333
ہم جانا چاہتے تھے جدھر بھی نہیں گئے
اور انتہا تو یہ ہے کہ گھر بھی نہیں گئے
وہ خواب جانے کیسے خرابے میں گم ہوئے
اس پار بھی نہیں ہیں ادھر بھی نہیں گئے
صاحب تمہیں خبر ہی کہاں تھی کہ ہم بھی ہیں
ویسے تو اب بھی ہیں کوئی مر بھی نہیں گئے
بارش ہوئی تو ہے مگر اتنی کہ یہ ظروف
خالی نہیں رہے ہیں تو بھر بھی نہیں گئے
عادلؔ زمین دل سے زمانے خیال کے
گزرے کچھ اس طرح کہ گزر بھی نہیں گئے
ذوالفقار عادل
