خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابادیمک بہتر یا کیڑا؟
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزروبینہ فیصل

دیمک بہتر یا کیڑا؟

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 27, 2020
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 27, 2020 0 تبصرے 39 مناظر
40

دیمک بہتر یا کیڑا؟

لارڈز لندن ہے۔۔۔اس اگست2020 میں اس بات کو پورے دس سال ہو جائیں گے، ہو سکے تو اس بدنامی کی سالگرہ منالیں اور اُس وقت کے صدر ِ پاکستان آصف زرداری کے وژن کے مطابق،” مل کے کھاؤ اور مٹی پاؤ” پالیسی پر قائم رہنے کا تجدید ِ عہد بھی کر لیں۔ جب،”نیوز آف دی ورلڈ “کے انڈر کور رپورٹر نے بکی مظہر مجید کو میچ فکسنگ کرتے ہوئے ویڈیو ٹیپ کر لیا تھا, اس میچ فکسنگ سیکنڈل میں ہمارے تین نوجوان کر کٹرز جن میں کپتان سلمان بٹ،فاسٹ باؤلر محمد آصف اور محمد عامر شامل تھے۔ آئی سی سی نے تو ان کے کھیلنے پر پابندی لگائی ہی لگائی،سکاٹ لینڈ یارڈ (لندن پولیس) نے انہیں جیل میں بھی ڈالا اور قوم کے ان سپوتوں کو عدالت سے سزائیں بھی ہو ئیں۔۔ تو یہ تھا وہ کام جسے گھر کے اندر ٹھیک نہ کیا گیا تو گھر سے باہر ذلت اور بدنامی کا باعث بنا۔۔ یہ تینوں، جو اپنے ٹیلنٹ کی وجہ سے ملک کا فخر بن سکتے تھے، ایک انٹرنیشنل جواری کے ہتھے چڑھ کر، عالمی سطح پر ملک کا وقار خراب کرنے کا باعث بنے۔ آج، جب لو گ کہہ رہے ہیں کہ پی آئی اے کے جعلی ڈگری ہولڈرز پائلٹس کو منظر عام پر نہیں لانا چاہیئے تھا، تو درست کہتے ہیں کیونکہ جب تک” گورا “نہ ہمیں پکڑے ہمیں قرار نہیں آتا۔ اپنی حکومت ِ وقت کی نیت اور قابلیت پر تو بھروسہ نہیں ہے۔ بھروسہ کیسے ہو؟ پروپگنڈا کر نے والے سب کے سب ‘ایمانداری”سے الرجک جو ہیں۔
پاکستان سے، میرے دیور نے بتایا؛کہ آج صبح گوالا دودھ دینے آیا تو وہ بھی عمران خان کو گالیاں دے رہا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ اب دودھ میں ملاوٹ کی چیکنگ بہت سخت ہو گی اور اس وجہ سے ہمیں دودھ مہنگا ملے گا اور مہنگا بیچنا پڑے گا۔۔۔ یعنی پانی اور دوسرے لوازمات کے بغیر (جو صحت کو تباہ کر رہے تھے)دودھ سستا نہیں رہے گا۔۔ تو ہو گیا نا عمران خان گالیوں کا مستحق؟اس گوالے کی گالیوں سے باقی سب
متاثر ین کی گالیوں کی” وجوہات” کا اندازہ بھی لگا لیں۔۔ یہ، گالیاں دینے والے تو ہو گئے نظام کے سدھر جانے کے براہ راست متاثرین، پھر ہو یہ رہا ہے کہ یہ متاثرین اپنے زور ِ بازو سے، دہن ِ شیریں سے ایسا ایسا زہر اگلتے ہیں اور اس قدر تسلسل سے اگلتے ہیں کہ سیکنڈ ہینڈ متاثرین (سیکنڈ ہینڈ سموکرز کی طرح، جو خود سگریٹ نہیں پیتے مگر جو پیتا ہے، اس کے ساتھ بیٹھ کر اپنے پھیپھڑوں میں پینے والے سے زیادہ زہر اتارتے ہیں)روز روز کی گل فشانیوں سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہو جاتے ہیں اور بغیر سوچے سمجھے ان گالیوں میں حصہ ڈالنے لگ جا تے ہیں۔۔
ایک وقت تھا یہ فیشن بن گیا تھا کہ عمران خان کو سپورٹ کر نا ہے اور انقلاب لا کے چھوڑنا ہے۔۔ تب قدرت نے مجھے خان صاحب سے انقلاب کے بارے میں سوال پوچھنے کا موقع دیا۔۔ سوال کے جواب میں خان صاحب نے تمسخرانہ انداز میں مجھے دیکھا کوئی الٹا سیدھا جواب دیا اور قہقہہ لگایا،اور کہا آپ کی طرح ہم بھی انقلاب کے طالبعلم ہیں۔۔رمجھ پرسوالات کی تعداد کی پابندی تھی، اور ان کے گرد ایسا ہجوم تھا، جو ان کی بات پر ہنستا اور ان کی بات پر خاموش ہو جاتا تھا، اسی ماحول میں میرا انقلاب کا تصور ان سب کی ہنسی میں دھواں بن کر اڑ گیا مگر مجھے ان کے جوابات سے سمجھ آگئی کہ خان صاحب پاکستان کے کرپشن، بدنظمی، اقربا پروری، خاندانی بادشاہت کے بوسیدہ نظام میں کس حد تک تبدیلی لا سکتے ہیں، مجھے ان کے وژن سے کچھ ایسی امیدیں نہ رہیں، مگر ان کے حوصلے، ان کی ایمانداری، خلوص، سادگی اور ترقی کرتے پاکستان کے خواب دیکھنے سے مجھے کوئی اختلاف نہ تب تھا نہ اب ہے۔۔ مگر ایک دو سوالوں (وہ بھی پریس کانفرس کے شور شرابے والے ماحول میں) میں ہی مجھ پر ان کی تبدیلی (اس وقت تک خان صاحب اسے انقلاب کہا کرتے تھے)کی حددو آشکار ہو گئی تھیں۔۔ حیرت اس وقت ہو ئی جب وہ تمام منجھے ہوئے،قابل اور تجربہ کار صحافی، جنہیں یقینیا مجھ سے کہیں زیادہ خان صاحب سے بات کرنے اور انہیں جاننے کا موقع ملتا ہو گا۔۔، الیکشن سے پہلے لوگوں کو ایسے ایسے خواب دکھانے لگے کہ دیکھتے ہی دیکھتے ہی خان صاحب کے ہاتھوں ملک کی غربت دور ہو گئی، کر پشن اپنی موت آپ مر گئی، اقربا پروری کہیں قبر میں جا سوئی اور مساوات اور انصاف کا بول بالا ہو گیا۔
خان صاحب اور ان کے سیاسی حواری اگر یہ سب کرتے تھے تو یہ خان صاحب کا پہلا سیاسی سبق تھا جس میں سیاسی نعرے کچھ اور ہو تے ہیں اور زمینی حقائق کچھ اور۔۔ خان صاحب پاکستانی سیاست کے رنگ میں رنگے جا رہے تھے۔ مگر پھر جن کالم نگاروں اور تبصرہ نگاروں نے پاکستان کو پرستان بنا دیا تھا،خان صاحب کی کامیابی کے پہلے،دوسرے مہینے میں ہی آنکھیں ماتھے پر رکھنا شروع کر دیں اور” جہنم زمین پر” کا شور مچانے لگے۔
ہر ایک مشکل پر مخالفین تو شور مچاتے ہی مچاتے کہ ” ہن دسو مزا آیا؟” تبدیلی کا کیڑا نکلا، جیسے تبدیلی کی خواہش کوئی گناہ ہو جس کا ارتکاب سب خواب دیکھنے والے کر چکے ہیں، سونے پر سہاگہ یہ دانشور بھی اسی آواز میں آواز ملانے لگے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ فیشن بن گیا کہ” ہم خان صاحب کے ساتھ تھے مگر اب نہیں،”خان نے مایوس کیا ” وغیرہ وغیرہ۔
بہت کم لوگ تھے، جو پہلے بھی خان صاحب کی بے جا “واہ واہ ” کرنے والے ہجوم کا حصہ نہیں بنے تھے اور اب بھی ان کے خلاف اس” آہ آہ کا “حصہ نہیں بن رہے ہیں۔۔یہ حقیقت پسند لوگ ہیں جنہیں خان صاحب کے جیتنے کی خوشی صرف اس لئے تھی کہ وہ پاکستان کے گلے سڑے نظام میں پھول اگانے کی آخری امید کی علامت بن چکے تھے۔ یہ اور بات ہے کہ کھلی آنکھوں میں خواب نہیں حقیقت بھی رکھی ہو ئی تھی،ان کے دل میں ہارنے کا خوف بھی تھا، کہ جس نے بھی پاکستان کے کسی ایک ادارے میں بھی کام کیا ہو، وہ جانتا ہے کہ، رشوت،نا اہلیت، سفارش اور کرپشن کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ ایک چھوٹے سے ادارے کو ٹھیک کرنے کے لئے ایک انسان کو اپنی جان پرکھیلنا پڑتا ہے اور پھر بھی وہ اس گندی عمارت کی ایک بھی اینٹ اپنی جگہ سے نہیں سرکا سکتا۔
میکسم گورگی نے ماں میں لکھا ہے کہ ایک ہی حالت میں رہنے والے لوگوں کے لئے تبدیلی موت ہو تی ہے۔۔ یاد رکھئے یہ وہی موت ہے جو سب گلے سڑے نظام سے مستفید ہو نے والوں اور اب” متاثرین ِ عمران” کو پڑ رہی ہے جسے یہ آگے عام لوگوں میں ایک بہت منظم طریقے سے منتقل کر رہے ہیں۔
“گوالے کی گالیوں “کو لے کر تھوڑا آگے چلتے ہیں، صحافیوں اور میڈیا گروپس کی آہ و زاریاں بھی سمجھ میں آتی ہیں مگر آج کچھ اداروں میں بھی جھانک لیتے ہیں۔۔
ای سی سی کے واقفان حال بتاتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت کے ساتھ کیا ہو رہا ہے،یہاں ہم سٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز کی بات کریں تو معلوم ہو گا کہ ایک سال میں ان کو کتنے پیسے حکومت دیتی ہے اور پھر بھی یہ ادارے بے تحاشا خسارے میں ہیں۔۔ 2017-18میں مختلف کمرشل سرکاری اداروں کو 143ارب روپے سبسڈی کی مدمیں دئیے گئے، اس کے علاوہ ان اداروں کو 204 ارب روپے کا نقد ترقیاتی قرضہ دیا گیا، پھر انہیں 27ارب کی براہ راست مالی مدد دی گئی، اس کے علاوہ ان اداروں کو حکومت ِ پاکستان کی جانب سے قرضوں وغیرہ کے حصول کے لئے 318روپے کی گارنٹیاں بھی دی گئیں لیکن اس کے باوجود، ان اداروں نے کل ملا کر 265ارب روپے کا حتمی نقصان دکھایا۔
ایک واقعہ سن لیں اور خود اندازہ لگا لیں ان سفید ہاتھیوں میں سے ایک ٹی آئی پی بھی ہے،جو 2008 سے بند پڑی ہے۔پچھلے سال فیصلہ کیا گیا تھا کہ ایسے تمام اداروں کی، جو تقریبا 85ہیں، ان میں سے 35 کی نج کاری کر دی جائے گی اس سے حکومتی خزانے پر بوجھ کم ہو گا۔
ٹی آئی پی،ہری پو ر کے ان ملازمین نے جو گھر بیٹھے آرام سے تنخوائیں اڑا رہے تھے، اس فیصلے کی خبر سن کر واویلا مچایا اور عمر ایوب صاحب جو اس وقت حکومتی وزیر ِ بھی ہیں کے پاس جا پہنچے، اور اسی وجہ سے وزیر صاحب نے ای سی کی میٹنگ میں ٹی آی پی کو نج کاری والی فہرست سے نکالنے کی سفارش کی اور کہا کہ وہ دو مہینے کے اندر ایسا پلان لائیں گے کہ ادارہ اپنے پاؤں پر خود کھڑا ہو جائے گا اور حکومت پر بوجھ نہیں رہے گا۔
جب ان کا لایا ہواپلان زیر ِ بحث آیا تو اس پہاڑ میں سے جو چوہا نکلا وہ یہ تھا کہ ایک ارب ٹی آئی پی کے اکاؤنٹ میں ہیں اور ڈیڑھ ارب حکومت دے تو اس ادارے کو پھر سے کھڑا کیا جا سکتا ہے۔۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ صاحب جو اس میٹنگ کی صدارت کر رہے تھے انہوں نے یہ بے کارتجویز مسترد کردی کیونکہ اس سے بوجھ پھر حکومتی خزانے پر ہی پڑ رہا تھا۔۔ عمر ایوب صاحب نے کہا؛ اس کا ہمیں سیاسی طور پر نقصان ہو گا، اس علاقے سے پی ٹی آئی پھر کبھی الیکشن نہیں جیت سکے گی۔۔”
شیخ صاحب نے کہا ہمیں سیاسی نہیں ملکی مفاد دیکھا چاہیئے۔۔۔”
اس سے اندازہ ہوا کہ اس حکومت میں فیصلے سیاسی اور ذاتی مفادات کو دیکھ کر نہیں، ملکی مفاد کو دیکھ کر کئے جا رہے ہیں۔۔
یہ تو قصہ ہو گیا اس میٹنگ کا اسی طرح کا ایک اور ہاتھی۔۔سٹیل مل ہے جو 2015 سے بند پڑی ہے اورجس کے ملازمین کو ابھی تک تنخوائیں چار ارب سے زائد دی جا رہی ہیں۔۔، اس بند کاروبار کے بجلی،گیس اور پانی کے بل اٹھا کر دکھا لیں، اربوں کا کھیل ہے۔۔۔
ان ایس او ایز کے نقصانات،پاکستان کے دفاعی بجٹ سے کہیں زیادہ ہو گئے ہیں۔
وزیر ِ اعظم ہاؤس، فنانس منسٹری اورڈویلپمنٹ منسٹری اس طرح کے بڑے بڑے ہاوسز اور ان کے ملازمین کے اخراجات، جن کو سال کے آخیر تک12،12بونس بھی مل جایا کرتے تھے، اوراب ان کی تنخوائیں تک نہیں بڑھ رہی ہیں۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق عمران حکومت میں کرپشن کی شرح شریف حکومت سے 98%کم ہو گئی ہے۔
اس دفعہ بجٹ میں 2900 ارب صرف قرضوں پر سود (اصل نہیں) کی مد میں رکھا گیا ہے۔ یہ قرضے یقینا پچھلی حکومتوں نے لے کر ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہا رکھی تھیں۔۔۔
جیسے نہرو اور پاٹیل نے قائد اعظم کو کٹا پھٹا پاکستان دے کر کہا تھا کہ یہ کچھ مہینے بھی نہیں چل سکے گا اور واپس ہم سے ہی آن ملو گے۔۔ یہی حال کچھ اس پاکستان کے ساتھ بھی ہوا ہے۔۔ شاہی خاندان والوں نے ببانگ دہل کہا تھا، خان کو ملک ایسی حالت میں دے رہے ہیں کہ
کہ یہ تین سال بھی نہیں نکال پائے گا۔۔۔۔اف!! یہ اعتماد اور یہ مکاریاں۔۔۔۔۔۔۔
کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ پارلیمانی لولی لنگڑی جمہوریت، کرپٹ نظامِ شاہی، طاقتور فوج، عجیب و غریب عدلیہ،خاندانی اقربا پروری، غریب اور ان پڑھ عوام کے سمندر میں ” ملاح “کو ہاتھ باندھ کر پھینک دیا گیاہے وہ اگر ان بندھے ہاتھوں سے چپو تھامتا بھی ہے تو چپو بھی ٹوٹا ہوا ہے اور ہواؤں کا رخ بھی مخالف سمت میں ہے۔۔ ایسے میں وہ چار قدم بھی منزل کی طرف لے جائے تو سواریوں کے لئے غنیمت ہے ورنہ ان کی کشتی تو نہ جانے کب سے ڈوبنے کے لئے تیار شد کر دی گئی ہے۔۔
اگر خان صاحب ہار گئے تو سمجھئے اس نظام کو اور ان شاہی خاندانوں کو کبھی بھی کوئی بھی مائی کا لال ڈنٹ نہیں ڈال سکتا۔۔۔
ہر بات پر خان صاحب کو گالیاں، طعنے اور ان کا مذاق اڑانے کی بجائے ان کا ساتھ دیں زیادہ سے زیادہ آپ کو” یوتھیا “کہہ کر آپ کی تضحیک کی جائے گی۔۔ تو آپ کو کون سا “پٹواری “کہنا نہیں آتا۔۔
یقین رکھیں!!تاریخ ثابت کرے گی کہ ایک یو تھیا ایک پٹواری سے کہیں بہتر تھا کہ جس تبدیلی کے کیڑے نے اسے چین سے سونے نہیں دیا اور اس کی آنکھوں میں خواب جگائے رکھے وہ اس دیمک سے ہزار درجہ بہتر ہے جو خاموشی سے نسلوں کو کھا جاتی ہے اور قوموں کو مٹا دیتی ہے۔

روبینہ فیصل

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تری جدائی میں یہ دل
  • وحشتِ دل ہی بنے حیلہ
  • پرند گھر پہ بلاتا ہوں
  • نسل نو میں عدم برداشت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
میں سوچتا تو وہ غم میرے اختیار میں تھے
پچھلی پوسٹ
ایک گھریلو سا خراج ِ عقیدت

متعلقہ پوسٹس

وہ بے بسی کہ جسم میں

نومبر 8, 2025

مگر تم سے کہا کس نے؟

نومبر 7, 2020

حرفِ تسلی

جنوری 24, 2020

ایران میں احتجاجی طوفان

جنوری 12, 2026

خودکشی

فروری 2, 2020

سیاسی اور انتظامی انجینیرنگ کہ بعد!

اگست 23, 2020

تکبر کا انجام

جولائی 24, 2020

ذرا دیکھیں تو ہو کیا رہا ہے باہر

مارچ 22, 2020

اِدھر اُدھر میں نہیں

نومبر 11, 2025

تیرا وعدہ جھوٹا نکلا

مئی 14, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

نہر کنارے

فروری 12, 2025

سلِیپ ڈِس آرڈر

دسمبر 20, 2021

کچھ ایسی کوزہ گری آگئی اُداسی...

نومبر 2, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں