122
زخم خوردہ سے ہیں خوابوں کے ہرن کیا کیجے
ہجر میں ٹوٹتا جاتا ہے بدن کیا کیجے
رزمیہ گیتوں پہ لو دیتی تھیں آنکھیں اس کی
اوڑھ آیا ہے وہ پرچم کا کفن کیا کیجے
اپنی تنہائی تو کھانے کو کلیجہ مانگے
ایسی سفاک ہے اس شب کی دلہن کیا کیجے
بھولتا کب ہے یہ دل آپ کی بانہوں کا حصار
یاد آتا ہے مسافر کو وطن کیا کیجے
حجلہءِ غیر میں سونے کی جسارت کی تھی
تیغ سی بن گئی بستر کی شکن کیا کیجے
دل میں پیوست ہے برسوں سے جدائی کی کسک
یاد کے زخم ہیں زخموں کی جلن کیا کیجئے
جن کو بھی آپ نے بانہوں سے نکالا ہو گا
گھیر لے گی انہیں نا دیدہ گھٹن کیا کیجے
بشریٰ شہزادی
