103
وہ سب سے آگے اندھیرے میں جو چراغ تھامے کھڑا ہوا ہے
سیاہ راتوں میں گمشدہ منزلوں کو رستہ دکھا رہا ہے
جھلستے موسم میں منحرف ہے پرائے پیڑوں کی چھاؤں تک سے
انا کا رتبہ بڑھایا اس نے وہ اپنی شرطوں پہ جی رہا ہے
ہوا کی مرضی دیا بجھائے یا خوشبوؤں کو رہائی دے دے
کہیں پہ دیوار ہے یہ گویا کہیں کہیں پر یہ راستہ ہے
تو جانتا ہے تری نظر سے ہرایک منظر کو دیکھتی ہوں
تجھے پتہ ہے کہ تیری آنکھوں کا رنگ بالکل مری طرح ہے
بدلتی رت میں بدل گیا ہے ہماری نظروں کا زاویہ بھی
اداس پتوں پہ روپ آیا خزاں کا چہرہ دمک رہا ہے
گزر چکا ہے وہ اس سڑک سے بڑی خموشی کے ساتھ اب کے
یہ کوئی دستک نہیں ہے در پر ، ہوا کی سازش ہے ، واہمہ ہے
یہ تیری نسبت کا فیض ہے جو ٹلے ہوئے ہیں عذاب سارے
یہ میری دنیا میں اب تلک جو بھی خیر ہے وہ تری دعا ہے
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
شہلا خان
