424
وقت بے وقت یہ پوشاک مری تاک میں ہے
جانتا ہوں کہ مری خاک مری تاک میں ہے
مجھ کو دنیا کے عذابوں سے ڈرانے والو
ایک عالم پس افلاک مری تاک میں ہے
سانپ ہر دشت میں کرتا ہے تعاقب میرا
بحر بے آب کا تیراک مری تاک میں ہے
جمع کرتا ہے شواہد مرے ہونے کے خلاف
در حقیقت مرا ادراک مری تاک میں ہے
ہے مرے گرد حفاظت کے لیے ایک حصار
ہو اگر کوئی غضب ناک مری تاک میں ہے
اس سے کہنا مجھے حاصل ہے تحفظ غیبی
جو پس پردۂ بے چاک مری تاک میں ہے
وہ تو یوں ہے کہ بچاتا ہے بچانے والا
ورنہ اک لشکر سفاک مری تاک میں ہے
اک طرف روح وضو میں نہیں ہوتی شامل
اک طرف سجدۂ ناپاک مری تاک میں ہے
آشنا ایک ہے اس شہر میں عاصمؔ میرا
اور وہ دشمن بیباک مری تاک میں ہے
ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی
