109
تو فقط کہانی سن ہچکیوں کو بھول جا
اشک بار لوگ گن تالیوں کو بھول جا
موسموں نے کیا کیا یہ کہانی چھوڑ دے
بارشوں کو بھول جا پانیوں کو بھول جا
اب زباں میں آ گئیں لکنتیں رکاوٹیں
میری گفتگو کی تو نرمیوں کو بھول جا
زندگی ہے مختصر ہر عناد چھوڑ دے
خوبیوں کو یاد رکھ خامیوں کو بھول جا
یہ چمن ترا چمن پھول تیرے پھول ہیں
خود ہی دیکھ بھال کر مالیوں کو بھول جا
بھول جا وہ دن کی نیند رات کا وہ جاگنا
جگنوؤں کو بھول جا تتلیوں کو بھول جا
وہ ہمارے بچپنے کی کہانی تھی فقط
شاہ زادے بھول جا رانیوں کو بھول جا
جس میں جتنا ظرف تھا اس نے وہ دکھا دیا
میری بات مان جا تلخیوں کو بھول جا
دانشؔ شکستہ پا اب تو واعظوں کی سن
محفلوں کو بھول جا ساقیوں کو بھول جا
دانش عزیز
