379
ملنے کے آرہے ہیں اب لوٹ کر زمانے
پھر سے تراش لو تم سندر سے کچھ بہانے
چہرہ چھپا کے تم نے یوں ہی کیا تکلف
آنکھیں سنا رہی ہیں سب حسن کے افسانے
چھوڑو مجھے ہاں جاؤ دو مشورہ بھی لیکن
اس کا کروں میں کیا یہ جو دل دیا خدا نے
اب تک کی زندگی کا اتنا ہے کل اثاثہ
کچھ درد کی سوغاتیں کچھ خواب ہیں پرانے
پہلے ہی کر چکا تھا ایک جھوٹ پر یقین ہو
ویسے تو میں گیا تھا جو سچ تھا وہ بتانے
مجھ کو خبر نہیں اب اپنے بھی آشیاں کی
دل میں چلا تھا اس کے بستی الگ بسانے
دل سے ترے جو نکلا آنکھوں میں جا چھپوں گا
میرے اویس تجھ میں صد ہیں بنے ٹھکانے
اویس خالد
