117
اپنا ملن کسی کی دلی بد دعا بھی ہے
یعنی ہمارا وصل ہماری سزا بھی ہے
اس پر ٹھہر سکے تو ٹھہر، چل سکے تو چل
یہ دل قیام گاہ بھی ہے، راستہ بھی ہے
المختصر ! تمھاری مہک اوڑھتے ہوئے
احساس ہوگیا کہ اسے پھیلنا بھی ہے
تجھ پر خوشی غمی کو ملایا گیا کہ تُو
اک خوشگوار یاد بھی ہے، سانحہ بھی ہے
اچھا تری نظر میں بہت مختلف ہوں میں
یعنی تری نظر میں کوئی دوسرا بھی ہے
ساری حسوں کی ڈور سماعت کو سونپ کر
اس دل پہ کان رکھ، کہ خدا بولتا بھی ہے
ہر ایک داستان کے ہر ایک موڑ پر
حارثؔ یہ سوچنا کبھی ایسا ہوا بھی ہے
حارث بلال
