خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےقادرا قصائی
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

قادرا قصائی

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 19, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 19, 2020 0 تبصرے 524 مناظر
525

قادرا قصائی

عیدن بائی آگرے والی چھوٹی عید کو پیدا ہوئی تھی‘ یہی وجہ ہے کہ اس کی ماں زہرہ جان نے اس کا نام اسی مناسبت سے عیدن رکھا۔ زہرہ جان اپنے وقت کی بہت مشہور گانے والی تھی‘ بڑی دُور دُور سے رئیس اس کا مجرا سننے کے لیے آتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ میرٹھ کے ایک تاجر عبداﷲ سے جو لاکھوں میں کھیلتا تھا ‘ اسے محبت ہو گئی‘ اُس نے چنانچہ اسی جذبے کے ماتحت اپنا پیشہ چھوڑ دیا۔ عبداﷲ بہت متاثر ہوا اور اس کی ماہوار تنخواہ مقرر کر دی کوئی تین سو کے قریب۔ ہفتے میں تین مرتبہ اُس کے پاس آتا، رات ٹھہرتا۔ صبح سویرے وہاں سے روانہ ہو جاتا۔ جو شخص زہرہ جان کو جانتے ہیں اور آگرے کے رہنے والے ہیں اُن کا یہ بیان ہے کہ اُس کا چاہنے والا ایک بڑھئی تھا مگر وہ اُسے منہ نہیں لگاتی تھی۔ وہ بیچارہ ضرورت سے زیادہ محنت و مشقت کرتا اور تین چار مہینے کے بعد روپے جمع کر کے زہرہ جان کے پاس جاتا مگر وہ اُسے دُھتکار دیتی۔ آخر ایک روز اُس بڑھئی کو زہرہ جان سے مفصل گفتگو کرنے کا موقعہ مل ہی گیا‘ پہلے تو وہ کوئی بات نہ کر سکا۔ اس لیے کہ اس پر اپنی محبوبہ کے حسن کا رعب طاری تھا لیکن اُس نے تھوڑی دیر کے بعد جرأت سے کام لیا اور اُس سے کہا:

’’زہرہ جان۔ میں غریب آدمی ہوں‘ مجھے معلوم ہے کہ بڑے بڑے دھن والے تمہارے پاس آتے ہیں اور تمہاری ہر ادا پر سینکڑوں روپے نچھاور کرتے ہیں۔ لیکن تمھیں شاید یہ بات معلوم نہیں کہ غریب کی محبت دھن دولت والوں کے لاکھوں روپوں سے بڑی ہوتی ہے۔ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ معلوم نہیں کیوں‘‘

زہرہ جان ہنسی‘ اس ہنسی سے بڑھئی کا دل مجروح ہو گیا

’’تم ہنستی ہو۔ میری محبت کا مذاق اُڑاتی ہو‘ اس لیے کہ یہ کنگلے کی محبت ہے جو لکڑیاں چیر کر اپنی روزی کماتا ہے۔ یاد رکھو یہ تمہارے لاکھوں میں کھیلنے والے تمھیں وہ محبت اور پیار نہیں دے سکتے جو میرے دل میں تمہارے لیے موجود ہے‘‘

