خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابامیری راۓ میں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزمحبوب صابر

میری راۓ میں

ایک اردو کالم از محبوب صابر

از سائیٹ ایڈمن اپریل 2, 2020
از سائیٹ ایڈمن اپریل 2, 2020 0 تبصرے 427 مناظر
428

میری راۓ میں

کبھی بحیثیت قوم جب ہم اپنے اجتماعی رویے پر غور کریں تو عجیب طرح کا احساسِ ندامت سارے وجود کو جکڑ لیتا ہے۔ ہمیں نہ خوشی منانے کا شعور ہے اور نہ ہی ہم غم منانے کی سیلقگی سے آشنا ہیں۔ ہر شخص اُکتایا ہوا، ہر نفس بیزار، ہر چہرے پر بے یقینی اور پژمردگی، ہمیں اپنے دوستوں سے گلے، رشتوں سے شکوے اور تعلقات سے رنجشوں نے کچھ اس طرح کےاحساسِ برتری میں مبتلا کر رکھا ہے کہ ہر کسی کے پاس دوسرے پر کئے گۓ احسانات اور قربانیوں کی ایک لمبی بلکہ نہ ختم ہونے والی فہرست ہے۔

ہماری گفتگو میں خود ستائشی اور ذاتی اوصاف کی تشہر اس بہتات سے ہوتی ہے کہ کبھی کبھی اصل متن باالکل ہی مفقود ہو کر رہ جاتا ہے اور اگر خوش قسمتی سے کوئ باشعور سامع میسر آ بھی جاۓ تو وہ دیر تک منہ کھولے حیرت و تاسف سے یہی سوچتا رہتا ہے کہ سامنے والا اصل میں کہنا کیا چاہ رہا ہے۔ منتشرالخیال دانشوروں کا ایک جمِ غفیر جو دوسروں کی آنکھ سے تنکا نکالنے کیلئے ہمہ وقت مصروفِ کار رہتا ہے۔ استاد، عالم، رہبر ، منصف، فنکار، کھلاڑی، لکھاری، صحافی، شاعر ادیب سبھی اپنی اپنی ذات میں اکملیت، مہارت اور علم کا سورج روشن کیئے اپنے تئیں شعور و آگہی کا نور بانٹتے جگہ جگہ دکھائی دیتے ہیں۔

نہ باہمی احترام، نہ وضعداری ، نہ عجزو انکساری، نہ مروت اور نہ ہی رکھ رکھاؤ، نہ دلیل کی قدر اور نہ کسی دوسرے کی راۓ کا احترام۔ بات بات پر طعن و تشنیع، دل آزاری، تضحیک اور عزتِ نفس کو مجروح کرنا عمومی طرزِ معاشرت ہے۔ کوئ یہ بات سمجھنے یا اِس سے اتفاق کرنے کیلئے تیار ہی نہیں کہ ہر کوئ ہر کسی کام کیلئے نہیں ہوتا۔ نہ ہی ہر علم کی تشریح کا ادراک ہر کسی کو ودیعت کیا جاتا ہے۔ مگر ہم بضد ہیں۔ ہماری ہٹ دھرمی ہمارے لیئے جتنے بھی بڑے نقصان کا باعث کیوں نہ بن جاۓ ہم اپنے موقف سے رتی برابر بھی پیچھے ہٹنا اپنی انائ توہین سمجھ رہے ہوتے ہیں۔

ہماری والدین سے چپکلش، اولاد سے اختلاف، بہن بھائیوں سے جھگڑوں اور دوستوں سے حسد اور منافقت نے ہمیں آہستہ آہستہ اور غیر محسوس طریقے سے بے حِسی کے ایسے سفر پر گامزن کر دیا ہے کہ جہاں سے زندگی کی آخری سانس تک بھی ہماری واپسی ناممکن ہے۔ مصنوعیت کی خاک سے لتھڑے چہروں کیساتھ ہم بتدریج تیرگی کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں مگر اس خبط میں مبتلا ہیں کہ ہم روشنی کا عَلم تھامے وقار اور تمکنت کے متلاشی ہیں۔ اقوام عالم کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ سائنس اور فسلفہ سے استفادہ کرنے والی بیشتر قوموں نے قدرے بہتر انداز میں معاشرتی ڈھانچوں کو استوار کیا۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ کوئ سچ حتمی اور متفقہ طور پر قبول نہیں کیا گیا۔ ہر معاشرے اور ہر وقت کا اپنا ایک الگ سچ ہے۔ لالچ، حسد، بغض، منافقت، جھوٹ، مکاری، دروغ گوئ، فریب ، دیانت، ایثار، سچائ، نیکی ، مذہب اور پارسائ غرض کہ ہر لفظ کی توجیح اور تشریح بنی نوع انسان نے اپنے موافق حالات اور معلوم حقائق کی بنا پر اپنے انداز میں کی۔ پھر اختلاف کیوں؟؟ ایک دوسرے کیلئے درگزر کے راستے کیوں مسدود کر دیے جاتے ہیں؟ کیونکہ ایک نظریے کا حامل شخص خود سے مختلف نظریہ رکھنے والے کے وجود ہی کو بوجھ سمجھنا شروع کر دیتا ہے؟؟ کیا ہم میں سکت ہے کہ ہم وقت کو تسخیر کر لیں؟؟ کیا ہم میں قوت ہے کہ ہم کائناتِ ارضی کو حکم دیں کہ ہماری خواہشات کی تکمیل ہماری جنبشِ لب کی محاج بنا دے؟؟؟ نہیں کچھ بھی ایسا نہیں ہو سکتا۔ یہ جانتے ہوۓ بھی کہ انسان ایک حد تک ہی بااختیار ہے پھر بھی ہم اس مختصر سی زندگی کو جہنم بناۓ ہوۓ ہیں۔ صرف ایک لمحے کیلئے ورطئہ فکر میں غوطہ زن ہو کر اپنے ضمیر سے استفسار کریں تو جواب سواۓ بے بسی کے کچھ نہیں ملے گا۔ ہمیں بس اُس ایک لمحے کو مسخر کرنا ہے جس میں ہم انسانیت کے منصب سے گر جاتے ہیں۔ جو ہمیں ہماری خواہشات کے حصول کیلئے ہمیں خود اپنی نظروں میں قابلِ نفرت بنا دیتا ہے۔ ہمیں اُس شعور اور بینائ کی جستجو کرنا ہے کہ جو متلاشی نگاہ بن کر ہم میں چُھپی قدسی روح کو ڈھونڈھ لے اور جو ہمیں حقیقت میں وقار اور تمکنت سے جینے کے آداب سکھا دے۔ ہمیں خود پہ دھیان دینا ہوگا۔ اپنے آپ سے دوری اور خود سے بیگانگی ہی ہمارے بہتر بلکہ مثبت طرزِ زندگی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
محبوب صابر
02 اپریل 2020 سیالکوٹ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • داد کب ضبطِ مسلسل پہ
  • باسط
  • قرآن مجید پڑھنے کی عادت
  • درد ہونٹوں میں جو دبا رہے گا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
جگ میں آتا ہے ہر بشر تنہا
پچھلی پوسٹ
بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے

متعلقہ پوسٹس

جستجوِ صبحِ نو

دسمبر 15, 2024

زخم خوردہ سے ہیں

نومبر 9, 2025

اردو غزل کی روایت اور اقبال

مئی 27, 2024

غم مجھے کرنے لگے

اکتوبر 15, 2025

کون وہ گرد اڑاتا ہے

جولائی 5, 2025

سوشل میڈیا، وقت، شعور اور حقیقت کی حفاظت

مارچ 9, 2026

زندگی

اکتوبر 14, 2025

ہیں درمیاں میں فاصلے بھی رابطے کے بعد

مارچ 12, 2020

بڑی مشکل تھی آسانی سے پہلے

مارچ 2, 2022

بے کاری

دسمبر 15, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

حج اکبر

دسمبر 10, 2019

ہاتھ اٹھا اور یہ دعا کر...

اکتوبر 16, 2025

ہم خوار ہوئے تارک قرآن ہو...

اگست 17, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں