617
جگ میں آتا ہے ہر بشر تنہا
لوٹ جاتا ہے پھر کدھر تنہا
کچھ دعا بھی تو ہو مریض کے نام
کب دوا کا ہوا اثر تنہا
مدتوں خود کو ہی تراشا ہے
سیپ میں رہ کے اک گہر تنہا
عمر بھر سب کے کام آیا جو
رو پڑا خود کو دیکھ کر تنہا
سب مسرت میں ساتھ دیتے ہیں
غم اٹھائیں گے ہم مگر تنہا
ترک الفت جو اس نے کی ہم سے
تھامتے ہم رہے جگر تنہا
چھاؤں میں بیٹھ کر گئے ہیں سبھی
رہ گیا پھر سے اک شجر تنہا
کہکشاں بھی ہے اور تارے بھی
چاند آتا ہے کیوں نظر تنہا
یادوں کے کارواں ملے ہم سے
خود کو سمجھے تھے ہم جدھر تنہا
چار پل وصل کے جو بیت گئے
خود کو پایا ہے کس قدر تنہا
بیچ اپنوں کے رہ کے بھی موناؔ
زندگی ہم نے کی بسر تنہا
ایلزبتھ کورین مونا
