خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامپاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحسن خالد محسن

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

از سائیٹ ایڈمن مئی 15, 2026
از سائیٹ ایڈمن مئی 15, 2026 0 تبصرے 53 مناظر
54

عوام اور حکمرانوں کے درمیان خوف کا تعلق ایک پیچیدہ تاریخی، سماجی اور سیاسی حقیقت ہے جس کی جڑیں صرف موجودہ دور میں نہیں بلکہ طویل تاریخی تجربات میں پیوست ہیں۔ پاکستان جیسے معاشروں میں یہ خوف صرف ایک فطری جذباتی کیفیت نہیں بلکہ ادارہ جاتی رویوں، معاشی دباؤ اور طاقت کے غیر متوازن ڈھانچے کا نتیجہ بھی ہے۔ عام شہری جب ریاستی طاقت کے مختلف ستونوں کو دیکھتا ہے تو اس کے ذہن میں ایک ایسا تاثر بنتا ہے جس میں تحفظ اور جبر دونوں ایک ساتھ موجود دکھائی دیتے ہیں۔ یہی دوہرا احساس خوف کو جنم دیتا ہے اور اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔
پاکستانی سماج میں گزشتہ چند دہائیوں میں سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران اور ادارہ جاتی کشمکش نے عوام کے اندر بے یقینی کو بڑھایا ہے۔ جب بھی حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں، پالیسیوں میں تسلسل نہیں رہتا؛مہنگائی بے روزگاری، اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم عوام کو مزید پریشان کرتی ہے۔ ایسے حالات میں عام شہری کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی آواز مؤثر نہیں اور اس کے مسائل فیصلہ سازی کے عمل تک نہیں پہنچتے۔ یہی احساس خوف کی پہلی شکل ہے جو خاموشی اور لاتعلقی میں بدل جاتی ہے جبکہ ریاستی اداروں کے بارے میں عوامی تاثر بھی اس خوف کو گہرا کرتا ہے۔ فوج کے بارے میں ایک طبقہ اسے ملک کی سلامتی کا ضامن سمجھتا ہے جبکہ دوسرا طبقہ اسے سیاسی معاملات میں اثرانداز سمجھتا ہے۔ عدلیہ کے فیصلے بھی بعض اوقات عوامی بحث کا حصہ بنتے ہیں اور ان پر اعتماد میں کمی پیدا ہوتی ہے۔ انتظامیہ اور پولیس کا کردار عام شہری کے روزمرہ تجربے میں سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ان اداروں میں انصاف کا فقدان محسوس ہو تو خوف اور بڑھ جاتا ہے۔ یہ خوف کسی ایک ادارے سے نہیں بلکہ پورے نظام سے متصل ہوتا ہے۔
علاوہ ازیں سیاست دان اور کاروباری طبقات کے درمیان تعلقات بھی عوامی اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔ جب پالیسی سازی میں عام آدمی کی بجائے مخصوص گروہوں کو فائدہ ہوتا ہوا محسوس ہو تو عوام میں یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ نظام ان کے لیے نہیں بلکہ طاقتور طبقے کے لیے ہے۔ اس طرح ایک ایسا ماحول بنتا ہے جس میں احتجاج اور اختلافِ رائے کو غیر محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
پاکستانی سماج میں تعلیم اور آزاد بحث کی کمزوری بھی ایک اہم سبب ہے۔ جب تعلیمی اداروں میں تنقیدی سوچ کو فروغ نہیں ملتا تو نئی نسل سوال اُٹھانے کی بجائے خاموش رہنا سیکھتی ہے۔ اجتماعی مکالمہ کمزور ہونے سے معاشرتی مسائل پر کھل کر بات نہیں ہو پاتی اور افواہیں اور خوف تیزی سے پھیلتے ہیں۔ یہی خاموشی بعد میں خوف کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
احتجاجی سیاست کی تاریخ پاکستان میں خاصی متنوع رہی ہے۔ کئی ادوار میں عوامی تحریکیں ابھریں مگر ان کا نتیجہ اکثر سخت ردِعمل یا محدود اصلاحات کی صورت میں نکلا۔ اس سے عوام میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ پُرامن احتجاج ہمیشہ مؤثر نہیں ہوتا۔ ایک مکتبہ فکر کے مطابق ریاستی ردِعمل بعض اوقات سخت رہا ہے جس سے خوف میں اضافہ ہوا۔ اس کے برعکس یہ بھی حقیقت ہے کہ ریاستی ادارے اکثر اپنے تئیں نظم و قانون برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور انتشار کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔
تھنک ٹینک اور پالیسی ساز حلقوں کے بارے میں یہ بحث بھی موجود ہے کہ وہ معاشرتی مسائل کو تکنیکی زبان میں دیکھتے ہیں اور عام آدمی کے جذبات کو مکمل طور پر شامل نہیں کرتے۔ اس سے پالیسی اور زمینی حقیقت کے درمیان فاصلہ پیدا ہوتا ہے اور عوام کو لگتا ہے کہ فیصلے ان سے دور کہیں اور ہو رہے ہیں۔ یہ فاصلہ بھی خوف اور اجنبیت کو بڑھاتا ہے۔
تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد ٹوٹتا ہے تو معاشرے میں عدم استحکام بڑھتا ہے۔ مختلف ممالک میں ایسے تجربات ہوئے ہیں جہاں اصلاحات نہ ہونے کی وجہ سے عوامی بے چینی بڑھی اور بعد میں بڑے سماجی تغیرات آئے۔ یورپ کی تاریخ ہو یا ایشیا کے مختلف خطے، یہ بات واضح ہے کہ طاقت کا غیر متوازن استعمال دیرپا استحکام نہیں دے سکتا۔
دُنیا نے اس کیفیت کو مختلف طریقوں سے مینج کرنے کی کوشش کی ہے۔ کچھ ممالک نے شفافیت کو بڑھایا، کچھ نے مقامی حکومتوں کو مضبوط کیا اور کچھ نے عدالتی اصلاحات کے ذریعے عوامی اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی۔ جہاں بھی ریاست نے شہری آزادیوں اور معاشی انصاف کو بہتر بنایا، وہاں خوف کم ہوا اور اعتماد بڑھا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ خوف کا علاج صرف طاقت نہیں بلکہ انصاف اور شمولیت ہے۔
عوام کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ وہ ان حالات میں کیا کریں۔ پہلی بات یہ کہ وہ تعلیم اور شعور کو اپنا ہتھیار بنائیں۔ سوال پوچھنا اور معلومات حاصل کرنا کسی بھی معاشرے میں تبدیلی کا پہلا قدم ہوتا ہے۔ پُرامن مکالمہ اور اجتماعی تنظیم بھی اہم ہے تاکہ مسائل کو منظم طریقے سے پیش کیا جا سکے۔ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی آواز بلند کرنا جمہوری نظام کا بنیادی حق ہے اور اسی سے بہتری کے راستے نکلتے ہیں۔
ریاست کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ عوامی اعتماد کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔ اداروں میں شفافیت بڑھانا انصاف کے نظام کو بہتر بنانا اور معاشی مواقع کی منصفانہ تقسیم وہ عوامل ہیں جو خوف کو کم کر سکتے ہیں۔ جب عام شہری کو یہ یقین ہو جائے کہ اس کے ساتھ انصاف ہو گا تو خوف خود بخود کم ہونے لگتا ہے۔
میرا ذاتی احساس یہ ہے کہ خوف ایک دن میں پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ ایک دن میں ختم ہوتا ہے۔ یہ ایک طویل سماجی عمل ہے جس میں ریاست اور عوام دونوں کا کردار ہوتا ہے۔ اگر دونوں طرف سے اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ خوف اُمید میں بدل سکتا ہے اور معاشرہ زیادہ متوازن اور پائیدار ترقی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔اگر یہ ممکن ہو جائے یعنی عوام میں اجتماعی شعور پیدا ہو جائے تو کسی انقلاب کی ضرورت نہیں رہے گی۔

محسن خالد محسنؔ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ٹی ٹی پی کا بڑھتا ہوا سایہ
  • ہم کس قدر ’’مہذب‘‘ ہیں
  • کیا کیا نہیں دۓ جہاں بھر نے لقب مجھے
  • پیرِ کامل کس کو کہتے ہیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم
پچھلی پوسٹ
موبائل سے بڑھ کر کون

متعلقہ پوسٹس

یوں برملا یہ اشک بہانا فضول ہے

اپریل 6, 2026

گردش ایام میں ہیں آج کل

دسمبر 28, 2024

ڈیجیٹل نسل اور اُردو زبان

اگست 20, 2025

مرزا اسداللہ خاں غالبؔ ؔ

اپریل 16, 2023

کرنسی نوٹوں کی تبدیلی

ستمبر 1, 2024

راضی

اکتوبر 30, 2020

سرقے کو جہاں رتبۂ الہام دیا جائے!

جولائی 25, 2026

بیانیے کا زہر

فروری 3, 2026

رہائی

جون 3, 2023

ذہنی سکون کا سفر

دسمبر 6, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

عالمِ برزخ سے

جنوری 9, 2020

عید کا ریشم یا جہنم کی...

مارچ 21, 2026

ماتمی جلسہ

اپریل 26, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں