خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابامیری راۓ میں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزمحبوب صابر

میری راۓ میں

ایک اردو کالم از محبوب صابر

از سائیٹ ایڈمن اپریل 2, 2020
از سائیٹ ایڈمن اپریل 2, 2020 0 تبصرے 458 مناظر
459

میری راۓ میں

کبھی بحیثیت قوم جب ہم اپنے اجتماعی رویے پر غور کریں تو عجیب طرح کا احساسِ ندامت سارے وجود کو جکڑ لیتا ہے۔ ہمیں نہ خوشی منانے کا شعور ہے اور نہ ہی ہم غم منانے کی سیلقگی سے آشنا ہیں۔ ہر شخص اُکتایا ہوا، ہر نفس بیزار، ہر چہرے پر بے یقینی اور پژمردگی، ہمیں اپنے دوستوں سے گلے، رشتوں سے شکوے اور تعلقات سے رنجشوں نے کچھ اس طرح کےاحساسِ برتری میں مبتلا کر رکھا ہے کہ ہر کسی کے پاس دوسرے پر کئے گۓ احسانات اور قربانیوں کی ایک لمبی بلکہ نہ ختم ہونے والی فہرست ہے۔

ہماری گفتگو میں خود ستائشی اور ذاتی اوصاف کی تشہر اس بہتات سے ہوتی ہے کہ کبھی کبھی اصل متن باالکل ہی مفقود ہو کر رہ جاتا ہے اور اگر خوش قسمتی سے کوئ باشعور سامع میسر آ بھی جاۓ تو وہ دیر تک منہ کھولے حیرت و تاسف سے یہی سوچتا رہتا ہے کہ سامنے والا اصل میں کہنا کیا چاہ رہا ہے۔ منتشرالخیال دانشوروں کا ایک جمِ غفیر جو دوسروں کی آنکھ سے تنکا نکالنے کیلئے ہمہ وقت مصروفِ کار رہتا ہے۔ استاد، عالم، رہبر ، منصف، فنکار، کھلاڑی، لکھاری، صحافی، شاعر ادیب سبھی اپنی اپنی ذات میں اکملیت، مہارت اور علم کا سورج روشن کیئے اپنے تئیں شعور و آگہی کا نور بانٹتے جگہ جگہ دکھائی دیتے ہیں۔

نہ باہمی احترام، نہ وضعداری ، نہ عجزو انکساری، نہ مروت اور نہ ہی رکھ رکھاؤ، نہ دلیل کی قدر اور نہ کسی دوسرے کی راۓ کا احترام۔ بات بات پر طعن و تشنیع، دل آزاری، تضحیک اور عزتِ نفس کو مجروح کرنا عمومی طرزِ معاشرت ہے۔ کوئ یہ بات سمجھنے یا اِس سے اتفاق کرنے کیلئے تیار ہی نہیں کہ ہر کوئ ہر کسی کام کیلئے نہیں ہوتا۔ نہ ہی ہر علم کی تشریح کا ادراک ہر کسی کو ودیعت کیا جاتا ہے۔ مگر ہم بضد ہیں۔ ہماری ہٹ دھرمی ہمارے لیئے جتنے بھی بڑے نقصان کا باعث کیوں نہ بن جاۓ ہم اپنے موقف سے رتی برابر بھی پیچھے ہٹنا اپنی انائ توہین سمجھ رہے ہوتے ہیں۔

ہماری والدین سے چپکلش، اولاد سے اختلاف، بہن بھائیوں سے جھگڑوں اور دوستوں سے حسد اور منافقت نے ہمیں آہستہ آہستہ اور غیر محسوس طریقے سے بے حِسی کے ایسے سفر پر گامزن کر دیا ہے کہ جہاں سے زندگی کی آخری سانس تک بھی ہماری واپسی ناممکن ہے۔ مصنوعیت کی خاک سے لتھڑے چہروں کیساتھ ہم بتدریج تیرگی کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں مگر اس خبط میں مبتلا ہیں کہ ہم روشنی کا عَلم تھامے وقار اور تمکنت کے متلاشی ہیں۔ اقوام عالم کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ سائنس اور فسلفہ سے استفادہ کرنے والی بیشتر قوموں نے قدرے بہتر انداز میں معاشرتی ڈھانچوں کو استوار کیا۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ کوئ سچ حتمی اور متفقہ طور پر قبول نہیں کیا گیا۔ ہر معاشرے اور ہر وقت کا اپنا ایک الگ سچ ہے۔ لالچ، حسد، بغض، منافقت، جھوٹ، مکاری، دروغ گوئ، فریب ، دیانت، ایثار، سچائ، نیکی ، مذہب اور پارسائ غرض کہ ہر لفظ کی توجیح اور تشریح بنی نوع انسان نے اپنے موافق حالات اور معلوم حقائق کی بنا پر اپنے انداز میں کی۔ پھر اختلاف کیوں؟؟ ایک دوسرے کیلئے درگزر کے راستے کیوں مسدود کر دیے جاتے ہیں؟ کیونکہ ایک نظریے کا حامل شخص خود سے مختلف نظریہ رکھنے والے کے وجود ہی کو بوجھ سمجھنا شروع کر دیتا ہے؟؟ کیا ہم میں سکت ہے کہ ہم وقت کو تسخیر کر لیں؟؟ کیا ہم میں قوت ہے کہ ہم کائناتِ ارضی کو حکم دیں کہ ہماری خواہشات کی تکمیل ہماری جنبشِ لب کی محاج بنا دے؟؟؟ نہیں کچھ بھی ایسا نہیں ہو سکتا۔ یہ جانتے ہوۓ بھی کہ انسان ایک حد تک ہی بااختیار ہے پھر بھی ہم اس مختصر سی زندگی کو جہنم بناۓ ہوۓ ہیں۔ صرف ایک لمحے کیلئے ورطئہ فکر میں غوطہ زن ہو کر اپنے ضمیر سے استفسار کریں تو جواب سواۓ بے بسی کے کچھ نہیں ملے گا۔ ہمیں بس اُس ایک لمحے کو مسخر کرنا ہے جس میں ہم انسانیت کے منصب سے گر جاتے ہیں۔ جو ہمیں ہماری خواہشات کے حصول کیلئے ہمیں خود اپنی نظروں میں قابلِ نفرت بنا دیتا ہے۔ ہمیں اُس شعور اور بینائ کی جستجو کرنا ہے کہ جو متلاشی نگاہ بن کر ہم میں چُھپی قدسی روح کو ڈھونڈھ لے اور جو ہمیں حقیقت میں وقار اور تمکنت سے جینے کے آداب سکھا دے۔ ہمیں خود پہ دھیان دینا ہوگا۔ اپنے آپ سے دوری اور خود سے بیگانگی ہی ہمارے بہتر بلکہ مثبت طرزِ زندگی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
محبوب صابر
02 اپریل 2020 سیالکوٹ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • آنکھوں میں چھپا لیا گیا ہے
  • شعورِ ذات سے اُبھرو مقامِ ذات کو پاؤ
  • ہے ترے عشق کے
  • کہیں زمیں تو کہیں آسماں پسند کیا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
جگ میں آتا ہے ہر بشر تنہا
پچھلی پوسٹ
بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے

متعلقہ پوسٹس

درندے (ایک سچا واقعہ)

نومبر 7, 2021

ہم نے مل کر جناب لوگوں سے

جنوری 12, 2025

واسطہ اس سے جو پرانا ہے

مئی 14, 2020

بفیض ِ شوق محبت ترا فسانہ کُھلا

نومبر 30, 2019

تمہارے ہوتے ہوئے جاں مری کو آیا دکھ

نومبر 30, 2021

جو تیرے ساتھ بِتانے کو وقت مل جاتا

نومبر 30, 2021

بساط اور فرہاد

فروری 1, 2023

شعبان کی پندرہویں

مارچ 20, 2020

ان دیوتا

جون 14, 2020

تمہارے لوٹ کے آنے سے

ستمبر 27, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مرے وجود کی جاگیر اس نے...

نومبر 30, 2019

تعلیمی پالیسیوں میں عدم تسلسل کا...

دسمبر 9, 2025

سنو ناں بابا 

فروری 13, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں