103
لب پر کوئی شکوہ نہ گلہ کچھ نہیں کہتا
ہر بات کا رکھتا ہوں صلہ کچھ نہیں کہتا
تہذیب کی دیوار کے پیچھے ہے جو چہرہ
ہنستا بھی ہوں ، روتا بھی سدا کچھ نہیں کہتا
اک رسم ہے ہر بات پہ حیرت سے جو تکنا
لوگوں کا یہ فن ہے نیا کچھ نہیں کہتا
دشمن کو بھی پہچان کے ملتا ہوں میں اکثر
دل میں جو ہو وہ لب پہ بھلا ؟ کچھ نہیں کہتا
اخبار میں کچھ شہر میں کچھ بات الگ ہے ؟
جھوٹا ہو اگر حرف وفا کچھ نہیں کہتا
حافظ حمزہ سلمانی
