیس میں صرف امریکہ میں ابتک تین لاکھ سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں (علاوہ طبعی اور دیگر امراض میں مرنے والوں کے)اور یہ وہ امریکہ ہے جو خود کو دنیا کے حاکم کہتے ہیں آسان لفظوں میں دنیا میں ان سے زیادہ کوئی طاقتور نہیں، اب خود ہی انکی طاقت کا اندازہ لگا لیجئے۔ برطانیہ کو لے لیجئے یہ بھی کورونا سے متاثر ہونے ممالک کی پہلے دس کی فہرست میں شامل ہے اور جہاں اب کورونا نے اپنی کاروائی بھی شدت پیدا کردی ہے جس کی وجہ سے تقریباً دنیا نے برطانیہ سے اپنے ہوائی، بری اور بہری روابط منقطع کردئیے ہیں تاکہ کورونا کا نیا روپ برطانیہ سے نا نکل سکے (جبکہ ابھی یہ مضمون لکھتے ہوئے ہی سماجی ابلاغ پر خبر چلنا شروع ہوئی ہے کہ برطانیہ والا کورونا پاکستان پہنچ چکا ہے جسکی تصدیق تین برطانیہ سے آئے ہوئے پاکستانیوں میں ہوئی ہے)۔ ابھی یہ سلسلہ تھما نہیں ہے کورونا سے بچاؤ کی ویکسین بھی تقریباً مکمل ہوچکی ہے اور آزمائشی عمل سے گزر رہی ہے قوی امکان ہے کہ نئے سال کا اس ویکسین سے بڑا کوئی تحفہ نہیں ہوسکتا۔دوسری طرف سماجی ابلاغ پر کہیں کہیں ویکسین کے منفی اثرات کا پرچار بھی کیا جارہا ہے جو کہ ابھی تک منظر عام پر نہیں آسکا ہے اور محققین اس کی تائد و تردید کرنے سے قاصر دیکھائی دیتے ہیں۔ انسان کسی بھی عقیدے مذہب یا کسی بھی حسب نسب سے تعلق رکھتا ہو پیدا وہ مرنے کیلئے ہی ہوا ہے۔ دنیا کے وجود میں آنے سے اب تک لاتعداد انسانوں نے اس زمین پر اپنی زندگیاں بسر کیں لیکن ایک مکمل فہرست جو یقینا طویل ضرور ہوسکتی ہے جو ان اشخاص پر مشتمل ہوگی جنہوں نے دنیا میں اپنے آنے اور ہونے کی وجہ چھوڑی۔ ایسے ہی باشندے جو عہدے کورونا میں کچھ کورونا کی نظر ہوئے اور کچھ اپنی طبعی موت پیوند خاک ہوئے۔اس ہی سال میں ایسے نایاب گوہروں کی بھی کال پڑتی محسوس کی جارہی ہے جوو اس دار فانی سے کوچ کر گئے علم کو یتیم مسکین کر گئے اودنیا کو سوگوار چھوڑ گئے۔ یقینا انسانیت کورونا سے خوفزدہ ہے۔تقریبا ایک سال سے زیادہ کے عرصے کے بعد بھی ہم اس حقیقت کو حقیقت تسلیم نہیں کر رہے۔

ہم پاکستانیوں کیلئے سال ودہزار بیس (۰۲۰۲) اس لئے بہت اہم تھا کیونکہ اس میں ٹی ٹوئینٹی کے عالمی مقابلے منعقد ہونے تھے یعنی ٹوئنٹی ٹوئنٹی کا عالمی کپ اور سال بھی ٹوئنٹی ٹوئنٹی۔ اگر دنیا کی بات کی جائے تو انگنت تقریبات اور مختلف کھیلوں کے مقابلے جو دوہزار بیس میں منعقد ہونا طے تھے کا انعقاد ممکن نہیں ہوسکا۔ کھیل کے میدان سے اسکولوں کے کمروں تک سب طرف ایک خوف ایک ہراس کی اجارہ داری رہی۔

بظاہر گزرنے والا پورا سال ہی سوگ اور آسودگی میں ملبوس رہا لیکن راستہ بنانے والوں نے اللہ کی مدد سے راستے بنا ہی لئے اور شائد پہلی دفعہ تکنیکی ایجادات کا سہی مقصد دیکھائی دیا۔سوائے ایک گھر میں مقیم افراد کے تقریباً طبعی ملاقاتوں کا سلسلہ موقوف ہوگیا، زندگی مفلوج ہوتی محسوس کی جانے لگی پھر آہستہ آہستہ آن لائن ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا، اور اس سلسلے کو ایسی تقویت ملی کہ تقریباً اہم ترین ملاقاتوں کیلئے بھی اس طریقے کو ہی ترجیح دی گئی، جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ اقوام متحدہ کے اجلاس کیلئے اور بھی بہت سارے اجلاس اسی طرح سے ترتیب دئے گئے۔ یہ وہ سلسلہ ہے کہ جس کی بدولت علم والوں کو بہت فروغ ملا ادب کی محافلیں بھی کچھ توقف کے بعد جو آن لائن شروع ہوئی ہیں تو پھر پلٹ کر نہیں دیکھا یعنی شائد طبعی طور پر نا تو اتنے پروگرام ترتیب دئے جا سکتے تھے جتنے کے اب آن لائن منعقد ہورہے ہیں۔ آن لائن کی بدولت پروگراموں پر ہونے والے اخراجات تو تقریباً ختم ہی ہوگئے ہیں وہیں ان ادبی سفید پوش لوگوں کو بہت نقصان پہنچا ہے کہ جن کا گزر بسر مشاعرے پڑھنے کیلئے ملنے والی رقم سے ہوتا تھا۔ آن لائن واحد کورونا کا مثبت پہلو ہے۔دوہزار انیس کے آخیر میں شروع ہونے والا کورونا اب ساری دنیا کو اپنے حصار میں جکڑے ہوئے ہے۔ دولت کی دوڑ میں اندھا دھند بھاگنے والے، علم کے آلاؤ کو مزید بھڑکانے والے سب کے سب دوہزار بیس میں مدھم ہوتے آلاؤ کو دیکھ دیکھ کر گزارتے رہے۔ یقینا دنیا نے اپنے سفر کی رفتار میں خاطر خواہ کمی کردی لیکن یہ سفر تھما نہیں کہیں نا کہیں کچھ نا کچھ ہوتا رہا، انسانوں نے اپنے خالق سے کچھ وقت کیلئے تو خوف کھایا، ڈرے، سہمے اور قریب تھے کہ اپنے کائنات کے تخلیق کار کو پہچان لیتے لیکن پھر اسی خالق کے عطاء کردہ علم کی مرہون منت طرز زندگی تبدیل کر لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ آن لائن ہوگیا۔ عددوں کی گنتی میں تبدیلی ایک بار پھر آنے والی ہے دیواروں پر لٹکے اور میزوں پر طاقوں میں رکھے کلینڈر تبدیل ہونے والے ہیں اور معلوم نہیں کہ کہیں تو پچھلے کئی سالوں سے تبدیل ہی نہیں ہوا ہے۔

ممکن ہے کہ یہ مضمون مطلوبہ احداف حاصل نا کر سکا ہو لیکن جتنا بھی ہے بہت ہے۔ پر امید ہوں کہ نئے سال میں ہم کورونا سے نجات حاصل کر لینگے اور نیا سال دنیا کیلئے کوئی نہیں آزمائش نہیں لائے گا۔ابھی بہت کچھ باقی تھا لیکن اسے اگلے سال کیلئے محفوظ کر لیا ہے اگرمیسر ہوا تھا تو اگلے سال میں نئے جوش و نئے امکانات کیساتھ ملینگے۔ انشاء اللہ

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ایک تحریر کا مختصر جواب
  • مشرقی عشق اور شاطر شرفا
  • فلک کے پار اڑانوں کی
  • سورہ الکوثر (منظوم ترجمہ)
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
معاشرہ پھول بنائیں انگار نہیں !
پچھلی پوسٹ
طفلِ سِن رسیدہ

متعلقہ پوسٹس

احادیث سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے

ستمبر 15, 2023

چلو اب مل کے ہجروحَبس کا موسم بدلتے ہیں

فروری 26, 2020

تبلیغی جماعت کا جائزہ (زمینی حالات)

جنوری 14, 2026

نہاری ہاؤس

دسمبر 23, 2021

دو چار دن ہے رونقِ بازار میرے دوست

جنوری 8, 2022

جو ترے غم کی گرانی سے نکل سکتا ہے

مئی 23, 2020

رات کی آغوش سے مانوس اتنے ہو گئے

مئی 7, 2020

فطرت کی گود میں

دسمبر 1, 2024

انقلاب دل سے اُٹھتا ہے

مئی 16, 2023

ذرا سا زخم کو جونہی قرار آتا ہے

نومبر 8, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

توبۃ النصوح – فصل چہارم

اکتوبر 30, 2020

خوشیوں کا غریبوں کو

جون 24, 2025

رجو

جنوری 3, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں