خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےرئیس اعظم
اردو افسانےاردو تحاریرعصمت چغتائی

رئیس اعظم

از سائیٹ ایڈمن فروری 15, 2023
از سائیٹ ایڈمن فروری 15, 2023 0 تبصرے 61 مناظر
62

ہماری ایک نانی اماں تھیں۔ ویسے نانی اماں تو ہر ایک کی ہوا کرتی ہیں مگر ہماری نانی اماں کا تو بس جواب نہ تھا۔ گھر میں نوکروں کی ریل پیل تھی۔ ہِل کے پانی پینے کی بھی ضرورت نہ تھی اور نانی اماں پانی تو بہت پیتی تھیں مگر ہلنے جلنے سے انہیں انتہائی نفرت تھی۔ وہ عموماً برآمدے میں رہا کرتی تھیں۔ نانیاں عموماًبرآمدوں ہی میں رہنا پسند کرتی ہیں تاکہ آسانی سے کمروں پر بھی نظر رکھ سکیں اور صحن پہ بھی۔ کسی ہوئی نواڑ کی پلنگڑی پر بیٹھی ہوئی وہ تمام نوکروں اور بچوں کی نگہبانی کیا کرتیں۔ ان کی آواز بڑی پاٹ دار تھی کوئی ذرا بھی خلاف قاعدہ بات کرتا تو وہ انتہائی دبنگ آواز میں ڈپٹنے لگتیں۔
"کیوں رے خدائی خوار پھر وہی لچّا پن۔”
پھر اس کے اماں ابا کی طلبی ہوتی۔ جی بھر کے ان کی ٹانگ گھسیٹی جاتی۔ باری باری دونوں کو مجرم ٹھہرایاجاتا۔
غریب ماں باپ اپنی قسمت کے سر الزام تھوپ دیتے۔ یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہا رہتا جب تک دوسرا مجرم ہاتھ نہ آجاتا اور نانی اماں اس کی مرمت کرنے لگتیں۔

جب کافی بچوں، نوکروں اور ان کے رشتہ داروں کو ڈانٹ چکتیں تو ایک دم تھک کر سو جاتیں اور اتنے خوفناک خراٹے لیتیں کہ درودیوار لرزنے لگتے۔ پھر اچانک آنکھ کھل جاتی اور وہ پ ہلے سے زیادہ چڑچڑی ہوجاتیں۔
ان کی سخت گیری کی وجہ سے ان کا گھر آئینہ کی طرح چمکتا رہتا۔ نوکر نہایت قاعدے کے اور بچے بے حد مہذب اور خاموش طبیعت کے تھے۔ ان کا کتا تک بڑے ہولے سے کبھی جاگ جاتا تو بھونک دیتا۔ ورنہ جیسے ہی نانی اماں کی آنکھ لگتی وہ بھی اونگھ جاتا۔ لوگوں کا کہنا تتھا کہ ان کی مرغیاں اور کبوتر بھی بڑے خاموش طبیعت اور مسکین تھے۔

نانی اماں کے ہاں جتنا سگھڑ اپا اور نفاست تھی اس کے بالکل الٹ ہمارے ہاں اتننا ہی اودھم اور لاابالی پن چھایارہتا تھا۔ اماں کی آواز نانامیاں مرحوم کی طرح نہایت سوئی ہوئی تھی۔ نانی اماں کی پالی ہوئی تھیں، کبھی کسی پر دھونس جمانے میں کامیاب نہ ہوپائیں۔ نہ ان کے نوکر ان کے قابو میں نہ ان کے بچے ان کے بس میں۔ جہاں کے انسان شتر بے مہار ہوں وہاں جانور بھی بدتمیز اور خود سر ہوجاتے ہیں۔ نوکر بیٹھے ہنسی ٹھٹول کیاکرتے، بچے گھمسان مچائے رکھتے اور جانور من مانی کیا کرتے۔

جمعہ کے روز بچوں کو نانی کے سلام کے لئے ان کے ہاں جانا لازمی تھا۔ اس دن اماں ہلکان ہوجاتیں۔ صبح سے بچے مانجھ دھوکر چمکائے جاتے۔ لڑکوں کو اچکن کی ٹوپیاں پہنائی جاتی اور لڑکیوں کی کس کس کے چوٹیاں باندھی جاتیں۔ پھر طرح طرح کی دھمکیاں اوررشوتیں دے کر انہیں بھیجا جاتا۔ نانی اماں کے برآمدے میں پہنچ کر سب باری باری سلام کرتے، مانی ایک ایک کو قریب بلاکر سختی سے معائنہ کرتیں۔ کسی کا بٹن تو نہیں ٹوٹا ہے۔ کانوں کے پیچھے میل کی پٹریاں تو نہیں، ناخن بڑھے ہوئے تو نہیں۔

ہر جمعہ نانی اماں سب کا نام پوچھتیں اور بھول جاتیں، پھر دوسرے جمعہ کو ن ئے سرے سے پوچھتیں۔ اگر کوئی بھی بات خلاف مرضی ہوجاتی تو نانی اماں اس کی کھنچائی شروع کردیتیں۔ سلامی اور معائمہ کے بعد نہایت سلیقہ مند نوکرانیاں سینی میں مٹھائی، دالموٹ اور پھل لے کر آتیں اور نانی اماں اپنے ہاتھ سے سب کو بانٹتیں۔ اگر ایک بھورا بھی کسی سے قالین پر گر جاتا تو قیامت آجاتی۔ فوراً نوکرانیوں کی فوج جھاڑن برش لے کر دوڑی آتی۔ اتنی لے دے مچتی کہ مہمان حواس باختہ ہوکر اور گراتے۔ لڈو ہاتھ سے چھوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجاتے۔ انہیں سمیٹنے کی کوشش میں جوتوں سے مسل کر قالین پر پلاسٹر ہوجاتا اور نانی اماں کو دل کا دورہ پڑنے لگتا اور سب وہاں سے لشتم پشتم واپس آجاتے۔

خاصی مزے دار چیزیں کھانے کو ملتیں مگر سر پر ایسی تلوار سی لٹکی رہتی کہ بالکل پتہ نہ چلتا کہ کیا کھارہے ہیں۔ سارا وقت تو احتیاط کرتے گزر جاتا۔مزہ لینے کی مہلت ہی کب ملتی تھی۔ نانی اماں کا سارا خاندان لحاظ کرتا تھا۔ ایک تو اس لئے کہ وہ واقعی سب کی بزرگ تھیں۔ دوسرے نانامیاں مرتے وقت ساری جائداد ان کے نام کر گئے تھے اور وہی سب سیاہ و سفید کی مالک تھیں۔ ان سے کوئی بگاڑ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ جب بھی کسی نے چوں چرا کی اور نانی اماں نے دھمکی دی کہ ساری اللہ نام پہ دے دیں گی۔

جائیداد واقعی بہت تھی اور نانی اماں کا فی عمر کو پہنچ گئی تھیں۔ لوگوں کا خیال تھا کہ بس اب آنکھوں کی سوئیاں رہ گئی ہیں اور اب کا جاڑا، برسات یا گرمی نہیں جھیل پائیں گی۔ مگر نانی اماں کتنے سال سے جڑا، گرمی ، برسات مزے سے جھیل رہی تھیں اور قطعی اللہ کو پیاری ہونے کا پروگرام نہ تھا۔ وہ اب بانوے کی تھیں اور آپریشن کے بعد اچھی طرح دیکھنے بھی لگی تھیں۔ ان کے طور طریق دیکھ کر یقین ہوجاتا تھا کہ اتنے ہی سال اور کھینچ جائیں گی۔ ان کے بیٹے بیٹیاں بوڑھے ہورہے تھے۔ کئی تو ان کے ہم عمر لگنے لگے تھے۔ پوتے نواسے خود نانا بنتے جارہے تھے۔ امید پہ دنیا قائم ہے۔ سب اسی لئے ان کی دل جوئی کیاکرتے تھے بلکہ ان کی خاطر مدارات میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے ایک دوسرے کی کاٹ کرنے کے لئے نانی اماں کو بھڑکایا۔ مگر وہ بجائے کھنچنے کے اسی کی طرف جھک جاتیں جس کی ان سے برائی کی جاتی۔ وہ سمجھتی تھیں برائی کی ذمہ داروہ خود ہیں ان کی بے توجہی اور لاپرواہی کی وجہ سے یہ عیب پیدا ہوا ہے ، اور جب وہ کسی کی پرواہ کرنا شروع کرتیں تو ان پر جنون سا طاری ہوجاتا۔ بس پیچھے پڑ جاتیں اس کے۔ راہ راست پر لانے کے لئے وہ پہلے تو وایلا مچاتیں، کوستیں، گالیاں دیتیں۔پھر رشوت سے کام نکالتیں۔ اس طرح بجائے نقصان کے عموماًمجرم کا فائدہ ہوجاتا۔ اس نے قصور نہ بھی کیا ہوتا تو سر جھکاکر رونی صورت بناکر معافی مانگ لیتا۔

تب تو لوگوں کو ترکیب سوجھ گئی۔ باقاعدہ سازش کرکے لوگ ضرورت مند کی برائی کرتے اور نانی اماں چکمہ میں آکر واویلا شروع کردیتیں۔ مثلاً جب ماموں کو ولایت جانے کے لئے روپے کی ضرورت ہوئی تو نانی اماں نے قطعی انکار کردیا۔ سات سمندر پار ہوئے فرنگیوں کے دیس میں وہ ہرگز اپنے دل کے ٹکڑے کو نہیں بھیجیں گی۔ بہت منت سماجت کی ،سمجھایا مگرٹس سے مس نہ ہوئیں۔ پھر کسی کو ترکیب سوجھی چچا جان نے ایک دن نہایت رونی صورت بناکر بڑی راز داری کے انداز میں کہا:
"پھپو سلیم میاں تو ہاتھ سے گئے۔”
"خیر تو ہے بیٹا کیا ہوا۔ کیا گھوڑے پر سے گر پڑا؟”
نانی اماں ماتم کرنے لگیں۔
"کاش گھوڑے پر سے گر جاتا اور اس کی مٹی عزیز ہوجاتی۔”
"ہے ہے تو پھر کیا ہوا؟”
"کیا بتاؤں پھپو، بس جی چاہتا ہے سنکھیا کھاکے سورہوں۔” چچا جان نے خیالی میں آنسو پونچھے۔
"اے لڑکے کچھ مونہہ سے تو پھوٹ کہ بس۔” بڑی منتوں سماجتوں کے بعد کہا کہ سلیم میاں ایک کرسٹانی سے بیاہ کررہے ہیں۔”

"اے تو کیا ہوا کرسٹان تو اہل کتاب ہوتے ہیں ان میں شادی جائز ہے۔”
چچا میاں پر اوس پڑ گئی مگر فوراً بات پلٹ دی۔ "مگر وہ تو شادی شدہ ہے !” چچا میاں نے اڑائی۔
"ہے ہے !”‘ نانی اماں نے چھاتی کوٹ لی۔
” اس کا میاں سلیم کی گردن کاٹنے کو پھررہا ہے۔”اب تو نانی اماں واقعی چونک پڑیں۔
"ہے کون وہ کلمونہی؟”
"کلمونہی نہیں پھپّو گوری بھک ہے۔”
"کسی گورے کی بیوی ہے؟”
"ہاں کپتان ہے، غصہ تو اس کی ناک پر دھرا رہتا ہے۔ جب سے سنا ہے بس پستول تانے گھوم رہا ہے۔”

نانی اماں نے جلدی سے ایک کٹورا ٹھنڈا پانی پیا۔ اور پسینے چھوٹنے لگے۔”اے پروردگار، یا مولی مشکل کشا اب کیا ہوگا۔” بڑی غوروخوض کے بعد چچا میاں نے گھماپھراکر رائے دی کہ سلیم میاں کی جان بچانا چاہتی ہو تو اسے یہاں سے چلتا کرو۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔”
نانی اماں نے بہت سمجھایا مگر چچا جان نے سلیم میاں کو پہلے سے پٹی پڑھادی تھی، وہ ولایت جانے پر کسی طرح راضی ہی نہ ہوتے تھے۔
بڑی مشکل سے نانی اماں نے اپنی جان کی قسم دی ، پورے خاندان کو گھسیٹ ڈالا اور سلیم میاں کو ولایت بھیج کرہی دم لیا۔

یہ میں بہت برس کی بات کہہ رہی ہوں۔ اب تو نانی اماں کے دالان میں ہر طرف چمڑے کی کترنیں بکھری رہتی ہیں، اور دھڑا دھڑ رانپی اور ہتھوڑی کی آوازیں گونجا کرتی ہیں۔ مرغیوں نے سب کیاریاں کھود ڈالی ہیں۔ اور نانی اماں کے مٹھن کتے کے مرنے کے بعد سے گلی کے کتوں نے گھر کو کتا کلب بناڈالا ہے۔ نوکر چاکر سب اسی وقت تتّر بتّر ہوگئے تھے جب ایک دن نانی اماں مہترانی پر ڈانٹ پھٹکار کرتے کرتے ایک دن اونگھ گئیں۔
اور پھر خراٹوں سے گھر کی بنیادیں نہیں لرزیں تب سب نے ڈرتے ڈرتے انہیں مغرب کی نماز کے لئے اٹھانا چاہا تو وہ ہمیشہ کے لئے سو چکی تھیں۔

اور نانی اماں کا بڑا سالو ہے کا سیف کھولا گیا تو اس میں سے ایک عدد ٹوٹا ہوا چاندی کا لچھا اور مکان بیچے جانے کے کاغذات نکلے۔ نانی اماں تو کوڑی کوڑی کو محتاج تھیں، جن بیٹوں بیٹیوں کو وہ جدائید اد سے محروم کرنے کی دھمکیاں دیتی تھیں وہ حساب میں الٹ پھیر کرکے انہیں دولت مند بنائے ہوئے تھے۔ سلیم میاں کو تو سرکار سے وظیفہ ملا تھا۔ مگر سب نے یہ جتایا کہ وہ خرچ برداشت کررہی ہیں۔ نانا میاں انہیں کنگال چھوڑ گئے تھے مگر ان کے بچوں نے یہ بات کبھی ان پر ظاہر نہ ہونے دی۔
جب تک نانی اماں جیتی رہیں یہی سمجھتی رہیں وہی ہمارے گھر کی پالن ہار ہیں۔ اسی لئے تو ان کی آواز میں طوفان کی سی کڑک تھی۔

واقعی وہ رئیس اعظم تھیں۔۔ ان کی دولت ان کی پیار کرنے والی اولاد تھی۔

عصمت چغتائی
ماخوذ از رسالہ: ماہنامہ "کھلونا” (دہلی) ، سالنامہ فروری 1973ء

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جذبات
  • گل صنوبر کی غزل کا تجزیاتی مطالعہ
  • ایک لاش کا مقدمہ زندستان میں
  • آئینے میں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اقبالِ جرم
پچھلی پوسٹ
ہم مشکلوں کے میزبان بنے ہوئے ہیں !

متعلقہ پوسٹس

حوصلہ افزائی کی ترغیب!

اکتوبر 23, 2020

کیوں کہ میں نے اب سوچنا شروع کر دیا ہے

دسمبر 23, 2021

راجدھانی کو پرنام

جون 14, 2020

نہر کنارے

فروری 12, 2025

شجاع شاذ – تغیر و تبدل کا شاعر

اپریل 15, 2016

ابھی ذوق پرواز باقی ہے!

جون 17, 2022

زیور کا ڈبہ

فروری 10, 2018

قرطبہ کا قاضی

جنوری 12, 2020

ایک زاہدہ، ایک فاحشہ

جنوری 24, 2020

یکم اپریل:جھوٹ کا عالمی دِن!

اپریل 1, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کی محمد ﷺ سے وفا تُو...

ستمبر 29, 2025

وطن کی مٹی گواہ رہنا

اکتوبر 9, 2025

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں