342
چاند کے ساتھ جب وہ چلتا تھا
عکس تالاب سے اُبھرتا تھا
یار اوروں کی بات کرتا تھا
رنگ تصویر میں بدلتا تھا
جو تری حسرتوں پہ ہستا تھا
وہ مری بے بسی پہ روتا تھا
بند کمرے میں جب تہلتا تھا
عکس دیوار سے نکلتا تھا
سامنے سے کہاں گزرتا تھا
وہ جو وارفتگی سے ملتا تھا
پیڑ کا سانس بھی اُکھرتا تھا
جب پرندہ اُڑان بھرتا تھا
رانا عثمان احا مر
