588
حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہے
پیاس کا ذائقہ پانی کی طرح ہوتا ہے
میں بھی رکتا ہوں مگر ریگِ رواں کی صورت
میرا ٹھہراؤ روانی کی طرح ہوتا ہے
تیرے جاتے ہی میں شکنوں سے نہ بھر جاؤں کہیں
کیوں جدا مجھ سے جوانی کی طرح ہوتا ہے
جسم تھکتا نہیں چلنے سے کہ وحشت کا سفر
خواب میں نقلِ مکانی کی طرح ہوتا ہے
چاند ڈھلتا ہے تو اس کا بھی مجھے دکھ فیصل
کسی گم گشتہ نشانی کی طرح ہوتا ہے
فیصل عجمی