زہرہ جان اُکتا گئی‘ اُس نے اپنے ایک میراثی کو بلایا اور اس سے کہا کہ بڑھئی کو باہر نکال دو ‘ لیکن وہ اس سے پہلے ہی چلا گیا۔ ایک برس کے بعد عیدن پیدا ہوئی۔ اس کا باپ عبداﷲ تھا یا کوئی اور‘ اس کے متعلق کوئی بھی وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتا‘ بعض کا خیال ہے کہ وہ غازی آباد کے ایک ہندو سیٹھ کے نطفے سے ہے۔ کسی کے نطفے سے بھی ہو مگر بلا کی خوبصورت تھی۔ اِدھر زہرہ جان کی عمر ڈھلتی گئی‘ اُدھر عیدن جوان ہوتی گئی‘ اُس کی ماں نے اُس کو موسیقی کی بڑی اچھی تعلیم دی‘ لڑکی ذہین تھی‘ کئی اُستادوں سے اُس نے سبق لیے اور اُن سے داد وصول کی۔ زہرہ جان کی عمر اب چالیس برس کے قریب ہو گئی‘ وہ اب اُس منزل سے گزر چکی تھی جب کسی طوائف میں کشش باقی رہتی ہے‘ وہ اپنی اکلوتی لڑکی عیدن کے سہارے جی رہی تھی‘ ابھی تک اُس نے اُس سے مجرا نہیں کرایا تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ بہت بڑی تقریب ہو جس کا افتتاح کوئی راجہ نواب کرے۔ عیدن بائی کے حسن کے چرچے عام تھے۔ دُور دُور تک عیاش رئیسوں میں اس کے تذکرے ہوتے تھے‘ وہ اپنے ایجنٹوں کو زہرہ جان کے پاس بھیجتے اور عیدن کی نتھنی اُتارنے کے لیے اپنی اپنی پیش کش بھیجتے‘ مگر اُس کو اتنی جلدی نہیں تھی‘ وہ چاہتی تھی کہ مسّی کی رسم بڑی دھوم دھام سے ہو اور وہ زیادہ سے زیادہ قیمت وصول کرے۔ اس کی لڑکی لاکھوں میں ایک تھی‘ سارے شہر میں اُس جیسی حسین لڑکی اور کوئی نہیں تھی۔ اُس کے حسن کی نمائش کرنے کے لیے وہ ہر جمعرات کی شام کو اُس کے ساتھ پیدل باہر سیر کو جاتی‘ عشق پیشہ مرد اس کو دیکھتے تو دل تھام تھام لیتے۔ پھنسی پھنسی چولی میں گدرایا ہوا جوبن‘ سڈول بانھیں‘ مخروطی انگلیاں جن کے ناخنوں پر جیتا جیتا لہو‘ ایسا رنگ ‘ ٹھمکا سا قد‘ گھنگریالے بال۔ قدم قدم پر قیامت ڈھاتی تھی۔ آخر ایک روز زہرہ جان کی اُمید بَر آئی۔ ایک نواب عیدن پر ایسا لٹّو ہوا کہ وہ منہ مانگے دام دینے پر رضامند ہو گیا۔ زہرہ جان نے اپنی بیٹی کی مسّی کی رسم کے لیے بڑا اہتمام کیا‘ کئی دیگیں پلاؤ اور متنجن کی چڑھائی گئیں۔ شام کو نواب صاحب اپنی بگھی میں آئے‘ زہرہ جان نے ان کی بڑی آؤ بھگت کی۔ نواب صاحب بہت خوش ہوئے‘ عیدن دولہن بنی ہوئی تھی ‘ نواب صاحب کے ارشاد کے مطابق اُس کا مجرا شروع ہوا۔ پھٹ پڑنے والا شباب تھا جو محوِ نغمہ سرائی تھا۔ عیدن اُس شام بلا کی خوبصورت دکھائی دے رہی تھی‘ اُس کی ہر جنبش ‘ ہر ادا ‘ اس کے گانے کی ہر سُر زہد شکن تھی۔ نواب صاحب گاؤ تکیے کا سہارا لیے بیٹھے تھے۔ انھوں نے سوچا کہ آج رات وہ جنت کی سیر کریں گے جو کسی اور کو نصیب نہیں ہوئی۔ وہ یہ سوچ ہی رہے تھے کہ اچانک ایک بے ہنگم سا آدمی اندر داخل ہوا اور زہرہ جان کے پاس بیٹھ گیا‘ وہ بہت گھبرائی‘ یہ وہی بڑھئی تھا۔ اُس کا عاشقِ راز‘ بہت میلے اور گندے کپڑے پہنے تھا۔ نواب صاحب کو جو بہت نفاست پسند تھے ‘ ابکائیاں آنے لگیں۔ انھوں نے زہرہ جان سے کہا :

