خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرایک لاش کا مقدمہ زندستان میں
اردو تحاریراردو کالمزروبینہ فیصل

ایک لاش کا مقدمہ زندستان میں

روبینہ فیصل کا ایک اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن نومبر 8, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 8, 2019 0 تبصرے 500 مناظر
501

ایک لاش کا مقدمہ زندستان میں

اکتوبر ,13 – 1954کو پیدا،اور 4جون 1984کو ٹرین کے نیچے آکر مر جانے والی سارہ شگفتہ جو زندگی کی صرف انتیس بہاریں ہی دیکھ
پائی تھی۔۔اس سے میری ملاقات لگ بھگ 2005 میں اس کی کتاب” آ نکھیں ” میں ہو ئی، جو میرے ایک دوست نے مجھے نثری شاعری کی طرف راغب دیکھ کر کچھ اور کتابوں کے ساتھ یہ بھی ریکمنڈ کی تھی۔ اس سے پہلے میں ذیشان ساحل کی شاعری میں چھپے اسرار میں الجھی ہو ئی تھی۔ اس وقت مجھے سارہ کی شاعری سمجھنے میں دقت ہو رہی تھی،مگر اس کی شاعری میں بے باکی،سچائی اور انوکھا پن بالکل سامنے کی چیز تھا۔ میں نے اس کا دیباچہ پڑھا تو دل دکھ سے بھر گیا اور اس کے بعد سارہ کے لفظ سمجھ میں آنے لگے۔ دیباچے میں اس کے بیٹے کے پیدا ہو نے کے پانچ منٹ بعد ہی ہو نے والی موت، سارہ کے شوہر کی بے حسی اور ہاتھ میں تھامے پانچ روپے،بچے کی لاش کو ھسپتال گروی ڈالنے،دفنانے اور نہ جانے بے بسی اور بے کسی کے کیا کیا مناظر وہاں نہ تھے، میں تو کانپ کے رہ گئی۔ سارہ کے متعلق جاننے کا شو ق بڑھا اس زمانے میں، نیٹ پر اس کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں تھا، آجکل گوگل سرچ کرو تو ریختہ پر ا سکی شاعری،ڈان میں کچھ مضامین اور یو ٹیوب پر اسکی انڈیا میں سٹیج کی گئی کچھ نظموں اور زندگی نامہ(جو امرتا پریتم نے لکھا ہوا ہے) مل جا تا ہے۔ یعنی جس بوتل میں وہ اپنا پیغام ڈال کر کارک بند کر کے سمندر کے حوالے کر گئی تھی، آنے والی نسلوں تک، موت کی وجہ یا موت کے اعلان کی صورت پہنچ رہا ہے۔ سارا کے پیغام والی بوتل کا کارک کھولا جا رہا ہے۔۔
سارا کے متعلق کچھ اور جاننے کی لگن میں کچھ شاعر لوگوں یا ادب سے دلچسپی لینے والوں سے اس بارے پوچھا تو اس کی چار شادیوں،اور ملٹی پل افئیرز کے علاوہ اور کوئی بات پتہ نہ چل سکی۔ ایک دن حسن ِ اتفاق سے ریختہ کی سائٹ سے امرتا پریتم کی سارہ شگفتہ کی موت کے بعد اس پر لکھی گئی ایک کتاب” ایک تھی سارہ “پڑھنے کو مل گئی۔۔ گو یہ میری سارا سے دوسری ملاقات ٹھہری۔۔۔ امرتا پریتم کو میں نے ہمیشہ اپنی روح کے قریب محسوس کیا ہے اس کی بھی ایک وجہ ہے کہ جب میں نے اسے پڑھا بھی نہیں ہوا تھا تو میرے افسانوں پر بات کرتے ہو ئے ایک افسانہ نگار دوست فیصل فارانی نے بے ساختہ کہا تھا کہ تمھاری تحریر میں امرتا کی جھلک ہے (میں نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا تھاکہ دوست ایک دوسرے کو خوش کرنے کے لئے نہ جانے کیا کیا جتن کرتے رہتے ہیں۔) لیکن جب امرتا کو پڑھا تو اس کو سچ میں اپنے اندر پایا۔کم از کم انسان کا درد محسوس کرنے کی،ہم دونوں میں ایک سی ہی حس نظر آئی۔ اس لئے جب امرتا جی کی سارا شگفتہ پر لکھی کتاب پڑھی رو حرف حرف سچی محسوس ہو ئی کیونکہ یہاں بھی امرتا نے سارا کو ایک انسان پہلے اور عورت بعد میں سمجھا تھااور کس قماش کی عورت اس پر تو نظر تک نہ ڈالی تھی۔ میں متاثر ہو ئے بغیر نہ رہ سکی، سارا کی ٹریجک لائف اور اس سے بھی زیادہ ٹریجک موت نے مجھے کئی دن اسے میری سوچوں کا مہمان رکھا اور کتنی ہی راتیں میں نے سارا کی زندگی کے مختلف دکھوں اور رنگوں کو کو محسوس کرتے آنکھوں میں کاٹ دیں۔
اور پھر ایک دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دن سانجھ کے دفتر، مزنگ،لاہور،( 2016 میں)جانے کا اتفاق ہوا وہاں محترمہ عذرا عباس کی کتاب ” درد کا محل وقوع” تازہ تازہ پبلش ہو ئی پڑی تھی۔ میں،عذرا عباس کی” درد کی مسافتیں “،”میں لائینیں کھینچتی ہوں ” او”ر میز پر رکھے ہاتھ” جیسے شاہکار پڑھ چکی تھی اور

میں آنکھیں ڈال کر کیسے دیکھا۔۔ اس کی کمر میں کب کب اور کیسے کیسے لچک پیدا ہوئی، اس نے آپ کو پہلی دفعہ دیکھا تو اس کے چہرے پر آپ کوحسد تک نظر آگیا، کس شاعر نے اس کے کھلے گریبان کو دیکھا اور کون دیکھتا ہی رہ گیا۔
اس کی اپنے دوسرے شوہر احمد جاوید سے شادی، جو اس وقت شاعر اور اب ایک صوفی بن چکے ہیں، جنہیں اب ایک دنیا سنتی اور مانتی ہے، آپ نے انہیں ایک بزدل، بیوی کی کمائی نہ صرف خود بلکہ اس کا باپ اور بھائی بھی۔۔سب خاندان، کھانے والا انسان دکھایا ہے۔
جتنے شاعر سلیم احمد، جمال احسانی، ثروت حسین، افضال احمد، فراست رضوی،جمیل قمر ا ور افتخار جالب سب کے سب آپ کے معترف اور اس سے آپ کو بچنے کی ہدایات دیتے نظر آتے ہیں۔۔ خاص طور پر افتخار جالب کا کردار ایک چغل خور کا ہے جو سارا کا ہر گناہ، ہر بات آکر آپ کو بتاتا ہے۔۔
افضال احمد۔۔ شاعر ہیں، دانشور ہیں۔۔ اور زندہ بھی ہیں۔۔ سارا کے تیسرے شوہر، ان کو آپ صاف بچا گئی ہیں کہ ان کے گھر والے فرشتہ تھے اگر سارا آکر آپ کو بتاتی تھی کہ وہ مجھے کمرے میں بند کر کے جاتے ہیں اور مارتے پیٹتے ہیں تو آپ لکھتی ہیں کہ افضال کی بہنیں بہت شائستہ ہیں۔۔ جب وہ کہتی ہے کہ افضال کی ماں میرا گھونگھٹ دیکھ کر کہتی ہے تم کہاں کی معصوم ہو جو گھونگھٹ نکالے بیٹھی ہو،تیسری شادی ہے تمھاری۔۔۔۔ تو آپ کیا اس بات پر بھی یقین نہیں کریں گی کہ اس کے ساتھ یہی کچھ ہوا ہو گا۔اگر آپ ججمنٹ کی تلوار لئیے کھڑی ہیں تو باقی عام عورتوں سے اور معاشرے سے کیا بعید؟۔
آپ کی بددیانتی اس بات سے ظاہر ہو تی ہے کہ آپ جو سارا شگفتہ کی نظروں اور جسم کے زوایوں کو تو فراموش نہ کر سکیں اور ایک ایک تفصیل لکھ دیں، مگر جب مرد شعرا کا ذکر آیا تو نام ہی بھول گئیں، افضال کا وہ دوست جو سارا سے شادی کا خواہش مند تھا، اس کا نام آپ کو یاد ہی نہیں آرہا۔ ہر دوسری لائین میں آپ یہ لکھ رہی ہیں کہ جیسے ہی نام یاد آیا آپ لکھ دیں گی۔۔ آپ کو نام بھول گیا تو کیا آپ کے شوہر انور سن رائے کو بھی بھول گیا؟ جو ایک ایک لمحہ آپ کے ساتھ ہو تے تھے اور آپ ان سے ایک ایک بات شئیر کیا کرتی تھیں اور جو ان سب شعرا کے نہ صرف دوست تھے بلکہ خود بھی مانے تانے شاعر، ناقد اور ڈرامہ نگار تھے اور ابھی تک تا حیات ہیں تو ان سے ہی پوچھ لیتیں۔۔ انہوں نے تو اسی بدکردار، دو کوڑی کی شاعرہ کے اوپر پورا ایک ناول” ذلتوں کے اسیر” بھی لکھ مارا تھا،گو کہ شروع میں وارننگ دیتے ہیں کہ اس ناول کے تمام کردار فرضی ہیں مگر پڑھتے ہو ئے ایک ایک کردار انہی شاعروں شگفتہ سمیت(جسے نام بھی سارا آپ نے ہی دیا تھا)، آپ کا اور ان کی زندگی کا سامنے پڑا ہے۔۔
عذرا صاحبہ!!آپ دونوں میاں بیوی کی لو میرج کا آپ دونوں کی سچی اور فرضی کتابوں میں ذکر موجود ہے، اور شادی سے پہلے ہی آپ کا یونیورسٹی سے ان کے فلیٹ میں آجانا اور سارا دن وہیں گزارنا۔۔ہر وقت مرد شعرا کی صحبت میں رہنا۔۔ آپ کی حد تک سب حلال نظر آتا ہے مگر جیسے ہی سارا شگفتہ نے شاعر احمد جاوید سے شادی کے بعد وہی بیٹھک اپنے گھر لگا لی اور اس کی نظموں کو پذیرائی ملنے لگی تو آپکی کتاب میں وہی ادبی ماحول اور اعلی علم و دانش کی باتیں ایک عامیانہ، ولگر ماحول میں بدل گئیں؟
انور سن رائے کا ناول” ذلتوں کے اسیر” بھی ادبی اور اخلاقی لحاظ سے ایک انتہائی بے کار ناول ہے۔ اس میں بھی سوائے سارا شگفتہ کو
ایکسپوز کرنے کے اور کوئی مقصد نظر نہیں آتا۔ کہانی کی بنت انتہائی بورنگ طریقے سے ہے کہ ہر کردار انور صاحب کے پاس سارا کی زندگی کے مکروہ حصے سنانے پہنچ جا تا ہے اور ایسی ایسی تفصیل سے سناتا ہے کہ کہانی کا لطف بھی جاتا رہتا ہے۔
عذرا عباس انتہائی بولڈ لکھنے والی نثری نظم کی شاعرہ ہیں، ان کی بولڈنیس کی جھلک دیکھنی ہو تو ان کی نظمیں ” فیمیل بل ڈاگ”،”تم ہنستے کیوں ہو”،”مجھے تقسیم کر دو”،”لے جاتے ہو کہاں “،”جب رات آتی ہے”،”کام کرتے ہو ” میں دیکھیں۔اور عورت کی مظلومیت کی جب بات کرتی ہیں تو ان سے “سویرا اپنی مرضی سے کب جیتی ہے؟” اور” اے عورت” جیسی شاہکار نظمیں کہتی ہیں۔۔ مگر کیا یہ سب باتیں کاغذی ہیں؟۔۔ اور کیا سارہ انہی کاغذی لوگوں کے دوغلے رویوں اور طے کئے ہو ئے معیارات کو عبور کرتے کرتے خدا سے بھی زیادہ خاموش ہو گئی تھی؟
نہ عذرا عباس کی چھوٹی سی کتاب میں (لکھتی ہیں “عجلت میں ہوں “، بتایا نہیں کہ کیا عجلت ہے) اور نہ ان کے شوہر نامدار کے 366صفحوں کے ناول میں سارا شگفتہ کے پاگل پن، ۴۲ الیکڑک شاکس، پاگل خانے میں داخل ہونے، ہسپتال میں بار بار ایڈمٹ ہو نے کے متعلق،اور نہ ۴ دفعہ خود کشی کی کوششوں کے بارے کچھ لکھا ہے کیوں۔۔۔۔۔ کہ کہیں اس نمانی کے لئے قارئین کا جذبہ ہمدردی نہ بیدار ہو جائے؟ عام لوگ تو اسے دو کوڑی کی شاعرہ اور آوارہ عورت کہیں مگر کیا “ایک روٹی تک پہنچنے کے لئے” اور” حرامزادی” جیسی نظمیں لکھنے والی کو یہ زیب دیتا ہے؟ عورتوں کے حقوق کی علمبردار عذرا عباس یہی لکھے تو بندے کا دل کرتا ہے کہ وہ انسانوں کے اس جنگل میں ایک انسان کی کھوج میں نکلے یا کہ کسی جانور کو انسانیت کا تاج پہنا کر ایسے جنگل کا بادشاہ بنا دیا جائے؟
بقول عذرا کے انکے ابو تک نے یہ پیشن گوئی کردی کہ اس عورت کا انجام اچھا نہیں ہوگا یہاں تک کے رکشے ڈرائیور نے بھی عذرا کے چہرے پر شرافت اور سارا کی بے ہو دگی پڑھ لی۔۔ کیا یہ سب گواہیاں۔۔ یہ الفاظ ایک مردے کو بے کفن کرنے کے لئے لکھنا، کہنا ضروری تھے؟ ایک انسان جب اپنی ذلتوں سمیت اس دنیا کے نام نہاد شریفوں کے منہ پر تھوک کر چلا ہی گیا تو اس پر” ذلتوں کے اسیر” اور “درد کا محل وقوع “لکھنے ضروری تھے؟؟
عذرا عباس ہی کی نظم ہے۔۔
جب کہنے کے لئے کچھ نہ ہو
کہنے کے لئے کچھ نہیں ہو تا
صرف بدگوئیاں
اور بے ہو دہ گالیاں
لتھڑے ہو ئے لفظ
اور گلی میں جھگڑا کرتی ہو ئی آوازیں
پھر ہم کیا کرتے ہیں
بدگوئیاں
اور خود کو خوش کر نے کے لئے
بد فعلیاں
یا پھر گلی سے باہر
جھگڑے میں لتھڑی ہوئی
گالیاں
جو لباسوں کے لئے
خوش کن ہو تی ہیں
اور جب کہنے کے لئے کچھ نہ
یہ خطرہ بھی ٹل جاتا ہے
ہم اپنے نام کی تختی الٹ کر
گلی میں نکل جاتے ہیں
تو کیا عذرا عباس اور انور سن رائے کے پاس ان بدگوئیوں کے علاوہ لکھنے کے لئے یا ادب کو دینے کے کچھ نہیں رہ گیا تھا۔عذرا نے اپنی کتاب میں جہاں سارا کے سب ہی شعرا کے ساتھ تعلقات کا راز فاش کیا ہے وہاں انہوں نے اپنے شوہر کو بھی نہیں بخشا، بلکہ یوں لگتا ہے کہ جو مسئلہ یہ دونوں میاں بیوی گھر میں سلجھا سکتے تھے یا فیس بک کی پوسٹس پر راضی بر ضا ہو سکتے تھے اس کے لئے پو ری کتابیں لکھ ڈالیں۔
انور سن رائے کے ناول کی پہلی اشاعت 1997میں ہوئی۔کتاب کا انتساب عذرا عباس کے نام ہے اور اختتام پر اسی بات کا ثبوت دینے کی کوشش کی ہے کہ کہ انہوں نے سارا (ان کے ناول میں ثانیہ نام رکھا گیا ہے) کے جسم کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔ بس بات روح تک ہی تھی۔
یہ دونوں ردی ناول پڑھ کر میں سوچ رہی ہوں کہ اگر انور سن رائے، عذرا عباس کی گوسپس، افواہیں اور سارا شگفتہ کی برائیاں دھیان سے سن لیتے (درد کے محل وقوع میں جگہ جگہ یہی بات بار بار کی گئی ہے کہ میں نے انور کو فلاں کی بات بتائی اور ظاہر ہے ہر بات سارا سے متعلق ہو تی تھی، مگر انہوں نے سنی ان سنی کر دی)،اور دوسری طرف انور سن رائے، عذرا بیگم کو اپنی وفاداری کا ثبوت دینے اور اس کا شک دور کر نے میں کامیاب ہو جاتے تو ادب ان دو شاہکار ناولوں سے محروم رہتا۔
عذرا بیگم!! آپ ۸۸۹۱ میں چھپنے والی اپنی کتاب کا انتساب اپنے شوہر کے نام ہی کرتی ہیں حالانکہ وہ اس سے پہلے ہی آپ سے بے وفائی کر چکے تھے۔۔ اور پھر ۶۱۰۲ میں آپ ان کے کچھے چھٹے کھول رہی ہیں اور ایک سالوں پہلے گڑا مردے کو قبر سے نکال کر اس کی تذلیل کر رہی ہیں ۔۔ اور انور صاحب،وہ سب کر کرا کے ۷۹۹۱ میں “ذلتوں کے اسیر” کا انتساب آپ کے نام کرتے ہیں اور ناول میں آپ کو ایک شریف اور باکرہ دکھا کر ایک مری ہوئی عورت کو شرابی، ہیئروئن ایڈیکٹ، ہم جنس پرست، اور جسم فروش اور نجانے کیا کیا دکھاکر اپنے اور آپ کے لئے نیک نامی کما لیتے ہیں۔۔ اپنے تئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور دوسری طرف سارا شگفتہ اپنا مقدمہ لڑنے کو اس دنیا میں نہیں ہے کیونکہ وہ مقابلہ کے قابل ہو تی تو اتنی جوانی میں خود کشی ہی کیوں کرتی سب سے گن گن کر بدلے نہ لیتی۔۔ امرتا پریتم اورسعید احمد (جو اسے بالکل زندگی کے آخر میں ملے، جس کے ساتھ وہ جینا بھی چاہتی تھی) کے علاوہ اس کی روح کی معصومیت اور گہرائی کو کوئی نہیں جان پایا۔۔۔۔۔سارہ کی شاعری چیخ چیخ کر پڑھنے والے کے دل اور جگر کو چیرتی ہے مگر ہم کہتے ہیں کہ جھوٹی عورت کی جھوٹی کہانی۔۔ عذرا صاحبہ کہتی ہیں کہ میں نے اسے چیخ کر روکا کہ کتنا جھوٹ لکھو گی۔۔۔۔۔
سارا نے امرتا کو ایک خط میں ٹھیک کہا تھا کہ کاغذی لوگوں سے میں اب نہیں ملتی۔۔۔ خاموش رہتی ہوں اور ساحل سمندر پر چلی جاتی ہوں۔۔اور اکیلی پھرتی رہتی ہوں۔۔۔
اس کی روح کی سچائی اور تنہائی ہی ہو گی جو میں۔۔ اتنے سالوں بعد سات سمندر پار کینڈا میں بیٹھے سارا شگفتہ کا مقدمہ لڑ رہی ہوں۔۔ امرتا کو خواب آیا تھا کہ لوگ سارا کو زندہ دفنا رہے ہیں۔۔۔ اور حقیقت یہ ہے کہ لوگ ہر اس زندہ کو دفنانے کی کوشش کر تے ہیں جو زندگی کو زندگی کی طرح جینا چاہتا ہے۔عام لوگ ہوں یا شاعر، ادیب، مولوی یعنی سماج کا کوئی بھی ٹھیکدار ہو سب کے ہاتھوں میں ایسے سکے ہیں جن کی دو سائیڈز ہیں جنہیں وہ اپنی طرف اچھالیں تو ہمیشہ ہیڈ آئے گا اور دوسرے کی طرف اچھالتے ہیں تو ہمیشہ ٹیل ہی آتی ہے۔۔۔
۔۔یہ مضمون میں نے ۳۱ اکتوبر کو لکھا تھا، سارا شگفتہ کی سالگرہ والے دن۔ اس نے امرتا کو کہا تھا: “چڑیوں کا چہچہانا ہی میرا جنم دن ہے”۔
اگر اب چڑیوں نے چہچہانا کم کر دیا یا بالکل چھوڑ دیا تو یہ نہ سمجھئے گا کہ چڑیاں اس زمین سے ختم ہو رہی ہیں بلکہ سوچئیے گا کہ چہچہانے والی چڑیوں کے ساتھ ہم نے کیا کیا؟اس زندستان سے

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مائدہ ۔۔۔ اللہ کا دسترخواں
  • علامہ اقبال اور ملت اسلامیہ کی فلاح
  • ایلف شفق کا ناول: حوا کی تین بیٹیاں
  • اختر شہاب کی کتاب
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ارض و سما کہاں تری وسعت
پچھلی پوسٹ
اندھیر

متعلقہ پوسٹس

اشعار کی صحت کے متعلق تیسرا کالم

جولائی 15, 2020

مقصد ِحیات

جون 27, 2022

کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے

اپریل 9, 2020

قیامت خود بتائے گی قیامت کیوں ضروری تھی

ستمبر 13, 2020

اے عشق نبیﷺ

دسمبر 19, 2025

ٹوٹتا خاندانی نظام اور ماں

اکتوبر 18, 2025

نواب سلیم اللہ خان

جنوری 15, 2020

لہروں پر ڈولتی زندگی

جنوری 3, 2022

ایک نئی خبر، ایک نیا سانحہ

اگست 18, 2025

سرحدی کارروائیوں کی روشن مثال

فروری 22, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دریا بپھر گئے ہیں

اگست 29, 2025

سمپورن سنگھ کالرا

ستمبر 7, 2024

بٹائی کے دنوں میں

جون 14, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں