ٹی ٹی پی کا بڑھتا ہوا سایہ،اقوام متحدہ کی تازہ وارننگ
اقوام متحدہ کی جانب سے پیش کی گئی تازہ رپورٹ نے خطے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سلامتی کونسل کی القاعدہ پابندی کمیٹی کی سربراہ سینڈرا جینسن لینڈی نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان ایک سنگین اور بڑھتا ہوا علاقائی خطرہ بن چکی ہے۔ یہ رپورٹ محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ خطے میں دہشت گردی کے بدلتے ہوئے منظر نامے کی ایک جامع علامت ہے۔ پاکستانی ریاست طویل عرصے سے اس خطرے کی نشاندہی کرتی رہی ہے۔ اب اقوام متحدہ نے بھی اسی تشویش کو عالمی ریکارڈ کا حصہ بنا دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان سے سرگرم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کی تعداد تقریباً چھ ہزار کے قریب ہے۔ یہ جنگجو نہ صرف منظم ڈھانچے کے ساتھ کام کر رہے ہیں بلکہ انہیں افغانستان کے
اندر وہ جگہ بھی حاصل ہے جہاں وہ منصوبہ بندی، تربیت اور نقل و حرکت کی سہولت حاصل کرتے ہیں۔ یہ حقیقت پاکستان کے لیے باعث تشویش ہے کیونکہ سرحد پار سے حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور کئی حملے ایسے ہیں جنہیں اقوام متحدہ نے بھی ہائی پروفائل قرار دیا ہے۔ ان حملوں میں پاکستان کے شہریوں اور فورسز کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے متعلق یہ الزام شدت کے ساتھ سامنے آیا ہے کہ تنظیم کو لاجسٹک سہولتوں کے ساتھ ساتھ باقاعدہ پناہ بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ افغان طالبان ہمیشہ اس الزام کی نفی کرتے رہے ہیں لیکن زمینی حقائق اس مؤقف کی تائید نہیں کرتے۔ اگر افغانستان کی سرزمین سے کسی پڑوسی ملک پر حملے ہو رہے ہوں تو یہ واضح طور پر بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ طالبان حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی زمین کو دہشت گرد گروہوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔
اس صورتحال کا اثر صرف پاکستان تک محدود نہیں رہا۔ چین نے اقوام متحدہ میں بلوچ لبریشن آرمی اور اس کی مجید بریگیڈ کو ممنوعہ تنظیم قرار دینے کی درخواست کرکے ایک اہم سفارتی قدم اٹھایا ہے۔ چین کی یہ تشویش غیر معمولی نہیں کیونکہ سی پیک کے منصوبے اور چینی شہریوں کی سلامتی براہ راست انہی خطرات سے جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان اور چین دونوں دہشت گردی کے ایسے نیٹ ورکوں کو خطے کے امن کے لیے انتہائی نقصان دہ سمجھتے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال ایک دوہرا دباؤ پیدا کرتی ہے۔ ایک طرف افغانستان سے دراندازی اور سرحدی حملے بڑھ رہے ہیں۔ دوسری طرف ملک کے اندر سکیورٹی فورسز کو مختلف محاذوں پر مصروف رہنا پڑتا ہے۔ بارڈر مینجمنٹ، انٹیلی جنس نیٹ ورک اور عسکری حکمت عملی ایسے عناصر ہیں جنہیں مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ علاقائی تعاون کی بات کی ہے لیکن تعاون کی بنیاد عمل پر ہوتی ہے اور یہ عمل اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتا جب تک افغان حکومت ذمہ داری کے ساتھ اپنے وعدوں پر قائم نہ رہے۔
اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے پاکستان کے مؤقف کی بین الاقوامی سطح پر تصدیق کر دی ہے۔ پاکستان کے سکیورٹی ادارے مسلسل نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ سرحد پار بیٹھے شدت پسند پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب عالمی برادری کے سامنے وہ شواہد آچکے ہیں جو اس حقیقت کی وضاحت کرتے ہیں۔
خطے میں امن کسی ایک ملک کی خواہش سے قائم نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک اجتماعی ضرورت ہے جس کے لیے علاقائی طاقتوں کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ افغانستان کا امن پورے خطے کے امن سے جڑا ہوا ہے اور جب تک افغانستان کے اندرونی معاملات منظم نہیں ہوتے، پاکستان، چین، وسطی ایشیا اور ایران سب اس کے اثرات محسوس کرتے رہیں گے۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ ایک انتباہ بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ یہ انتباہ اس لیے کہ خطرہ بڑھ رہا ہے اور اسے نظر انداز کرنا مزید نقصان کا سبب بنے گا۔ اور یہ موقع اس لیے کہ عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو تقویت ملی ہے۔ اب پاکستان سفارتی اور سکیورٹی دونوں محاذوں پر زیادہ مضبوط اقدام اٹھا سکتا ہے۔ خطے کے ممالک کو اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور اس کے خلاف مشترکہ کوشش ہی ایک پائیدار حل فراہم کر سکتی ہے۔
یوسف صدیقی