’’یہ کون بدتمیز ہے؟‘‘

بڑھئی مسکرایا‘

’’حضور! میں ان کا عاشق ہوں‘‘

نواب صاحب کی طبیعت اور زیادہ مکدّر ہو گئی‘ زہرہ جان‘ نکالو اس حیوان کو باہر‘‘

بڑھئی نے اپنے تھیلے سے آری نکالی اور بڑی مضبوطی سے زہرہ جان کو پکڑ کر اُس کی گردن پر تیزی سے چلانا شروع کر دی‘ نواب صاحب اور میراثی وہاں سے بھاگ گئے ‘ عیدن بیہوش ہو گئی۔ بڑھئی نے اپنا کام بڑے اطمینان سے ختم کیا اور لہو بھری آری اپنے تھیلے میں ڈال کر سیدھا تھانے گیا اور اقبالِ جرم کر لیا۔ کہا جاتا ہے کہ اُسے عمر قید ہو گئی تھی۔ عیدن کو اپنی ماں کے قتل ہونے کا اس قدر صدمہ ہوا کہ وہ دو اڑھائی مہینے تک بیمار رہی۔ ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ وہ زندہ نہیں رہے گی مگر آہستہ آہستہ اس کی طبیعت سنبھلنے لگی اور وہ اس قابل ہو گئی کہ چل پھر سکے۔ ہسپتال میں اس کی تیمار داری صرف اُس کے استاد اور میراثی ہی کرتے تھے۔ وہ نواب اور رئیس جو اس پر اپنی جان چھڑکتے تھے‘ بُھولے سے بھی اس کو پوچھنے کے لیے نہ آئے۔ وہ بہت دل برداشتہ ہو گئی۔ وہ آگرہ چھوڑ کر دہلی چلی آئی۔ مگر اس کی طبیعت اتنی اُداس تھی کہ اس کا جی قطعاً مجرا کرنے کو نہیں چاہتا تھا۔ اُس کے پاس بیس پچیس ہزار روپے کے زیورات تھے جن میں آدھے اس کی مقتول ماں کے تھے وہ انھیں بیچتی رہی اور گزارہ کرتی رہی۔ عورت کو زیور بڑے عزیز ہوتے ہیں‘ اس کو بڑا دُکھ ہوتا تھا جب وہ کوئی چُوڑی یا نکلس اونے پونے داموں بیچتی تھی۔ عجب عالم تھا‘ خون پانی سے بھی ارزاں ہو رہا تھا۔ مسلمان دھڑا دھڑ پاکستان جا رہے تھے کہ ان کی جانیں محفوظ رہیں۔ عیدن نے بھی فیصلہ کر لیا کہ وہ دہلی میں نہیں رہے گی۔ لاہور چلی آئے گی۔ بڑی مشکلوں سے اپنے کئی زیورات بیچ کر وہ لاہور پہنچ گئی لیکن راستے میں اس کی تمام بیش قیمت پشوازیں اور باقی ماندہ زیور اس کے اپنے بھائی مسلمانوں ہی نے غائب کر دیے۔ جب وہ لاہور پہنچی تو وہ لُٹی پٹی تھی۔ لیکن اس کا حسن ویسے کا ویسا تھا۔ دہلی سے لاہور آتے ہوئے ہزاروں للچائی ہوئی آنکھوں نے اُس کی طرف دیکھا مگر اس نے بے اعتنائی برتی۔ وہ جب لاہور پہنچی تو اس نے سوچا کہ زندگی بسر کیسے ہو گی؟ اُس کے پاس تو چنے کھانے کے لیے بھی چند پیسے نہیں تھے لیکن لڑکی ذہین تھی‘ سیدھی اُس جگہ پہنچی جہاں ان کی ہم پیشہ رہتی تھیں‘ یہاں اس کی بڑی آؤ بھگت کی گئی۔ ان دنوں لاہور میں روپیہ عام تھا‘ ہندو جو کچھ یہاں چھوڑ گئے تھے‘ مسلمانوں کی ملکیت بن گیا تھا۔ ہیرا منڈی کے وارے نیارے تھے۔ عیدن کو جب لوگوں نے دیکھا تو وہ اس کے عاشق ہو گئے۔ رات بھر اُس کو سینکڑوں گانے سننے والوں کی فرمائشیں پوری کرنا پڑتیں۔ صبح چار بجے کے قریب جب کہ اُس کی آواز جواب دے چکی ہوتی وہ اپنے سامعین سے معذرت طلب کرتی اور اوندھے منہ اپنی چارپائی پر لیٹ جاتی۔ یہ سلسلہ قریب قریب ڈیڑھ برس تک جاری رہا۔ عیدن اس کے بعد ایک علیحدہ کوٹھا کرایے پر لے کر وہاں اُٹھ آئی‘ چونکہ جہاں وہ مقیم تھی‘ اس نائکہ کو اسے اپنی آدھی آمدن دینا پڑتی تھی۔ جب اُس نے علیحدہ اپنے کوٹھے پر مجرا کرنا شروع کیا تو اُس کی آمدن میں اضافہ ہو گیا۔ اب اسے ہر قسم کی فراغت حاصل تھی‘ اس نے کئی زیور بنا لیے‘ کپڑے بھی اچھے سے اچھے تیار کرا لیے۔ اُسی دوران میں اس کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جو بلیک مارکیٹ کا بادشاہ تھا‘ اُس نے کم از کم دو کروڑ روپے کمائے تھے‘ خوبصورت تھا‘ اُس کے پاس تین کاریں تھیں ‘ پہلی ہی ملاقات پر وہ عیدن کے حسن سے اس قدر متاثر ہوا کہ اُس نے اپنی کھڑی سفید پیکارڈ اُس کے حوالے کر دی۔ اس کے علاوہ وہ ہر شام آتا اور کم از کم دو ڈھائی سو روپے اُس کی نذر ضرور کرتا۔ ایک شام وہ آیا تو چاندنی کسی قدر میلی تھی‘ اُس نے عیدن سے پوچھا

’’کیا بات ہے آج تمہاری چاندنی اتنی گندی ہے‘‘

عیدن نے ایک ادا کے ساتھ جواب دیا

’’آج کل لٹھا کہاں ملتا ہے؟‘‘

دوسرے دن اُس بلیک مارکیٹ بادشاہ نے چالیس تھان لٹھے کے بھجوا دیے‘ اُس کے تیسرے روز بعد اُس نے ڈھائی ہزار روپے دیے کہ عیدن اپنے گھر کی آرائش کا سامان خرید لے۔ عیدن کو اچھا گوشت کھانے کا بہت شوق تھا‘ جب وہ آگرے اور دلّی میں تھی تو اُسے عمدہ گوشت نہیں ملتا تھا مگر لاہور میں اُسے قادرا قصائی بہترین گوشت مہیا کرتا تھا۔ بغیر ریشے کے‘ ہر بوٹی ایسی ہوتی تھی جیسے ریشم کی بنی ہو۔

’’دُکان پر اپنا شاگرد بٹھا کر قادرا صبح سویرے آتا اور ڈیڑھ سیر گوشت جس کی بوٹی بوٹی پھڑک رہی ہوتی‘ عیدن کے حوالے کر دیتا‘ اس سے دیر تک باتیں کرتا رہتا جو عام طور پر گوشت ہی کے بارے میں ہوتیں۔ بلیک مارکیٹ کا بادشاہ جس کا نام ظفر شاہ تھا‘ عیدن کے عشق میں بہت بُری طرح گرفتار ہو چکا تھا‘ اُس نے ایک شام عیدن سے کہا کہ وہ اپنی ساری جائیداد‘ منقولہ اور غیرمنقولہ اُس کے نام منتقل کرنے کے لیے تیار ہے‘ اگر وہ اس سے شادی کر لے۔ مگر عیدن نہ مانی‘ ظفر شاہ بہت مایوس ہوا۔ اُس نے کئی بار کوشش کی کہ عیدن اُس کی ہو جائے مگر ہر بار اُسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ مجرے سے فارغ ہو کر رات کے دو تین بجے کے قریب باہر نکل جاتی تھی‘ معلوم نہیں کہاں۔ ایک رات جب ظفر شاہ اپنا غم غلط کر کے۔ یعنی شراب پی کر پیدل ہی چلا آ رہا تھا کہ اس نے دیکھا کہ سائیں۔ کے تکیے کے باہر عیدن ایک نہایت بدنما آدمی کے پاؤں پکڑے التجائیں کر رہی ہے کہ خدا کے لیے مجھ پر نظر کرم کرو‘ میں دل و جان سے تم پر فدا ہوں۔ تم اتنے ظالم کیوں ہو۔ اور وہ شخص جسے غور سے دیکھنے پر ظفر شاہ نے پہچان لیا کہ قادرا قصائی ہے‘ اُسے دُھتکار رہا ہے۔

’’جا۔ ہم نے آج تک کسی کنجری کو منہ نہیں لگایا۔ مجھے تنگ نہ کیا کر‘‘

قادرا اُسے ٹھوکریں مارتا رہا اور عیدن اُسی میں لذت محسوس کرتی رہی۔ ۲۴، مئی ۵۴ء

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اس کا پتی
  • سنا ہے عالم بالا میں کوئی کیمیا گر تھا
  • ذائقے کی لطیف حقیقت
  • مندر والی گلی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
قاسم
پچھلی پوسٹ
پُر کیف مناظر ہیں دن رات مدینے میں

متعلقہ پوسٹس

فرشتہ 

اگست 20, 2020

کرونا: کہیں عید کا سماں کہیں شام ِغریباں!

مئی 13, 2021

بھٹوں پر کام کرنے والے مسیحی مزدوروں کے نام

دسمبر 30, 2020

خواب سے حقیقت تک

فروری 13, 2026

والد – جنت کا دروازہ

جون 29, 2020

بدلتا ہوا شاہی محلہ اور بدلتے کردار

اپریل 16, 2020

زندگی! تجھے کیا چاہیے؟

اپریل 21, 2026

ہم عظیم ، تم حقیر

نومبر 5, 2019

رقصِ زر کا خمار

دسمبر 2, 2024

کم عمر بچے کے ہاتھ میں اسمارٹ فون کیوں؟

اگست 14, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ویلنٹائن ڈے منانے کا بتایا کس...

فروری 12, 2020

بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم

اکتوبر 15, 2025

دیمک بہتر یا کیڑا؟

اکتوبر 27, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں